فساد فی الارض کی قرآنی مذمت

فساد فی الارض کی قرآنی مذمت


انبیائے کرام علیہمُ السّلام وہ روشن ستارے ہیں جن کی تعلیمات کا مَحور زمین پر امن و سلامتی کا قیام رہا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو زمین میں فساد پھیلانے سے بچنے اور عدل و انصاف کے قیام کا حکم دیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے وحیِ الٰہی سے رُوگردانی کی، تو زمین ظلم، ناانصافی اور فساد کی آماجگاہ بن گئی۔ قرآنِ حکیم نے جَابجا فَساد فِی الارض کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اسے انسانیت کے لیے تباہ کُن قرار دے کر اس سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔

آئیے! اپنے دلوں کو وحیِ الٰہی کے اس پیغام سے منور کریں جو ہمیں توڑنے کے بجائے جوڑنے اور بگاڑ کے بجائے اصلاح کی دعوت دیتا ہے:

(1)قتلِ انسانیت کی ہولناکی:

معاشرے میں بدامنی اور فساد کی سب سے بڑی صورت کسی کا ناحق خون بہانا ہے۔ اللہ پاک کے نزدیک ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمۂ کنز الایمان: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئےتو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا۔ (پ6،المآئدہ:32)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(2)جھوٹی اصلاح کا دعویٰ:

 کچھ لوگ زمین پر بگاڑ پیدا کرتے ہیں لیکن اسے ”ترقی“ یا ”بھلائی“ کا نام دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے ایسے لوگوں کے مکر کو صاف ظاہر کر دیا ہے کہ درحقیقت وہ مصلح نہیں بلکہ فسادی ہیں:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(پ1،البقرۃ:12،11)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کی تفسیر میں ہے: منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہا سب فساد کی صورتیں ہیں۔(صراط الجنان،1/77)

(3)اللہ کی ناپسندیدگی کا اظہار:

فساد پھیلانے والے خدا کی خوشنودی سے محروم رہتے ہیں:

وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔(پ6، المآئدۃ: 64)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

پیارے اسلامی بھائیو! فساد صرف قتل و غارت کا نام نہیں، بلکہ جھوٹ، ناانصافی، رشوت، اخلاقی پستی اور حقوق العباد کی پامالی کی ہر صورت ”فساد فی الارض“ ہے۔ جب ایک معاشرہ اِن برائیوں کو خاموشی سے قبول کر لیتا ہے، تو اللہ پاک کی رحمت رخصت ہو جاتی ہے۔

اصلاحِ معاشرہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے دائرہ کار میں مصلح (اصلاح کرنے والا)بن جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پرامن دنیا میں سانس لیں، تو ہمیں اپنی زبان، قلم اور عمل سے ہر قسم کے فتنہ و فساد کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

اللہ پاک ہمیں فساد فی الارض سے محفوظ فرمائے اور ہمیں حقیقی سچا مصلح امت بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share