کسی بھی کام میں ناکامی سے بچنے کے لئے

کسی بھی کام میں ناکامی سے بچنے کے لیے

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ

111 بار (اوّل آخر ایک بار دُرُود شریف) پڑھ کر دُعا مانگے۔ اِن شآءَ اللہُ الْکَرِیْمُ کامیابی ملے گی۔

(جائز امتحان، انٹرویو، نیا کاروبار شروع کرنے کے لیے اور دیگر جائز مرادوں کے لیے یہ عمل فائدہ مند ہے۔ اِن شآءَ اللہُ الْکَرِیْمُ)

امیر ِاہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری

29 رمضان کریم 1446ھ 25-3-30

آفتوں سے گھر محفوظ رہے گا

یَا وَالِیْ (اے مددگار)

جو کوئی کورے پیالے پر لکھ کر اس میں پانی بھر کر گھر کی دیوار پر چھڑکاؤ کردے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الْکَرِیْمُ وہ گھر آفتوں سے محفوظ رہے ۔ (مدنی پنج سورہ، ص 294)

BP ہو یا شوگر

سورۂ قدر و سورۂ کوثر تین تین بار پڑھ (یا پڑھوا) کر پانی پر دم کر کے پیئں۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الْکَرِیْمُ B.P ہو یا شوگر آپ نارمل ہوجائیں گے۔ (مدّت علاج: شفا ملنے تک روزانہ ایک بار)

امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری

21 رمضان کریم 1446ھ 25-3-22

مقدّس اوراق دفن کرنے کا طریقہ

صدر الشریعہ بدر الطریقہ  حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: قرآن مجید بوسیدہ ہوگیا، اس قابل نہ رہا کہ اس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اوراق مُنتشر ہوکر ضائع ہوں گے تو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لیے لَحَد بنائی جائے (یعنی گڑھا کھود کر جانب قبلہ کی دیوار کو اتنا کھودیں کہ سارے مقدّس اوراق سما جائیں) تا کہ اس پر مٹی نہ پڑے یا (گڑھے میں رکھ کر) اس پر تختہ لگا کر چھت بنا کر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے، مُصحَف شریف بوسیدہ ہوجائے تو اُس کو جلایا نہ جائے۔(بہارِ شریعت، 3/495)

اوراقِ مقدسہ کے تحفظ اور ان کو بے ادبی سے بچانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے تحت”تحفظِ اوراقِ مقدسہ “ کے نام سے ایک شعبہ قائم ہے۔اس شعبے کے تحت مختلف مقامات پر بکس لگائے جاتے ہیں تاکہ ان میں مقدس تحریرات،پرانی اور بوسیدہ کتب ڈالی جائیں۔جب یہ بکس بھرجاتے ہیں تو یہ شعبہ شرعی و تنظیمی اصولوں کے مطابق اوراقِ مقدسہ کو دفن ،ٹھنڈا یا محفوظ کرنے کا انتظام کرتا ہے۔


Share