امام حسین کی تعلیمات اور ان کی عصری معنویت(دوسری اور آخری قسط)
گزشتہ سے پیوستہ
(4) سخاوت و فیاضی — سرداری کی شرط:
”جو سخاوت کرتا ہے وہ سردار ہوتا ہے اور جو بخل کرتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس شخص پر سخاوت کرے جسے اس کی امید نہ ہو۔“
آج حالات ايسے ہیں کہ کتنے ہی محلے داربھوکے ہوتے ہیں اور ہم فریج بھر کر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ رشتے دار ضرورت میں ہوتے ہیں اور ہم ہزار بہانے تراشتے ہیں۔ ہم بخل کو ”بچت“ کا نام دیتے ہیں۔ بخل ہمارے معاشرے کو ایک بے روح خول بنا دیتا ہے جہاں ہرشخص اپنی ”میں“ میں قید ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قراٰنِ حکیم میں فرمایا:
وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ-
ترجَمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مال نہ خرچ کرنا اپنے لیے ہلاکت ہے اوراللہ کی راہ میں خرچ کرنا جنت کی ضمانت ہےجیساکہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلسَّخِیُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللہ، قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ، قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ یعنی سخی شخص اللہ سے قریب، لوگوں سے قریب اور جنت سے قریب ہے۔([2])
امام حسین رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ کسی چرواہے کے پاس سے گزر ہوا جو بکریاں چَرا رہا تھا۔اُس نے ایک بکری آپ رضی اللہ عنہ کو تحفۃً پیش کی۔آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت فرمایا:تم آزاد ہو کہ غلام؟ اس نے عرض کی:حضو ر!غلام ہوں۔آپ رضی اللہ عنہ نے بکری اسےواپس لوٹادی۔اس نےعرض کی: حضور!یہ میری اپنی بکری ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بکری قبول فرمالی۔اور اس غلام کو بھیڑ بکریوں سمیت خرید کرآزاد کر دیا اور بھیڑ بکریاں اسے تحفے میں دے دیں۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو!امام حسین رضی اللہ عنہ کی میراث سخاوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں خوب خرچ کریں۔
(5) عفو و درگزر — طاقت کے ہوتے ہوئے معاف کرنا:
”زیادہ بہادر وہ شخص ہے جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے۔“
ہم میں سے اکثر لوگ معاف کرنے کو کمزوری سمجھتے ہیں۔ کوئی برا بھلا کہہ دے تو مہینوں، بلکہ سالوں تک دل میں کینہ رکھتے ہیں۔ رشتہ دار کوئی غلطی کر دے تو تا عمر بے تعلقی نبھاتے ہیں۔ پڑوسی سے جھگڑا ہو تو ”جب تک میں جیوں گا بات نہیں کروں گا“ کی قسمیں کھاتے ہیں۔ یہ کینہ نہ صرف رشتوں کو برباد کرتا ہے بلکہ قلب کو بھی زہر آلود کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مَا زَادَ اللہ عَبْداً بِعَفْوٍ اِلَّا عِزّاً یعنی معاف کردینے پر اللہ کریم بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے۔([5])
امام حسین رضی اللہ عنہ کا کردار عفو و درگزر میں بے مثال تھا۔ کربلا کے میدان میں جب آپ کے قافلے کا پانی بند کیا گیا، اصحاب شہید ہوئے، بچے پیا سے تڑپے ، تب بھی آپ نے ابتدا میں ہر ممکن طریقے سے صلح کی کوشش کی اور دشمن کو معافی کا راستہ دکھایا۔ حُر بن یزید الریاحی جو پہلے آپ کو گھیر کر لایا تھا، جب آخری لمحات میں توبہ کرکے آپ کی طرف آیا تو آپ نے اسے فوری طور پر معاف فرما دیا۔
ایک مرتبہ حضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے غلام سے ایسی غلطی سرزد ہوئی جس کے سبب اس کو سزا دینا ضروری تھا، جب امام حسین نے اسے سزا دینے کا حکم فرمایا تو غلام نے (معافی طلب کرتے ہوئے) یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:(وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ) ترجَمۂ کنز الایمان: اور غصہ پینے والے۔امامِ حسین نے فرمایا: اسے چھوڑ دو!(یعنی سزا نہ دو)۔پھر غلام نے آیت کا دوسرا حصہ تلاوت کرتے ہوئے کہا میرے آقا:( وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-) ترجَمۂ کنز الایمان: اور لوگوں سے درگزر کرنے والے،آپ نے فرمایا:میں نے تجھے معاف کیا، پھر اس نے کہا میرے آقا: (وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)) ترجمہ ٔ کنزالایمان :اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ توحضرت امامِ حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جا تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے اورجتنا مال میں تجھے پہلے دیا کرتا تھا اب اس سے دگنا دوں گا۔([6])
