میلاد النبی ﷺ کی خوشیاں منانا


میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خوشیاں منانا



الحمدُ للہ! دینِ اسلام کی تعلیمات کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ اس کے ہر شعبے میں ہمیں قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ سلف صالحین، اولیائے کاملین اور اکابرینِ امت کی عملی و علمی رہنمائی بھی میسر ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ اپنے علم، عمل، تقویٰ اور اخلاص کے سبب امت کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ارشادات و ملفوظات اور علمی تجربات نہ صرف دینی مسائل و احکام کی تفہیم میں مددگار ہیں بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی ، روحانی  اور عملی تربیت کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے اس سلسلے میں مختلف دینی، اخلاقی اور معاشرتی موضوعات کو اکابرینِ امت کے تناظر میں پیش کیا جائے گا تاکہ قارئین ان مبارک ہستیوں کے افکار و تعلیمات سے علم و عمل کو مزید نکھار سکیں۔ میلاد شریف کے موقع پر خوشی منانا اگرچہ احادیث و تفاسیر میں بھی بیان ہوا ہے البتہ آئیے! آج جانتے ہیں کہ بزرگوں کی نظر میں میلادِ مصطفےٰ منانے کی کیا برکات ہیں!

ذکرِ ولادتِ مصطفے کے وقت قیام تعظیمِ مصطفےٰ ہے:

شیخ الاسلام علّامہ سید احمد بن زین بن دحلان مکی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:  حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شبِ ولادت میں خوشی منانا، مَولِد شریف پڑھنا، ذکرِ ولادت کے وقت قیام کرنا، کھانا کھلانا اور وہ تمام اچھے کام جو اس رات لوگوں میں رائج ہیں، یہ سب کام حضورِ اکرم کی تعظیم میں شامل ہیں۔ ([1])

ذکرِ ولادت کے وقت قیام مستحسن ہے:

عالم کامل عارف باللہ مولانا سیدجعفربرزنجی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بے شک نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ذکرِولادت کے وقت قیام کرنا ان اماموں نے مستحسن  (اچھا،  کارِ ثواب)سمجھا ہے جو صاحب روایۃ ودرایۃ تھے توشادمانی  ہے اس خوش نصیب کے لیے جس کا مقصود و مدعا نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی تعظیم ہے۔([2])

ذکرِ ولادت شریف موجبِ خیرات ہے:

حضرت شیخ امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ اس  میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ نفسِ ذکرِ ولادتِ شریف، حضرت فخرِ آدم، سرورِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم موجبِ خیرات و برکاتِ دُنیوی و اُخروی ہے اور مَشْرَب فقیر کا یہ ہے کہ محفلِ مولِد میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ ذریعۂ برکات سمجھ کر ہر سال منعقدکرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں۔([3])

رب کی خوشنودی کی طرف سبقت :

فقیہ محدث مولانا  عثمان بن حسن دمیاطی رحمۃُ اللہ علیہ اپنے رسالہ اثباتِ قیام میں فرماتے ہیں: مولِد شریف پڑھنے کے دوران حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ولادت شریف کے ذکر کے وقت تعظیماً کھڑا ہونا بے شک مستحب ومستحسن ہے جس کے فاعل کوثوابِ کثیروفضلِ کبیر حاصل ہوگاکہ وہ تعظیم ہے اور کیسی ہے تعظیم ان نبیِ کریم صاحب خُلقِ عظیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی جن کی برکت سے اﷲ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ظلماتِ کفرسے نورِایمان کی طرف لایا اوران کے سبب ہمیں دوزخ جہل سے بچاکر بہشت معرفت ویقین میں داخل فرمایا تو حضورِاقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم میں خوشنودیِ ربُّ العالمین کی طرف دوڑنا ہے۔([4])

