حضرت یونس علیہ السلام اور قرآن


حضرت یونس علیہ السّلام اور قرآن


قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جس میں انبیائے کرام علیہمُ السّلامکے واقعات کو ہدایت اور نصیحت کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السّلام کا ذکر بھی بڑی اہمیت کے ساتھ آیا ہے۔ آپ علیہ السّلام کو ‏‏”ذوالنون“ اور ”صاحب الحوت“ کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السّلام کا واقعہ صبر، توبہ، دعا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم سبق دیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے مختلف سورتوں میں آپ علیہ السّلام کا تذکرہ فرمایا تاکہ امتِ مسلمہ آزمائش میں گھبراہٹ کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔

حضرت یونس علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے شہر نینویٰ کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السّلام نے اپنی قوم کے ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد کو توحید کی دعوت دی۔ جب قوم نے انکار کیا تو آپ علیہ السّلام ناراض ہو کر بستی سے نکل گئے۔ قرآنِ مجید میں ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ ‏‏(پ 17، الانبیآء: 87)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

آپ علیہ السّلام کشتی میں سوار ہوئے۔ قرعہ میں آپ علیہ السّلام کا نام نکلا تو آپ کو دریا میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السّلام کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، سمندر کی تاریکی اور رات کی تاریکی میں آپ علیہ السّلام نے اپنے رب کو پکارا۔ یہ دعا قرآنِ مجید میں بیان ہوئی:

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ‏‏(پ 17، الانبیآء: 87)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بےشک مجھ سے بے جا ہوا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ دعا ”آیتِ کریمہ“ کہلاتی ہے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ‏‏دَعْوَةُ ذِي النُّونِ اِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، فَاِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي ‏شَيْءٍ قَطُّ اِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ ترجمہ: ذو النون کی دعا جب انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی، جو مسلمان کسی چیز کے لیے یہ دعا کرے اللہ ضرور قبول فرماتا ہے۔

(ترمذی، 5 / 302، حدیث: 3516)

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السّلام کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں ساحل پر اگل دے۔ قرآن فرماتا ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) (پ 17، الانبیآء: 88)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سُن لی اور اُسے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو ۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت یونس علیہ السّلام کی قوم کا انجام دوسری قوموں سے مختلف ہوا۔ جب انہوں نے عذاب کے آثار دیکھے تو سچے دل سے توبہ کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ ارشاد ہوتا ہے: ‏‏

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ‏‏(پ 11،  یونس: 98)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ الصافات میں بھی تفصیل سے آپ علیہ السّلام کا واقعہ بیان ہوا۔ آپ علیہ السّلام کو کدو کی بیل کے سائے میں شفا دی گئی اور آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے۔ ‏‏(دیکھئے: سورۃ الصفت: 139-148)

حضرت یونس علیہ السّلام کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی ) لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ( کا ورد نجات کا ذریعہ ہے۔ دعوتِ دین میں جلد بازی کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ اور یہ کہ سچی توبہ قوموں پر سے عذاب کو بھی ٹال دیتی ہے۔ یہی قرآن کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔


Share