یاد رکھیں! معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ جن سے ہمارے دل میں شکوہ ہے ان سے پہل کریں گے،جنہوں نے ہمیں تکلیف دی انہیں معاف کریں گے نہ اس لیے کہ وہ حقدار ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم اللہ سے اپنی مغفرت چاہتے ہیں۔
(6) صلۂ رحمی — ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑنا:
”زیادہ صلۂ رحمی کرنے والا شخص وہ ہے جو قطع تعلق کرنے والے رشتے داروں سے تعلق جوڑے۔“
آج ہمارے گھرانوں میں جھگڑے، وراثت کے تنازعات، ذاتی رنجشیں اور غلط فہمیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ سگے بھائی سالوں تک نہیں ملتے، ماں باپ بیٹے سے بے تعلق ہو جاتے ہیں،چچا بھتیجا عدالتوں میں لڑتے ہیں۔عید کے موقع پر بھی پرانی رنجشیں ملنے نہیں دیتیں۔ یہ ہماری دینی و معاشرتی تباہی کی بڑی علامتوں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قراٰن میں فرمایا:
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-
ترجَمۂ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔([7])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعٌ“ یعنی رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔([8])
امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے نانا جان کے فرمان کی روشنی میں اصل صلہ رحمی وہ ہے جو ٹوٹے رشتے کو جوڑے۔ پس آج ہی فیصلہ کریں کہ کون ایسا قریبی ہے جس سے تعلق ٹوٹا ہوا ہے؟ اسے فون کریں، مل کر آئیں، ہاتھ آگے بڑھائیں، اگر آپ کی غلطی ہے تو معافی مانگیں، اگر اس کی غلطی ہے تو درگزر کریں۔ اللہ کے ہاں یہ عمل جنت تک لے جانے والا ہے۔
(7)مسلمان بھائی کی دنیاوی مصیبت دور کرنا —اخروی نجات کا ذریعہ:
”جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی سے دنیوی مصیبت دور کی اللہ پاک اس سے اخروی مصیبت دور کرتا ہے اور جو کسی پر احسان کرے اللہ کریم اس پر احسان فرماتا ہے اور احسان کرنے والے اللہ کے پیارے ہیں۔“
آج ہمارے معاشرے میں ہر شخص اپنی مصیبتوں میں تنہا کھڑا ہے۔ قرض دار پریشان ہے، بیمار علاج نہیں کروا پا رہا ، بیوہ گھر نہیں چلا پا رہی ، طالبِ علم فیس نہیں دے پا رہا اور ہم دوسروں کی تکلیفوں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی روحانی بیماری ہے۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللہ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ“ یعنی جس نے کسی مومن کی دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کی تکلیفوں میں سے اس کی کوئی تکلیف دور فرمائے گا۔([9])
امام حسین رضی اللہ عنہ نے تو مسلمانوں کو ایک ظالم و جابر اور دین مخالف حکمران ”یزید“ کے شر سے بچانے کے لیے اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور اپنے اصحاب کی قربانی تک دے دی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا احسان ہے جو امام حسین رضی اللہ عنہ نے امتِ محمدیہ پر کیا۔
محترم قارئین! امام حسین رضی اللہ عنہ کے اس مبارک خطبے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق، سخاوت، احسان، عفو، صلہ رحمی اور دوسروں کی تکلیف دور کرنے جیسے اعمالِ حسنہ سے بھی مزین ہونی چاہیے۔
امام حسین رضی اللہ عنہسے محبت کا دعویٰ تب صادق ہے جب ہم ان کی تعلیمات کو اپنائیں۔ ان کاذکر کرنا ثواب ہے، لیکن ان کے کردار کو اپنی زندگی میں ڈھالنا اس سے بھی بڑا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو امام حسینرضی اللہ عنہکی تعلیمات پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہماری دنیا و آخرت سنوارے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments