صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے


صَفَرُالْمُظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابَۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے105کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ صَفَرُ الْمُظفر 1439ھ تا1447ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے مزید 12 کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان:

(1)حضرت ابوشیخ ابی بن ثابت بن منذر انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، یہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے، آپ کی شہادت واقعۂ بئرِمعونہ صفر المظفر4ھ میں ہوئی۔انہوں نے اولاد نہ چھوڑی۔([1])

(2)حضرت منذر بن محمد بن عقبہ بن اُحَیْحہ بن جُلاح اوسی انصاری رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے اور واقعۂ بئرِمعونہ صفر4ھ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ ان کے جدِ اعلیٰ اُحَیْحہ بن جُلاح رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دادا جان حضرت عبدالمطلب کے ماں شریک بھائی تھے۔([2])

علمائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام:

(3)امام ابو زکریا یحییٰ بن عبد اللہ بن بُکَیر قُرَشی مخزومی رحمۃُ اللہ علیہ 154یا 155ھ میں پیدا ہوئے اور وصال 15صفرُ المظفر 231ھ میں فرمایا۔آپ نے امام مالک رحمۃُ اللہ علیہ سے17بار موطا کی احادیث سُنیں۔ آپ محدث کبیر اور امام العصر تھے۔([3])

(4)عمدۃ المحققین حضرت مولانا قاضی عبدالنبی کوکب رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1355ھ میں گجرات میں ہوئی اور ایک حادثے میں 19صفر1398ھ کو لاہور میں وصال فرمایا۔ آپ تلمیذ مفتی احمد یار خان نعیمی، فارغ التحصیل عالم دین، ایم اے عربی پنجاب یونیورسٹی، استاذ جامعہ نعیمیہ، صدرمدرس جامعہ گنج بخش لاہور، خطیب جامع مسجد تاجے شاہ، ریسرچ اسکالر مخطوطات و لیکچرار پنجاب یونیورسٹی، سیاسی راہنما، بانی یوم رضا لاہور اور مصنف کتب ہیں۔19کتب و رسائل میں مخطوطات کا مجموعہ الخزائن (2جلدیں) اور مقالات یومِ رضا (3جلدیں) شامل ہیں۔([4])

(5)استاذالعلماء حضرت مفتی محمد حسین شوق رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1912ء کو قصبہ وانڈہ محمد خان، پپلاں ضلع میانوالی کے علمی گھرانے میں ہوئی اور 2صفر1406ھ کو وصال فرمایا۔ آپ جامع معقول و منقول، بہترین مدرس، تلمیذ قبلہ پیر مہر علی شاہ، مدرس مدرسہ زینت الاسلام ترگ شریف اور مہتمم و مدرس دارُالعلوم محمودیہ رضویہ پپلاں تھے۔ شیخ الحدیث محمد شریف رضوی مرحوم آپ کے ہی شاگرد ہیں۔([5])

(6)شیربہار مفتی محمداسلم رضوی نوری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1353ھ کو موضع مہوارہ ضلع  مظفرپور،بہار، ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ دین، فاضل دارُالعلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف، مرید و خلیفہ مفتیِ اعظم ہند، بہترین مدرس و خطیب، مناظرِ اہلِ سنّت، مفتی دارُالعلوم چھپرہ، صاحبِ تصنیف اور بانی و مہتمم جامعہ قادریہ مقصودپور، مظفرپور تھے، آپ نے مادرِ علمی سمیت چھ اداروں میں58سال پڑھایا۔آپ کا وصال 11صفر1433ھ کو ہوا، تدفین اپنے قائم کردہ جامعہ قادریہ مقصودپور میں کی گئی۔([6])

اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام:

(7)حضرت سیّد ابوعمر موسیٰ ثانی حسنی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش محرم221ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہیں ماہِ صفر 288ھ کو وفات پائی،ایک قول کے مطابق عباسی خلیفہ مہتدی باللہ کے دورِ حکومت میں کوفہ یا سویق (نزدمدینہ شریف) کے قریب 256ھ میں شہید ہوئے، 238ھ کو اپنے والد حضرت شیخ صالح عبداللہ رحمۃُ اللہ علیہ سے خلافت حاصل کی۔ آپ راویِ حدیث اور زہد و تقویٰ کے پیکر تھے۔ ([7])

(8)دانا سورتی حضرت خواجہ سید جمال الدین سورتی   رحمۃُ اللہ علیہ خوارزمی خاندان امام علی نقی عسکری سے ہیں، پیدائش 898ھ میں خسبوق، خوارزم میں ہوئی، روحانی طور پر خواجہ عبیداللہ احرار نقشبندی سے فیض پایا، شہزادہ دانیال بن بادشاہ اکبر ان کا مرید تھا۔ جائے پیدائش سے ہجرت کرکے سورت، ہند میں آئے اور یہیں 5صفر 1015ھ وصال فرمایا، مزار مرجع خلائق ہے۔([8])

(9)شیخ شمس الدین محمد بن شیخ محمد سعدالدین جباوی قبیباتی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ زاویہ سعدالدین، دمشق کے سجادہ نشین، مقبول خاص و عام اور نہایت جواد وسخی تھے۔ آپ لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہوتے، دسترخوان میں بہت وسعت رکھتے، محافل کی صدارت کرتے تھے، خانقاہ کو وسعت دے کر از سر نو تعمیر کیا، وصال23صفر1020ھ کو فرمایا، خانقاہ سعد الدین میں تدفین کی گئی۔([9])

(10)مشہور صوفی شاعر مرزا ابوالمعانی عبدالقادر بیدل دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1054ھ میں راج محل، صوبہ بنگال، ہند میں ہوئی اور 2یا4صفر1133ھ کو وفات پائی، مزار دہلی میں ہے۔ آپ ابتدائی اسلامی علوم سے آگاہ، کثیر المطالعہ، صوفیائے عصر کے صحبت یافتہ، صاحبِ کشف و کرامت، قناعت، ہمدردی، خودداری، خدا ترسی جیسی صفات سے متصف تھے۔ شعری مجموعہ کلیات بیدل دہلوی یادگار ہے۔([10])

(11)پیرطریقت حافظ سید حیدر علی شاہ گیلانی سلیمانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1276ھ کو خاندان غوث الاعظم میں ہوئی اور 20صفر1356ھ کو وصال فرمایا، مزار دامن کوہ، جبی شریف نزد جوہر آباد ضلع خوشاب میں ہے۔ آپ حافظ قرآن، فاضل مدرسہ سلیمانیہ تونسہ شریف،مرید و خلیفہ خواجہ اللہ بخش تونسوی، صاحب مجاہدہ و کرامات تھے۔([11])

(12)صاحب علم لدُنی حضرت میاں محمد حیات نقشبندی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1341ھ اور وفات 5صفر1407ھ کو ہوئی، مزار مبارک شاد باغ کالونی، ریلوے اسٹیشن ننکانہ، پنجاب میں ہے۔ آپ عارف باللہ، مرید و خلیفہ فضلاں والی سرکار میاں فضل دین، کثیرالمریدین اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔([12])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی



([1])اسدالغابہ، 1/75-طبقات ابن سعد، 3/382

([2])اسدالغابہ، 5/286-الاصابہ،1/188، 189

([3])سیر اعلام النبلاء،9/260، 261

([5])تذکرہ علمائے اہل سنت میانوالی،ص 83تا86

([6])شیربہار،ص 28، 50، 62، 235

([7])اتحاف الاکابر، ص158-تذکرہ مشائخ قادریہ،ص56

([8])تذکرۃ الانساب، ص238، 239

([9])لطف السمر، ص56 تا 61-خلاصۃ الاثر، 4/160، 161

([10])حیرت زار،ص10تا17

([11])خوشاب سرزمین اولیاء،ص 178تا185

([12])حیات صادق،ص46تا49


Share