امام ابن الجزری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ابولہب جیسے بدتر کافر کی قرآن میں مذمت آئی ہے مگر اس کے باوجود حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ولادت کی رات خوشی منانے کی وجہ سے جب اسے جہنم میں کسی قدر تخفیفِ عذاب نصیب ہوئی تو پھر اس مسلمان  کے کیا کہنے جو آپ کی ولادت پر خوش ہوتا ہے، اور اپنی استطاعت کے مطابق آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت میں خرچ کرتا ہے۔میری زندگانی کی قسم! اللہ کریم کی طرف سے اس کا بدلہ یہی ہوگا کہ وہ اپنے وسیع فضل سے اسے جنتِ نعیم میں داخل فرمائے گا۔ اہلِ اسلام زمانے سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ماہِ ولادت میں خوشی مناتے رہے ہیں، دعوتیں اور ضیافتیں کرتے ہیں، اس کی راتوں میں صدقات  و خیرات کرتے ہیں، خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں، نیکیوں اور بھلائیوں کی کثرت کرتے ہیں اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا میلادِ مبارک پڑھتے اور ولادت کا تذکرہ  کرتے ہیں ۔ چنانچہ ان پر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی برکات کے باعث فضل و عنایات کا اظہار ہوتا ہے۔([5])

امت گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتی:

خليلِ ملت مفتیِ اعظم  پاکستان مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:  قیام وقتِ ذکرِ ولادتِ حضور خیر الانام علیہ و علی آلہٖ افضل الصلوۃ و السلام، صدہا سال سے ممالکِ اسلامیہ میں رائج و معمول اور اکابر ائمہ و علماء میں مقرر و مقبول ہے اور شرع میں خاص اس فعل سے ممانعت مفقود۔ اور جب تک شرع ممانعت  نہ فرمائے کسی اور کا اس سے منع کرنا مردود ہے خصوصاً  جبکہ حرمین طیبین، مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کہ مبدأ و مرجعِ دین و ایمان ہیں، وہاں کے اکابر علماء کرام اور چاروں مذاہب کے مفتیانِ ذوی الاحترام، مدّتہا مدّت سے اس فعل کے فاعل و عامل اور قائل و قابل رہے ہیں اور ائمہ معتمدین نے اسے بلاشبہ مستحب و مستحسن ٹھہرایا (تو بھلا)حرام و ناجائز و بدعتِ قبیحہ کیسا؟  اور جب اس مجلس و قیام کو عرب و عجم، مصر و شام، روم و اندلس اور دوسرے دیار و ممالکِ اسلام کے علماء معتمدین نے سلف سے آج تک مستحسن جانا تو اس کے جواز و استحباب پر اجماع ہوگیا اور جو امر اجماعِ امت سے ثابت ہو وہ حق ہے۔ گمراہی نہیں۔رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ میری امت گمراہی پر اتفاق نہیں کرتی۔([6])

علامہ ابنِ جوزی کا حسنِ اعتقاد:

علامہ ابنِ جوزی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پاک ہے وہ ذات جس نے سردارِ انبیا ، حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو پیدا فرمایا، اور عالمِ بالا میں ان کے مرتبے اور ذکر کو بلند فرمایا اور جس شخص نے آپ کی ولادتِ مبارکہ پر خوشی کا اظہار کیا، اس کے لیے جہنم سے بچاؤ اور پردہ بنا دیا اور جس نے آپ کی ولادت کے موقع پر ایک درہم خرچ کیا، تو حضور نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اس کے لیے ایسی سفارش کریں گے جو مقبولِ بارگاہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہر درہم کے بدلے دس درہم عطا فرمائے گا۔ پس اے امتِ محمد! تمہیں مبارک ہو کہ تم نے دنیا اور آخرت میں بہت بڑی بھلائی حاصل کر لی۔([7])

اللہ پاک ہمیں  اکابرین کی تعلیمات اور ان کے قدموں کے نشانات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])الدرر السنیۃ فی الرد علی الوھابیۃ، ص 50

([2])عقدالجوہر فی مولدالنبی الازھر، ص 11

([3])فیصلہ ہفت مسئلہ، ص 50، 111 

([4])فتاوی رضویہ،26/ 507 بحوالہ اثبات القیام

([5])مواہب لدنیہ، 1 / 78

([6])فیصلہ ہفت مسئلہ توضیحات و تشریحات، ص 55

([7])مولد العروس ، ص 66


Share