لیکن وہ تو دوزخی ہے
ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی عطا سے آئندہ کے حالات و واقعات دیکھ لیا کرتے تھے حتی کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لوگوں کے چھپے ہوئے کفر و نفاق کو بھی جان لیا کرتے تھے۔ جیساکہ ایک جنگ کے بعد رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی فوج کا معائنہ فرمایا اور کفار نے اپنے لشکر کا۔ اسلامی لشکرمیں ایک شخص ایسا بھی تھا جو الگ تھلگ اور بھاگتے ہوئے مشرکوں کو زندہ نہ چھوڑتا تھا بلکہ ان کا پیچھا کرکے انہیں مار دیتا تھا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بولے کہ آج ہم میں سے کسی نے بھی اس شخص جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : لیکن وہ تو دوزخی ہے۔ ایک مسلمان نے کہا: میں اس کے ساتھ رہوں گا (یعنی اس کی کھوج لگاؤں گا)اس شخص کا بیان ہے کہ میں اس کا تعاقب کرتا رہا، وہ جہاں ٹھہرتا میں بھی ٹھہر جاتا اور وہ تیز چلتا تو میں بھی تیز چلتا ، اس نے بتایا کہ اس شخص کو گہرا زخم لگا تو اس نے فوری موت حاصل کرنے کے لئے تلوار کا قبضہ زمین پر اور اس کی نوک اپنے سینے پر رکھ کر اپنا سارا بوجھ تلوار پر ڈال کے خود کشی کرلی۔ (یہ سارا معاملہ دیکھنے والا ) وہ آدمی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ واقعی آپ اللہ پاک کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ وہ عرض گزار ہوا کہ آپ نے ابھی جس شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے تو لوگوں کو یہ بات بہت نامانوس لگی تھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت کے بارے میں بتاؤں گا تو میں اس کی کھوج میں نکلا تو دیکھا کہ وہ شدید زخمی ہوگیا، پھر اس نے مرنے میں جلدی کی یعنی اپنی تلوار کا قبضہ زمین پر رکھا اور نوک اپنے سینے پر لگا کر اس پر اپنا بوجھ ڈال کے خودکشی کرلی۔(دیکھئے: بخاری، 2 / 281، حدیث: 2898)
اس شخص کا نام قُزمان تھا اور یہ منافق تھا ، یہ واقعہ جنگِ خیبر یا اُحد کا ہے جس میں پہلے پہل تو یہ شخص شریک نہ ہوا لیکن جب عورتوں نے اسے بزدلی پر ذلیل کرتے ہوئے کہا کہ تم تو مرد ہوکر بھی عورت ہوتو یہ دین کی بلندی کی خاطر نہیں بلکہ صرف اپنی عزت بچانے کے لیے جنگ میں شریک ہوا جیساکہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کے سامنے خود اس نے اپنی زبان سے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ میں نے دین کے لیے نہیں بلکہ اپنی عزت بچانے کے لیے جہاد کیا ہے۔
(دیکھیے: عمدۃ القاری، 10 / 218، تحت الحدیث: 2898)
ذرا سوچئے! کہ جس شخص کی کوششوں کو صحابۂ کرام عظیم دینی کارنامہ سمجھ رہے تھے حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اس کی منافقت پر باخبر ہوجانا یقیناً ایک عظیم معجزہ ہے۔اس معجزہ سے چند باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
*کسی کے قابلِ قدر کارنامے کو سراہنا اور حوصلہ افزائی کرنا اچھی بات ہے بلکہ سنّتِ صحابہ ہے۔
*کسی شخص کے بارے میں یا کسی معاملے میں اگر لوگ غلط فہمی کا شکار ہوں تو ان کی غلط فہمی دور کردینی چاہیے مگر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے۔
*دوسروں کو دھوکا دینا اور دھوکے میں رکھنا منافقوں کی خصلت ہے۔
*بزرگوں کی باتوں کی تصدیق و تائید تلاش کرنے میں حرج نہیں۔
*زندگی کی تکلیفوں اور آزمائشوں سے نجات کے لیے خود کشی کرنا بزدلی ہے اور آخرت کی مصیبت و عذاب کا باعث بھی۔
*ہمیں اللہ کے خُفیہ فیصلے سے ڈرنا اور دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرنا چاہیے۔
*بعض اوقات اللہ پاک دین کا کام فاسق و فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے۔
نوٹ: یاد رہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دینا یا جان سے مار دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments