عورتوں کا اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بال کاٹنا کیسا؟


(1)عورتوں کا اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بال  کاٹنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورتوں کے لیے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بالوں کوکاٹنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عورت اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بال کاٹ سکتی ہے، شریعت میں اس کی ممانعت نہیں۔البتہ اگر یہ کام کسی دوسری عورت سے کروایا جائے تو پردے کا خیال رکھنا ضروری ہےیعنی ہاتھ اور گھٹنوں سے نیچے کےبال تو صاف کروانا درست ہے لیکن ٹانگوں کے بالوں میں گھٹنوں سے اوپر کے بال کاٹنے کے لیے اس حصے کو دوسری عورت کے سامنے کھولنا جائز نہیں،کیونکہ ایک عورت کا دوسری عورت کے سامنے بھی بغیر شرعی ضرورت کے اپنےناف سے گھٹنے تک کا حصہ کھولنا جائز نہیں۔اسی طرح اس کام کے لیے کسی غیر مسلم عورت کے سامنےاعضائے ستر جیسے کلائیاں،بازو،پنڈلیاں کھولنا بھی جائز نہیں ہوگا، کیونکہ مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے بھی وہی پردہ ہوتاہے جو عورت کا ایک اجنبی مَرد سے ہوتا ہے یعنی جن اعضاء کو اجنبی مرد کے سامنے کھولنا جائز نہیں، اُنہی اعضاء کوغیر مسلم عورت کے سامنے بھی کھولنا جائز نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)مخصوص ایام میں استعمال کی گئی چیزیں دھونا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورتیں مخصوص ایام میں جو چیزیں استعمال کرتی ہیں،مخصوص ایام گزر جانے کے بعد کیا وہ چیزیں بھی دھو کر استعمال کرنی ضروری ہوں گی مثلاً بال باندھنے والی پونی، کیچر وغیرہ۔اگر کوئی اُنہیں بغیر دھوئے استعمال کرے اور نماز پڑھے تو کیا نماز ہو جائے گی؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حیض و نفاس کی حالت میں عورت حکمی طور پر ناپاک ہوتی ہے لیکن اس کا ظاہری جسم بدستور پاک ہوتا ہے، سوائے اُس مخصوص مقام کے جہاں خون لگا ہو کہ وہ حصہ ظاہری طور پر بھی ناپاک ہوگا۔جب عورت کا اصل ظاہر بدن پاک ہے تو اس حالت میں وہ جو کپڑے، برتن، بستر یا دیگر اشیاء استعمال کرے، وہ محض اس کے استعمال سے ناپاک نہیں ہوں گی، بلکہ پاک ہی رہیں گی، لہٰذا بغیر ناپاکی کے اُنہیں دھونے کی کوئی ضرورت نہیں اور اُن کے ساتھ نماز درست ہوگی۔البتہ اگر بدن، کپڑوں یا کسی اور چیز پر حیض یا نفاس کا خون لگ جائے تو وہ جگہ ناپاک ہوجائے گی اور جس قدر حصہ نجاست سے آلودہ ہوا ہو، اُسے پاک کرنا ضروری ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)نفل روزے میں قضا روزے کی نیت کرنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نفل روزے میں قضا شدہ فرض کی نیت کی جا سکتی ہے؟ مثلاً شعبان کے روزے میں کوئی عورت جس کے فرض روزے باقی ہیں وہ نفل اور قضا دونوں کی نیت کرلے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ایک ہی روزے میں نفل اور قضا دونوں کی اکٹھی نیت کرنا درست نہیں، اگر ایسا کیا جائے تو بھی وہ روزہ قضا ہی کی ادائیگی کا شمار ہوگا؛ کیونکہ نیت میں قضا کو نفل پر فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ فرض ہونے کی حیثیت سے وہ اہم و مؤکد ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں ایسی عورت صرف اپنے قضا روزے کی نیت کرے اور کوشش کر کے جلد اپنے ان روزوں کو پورا کرے ورنہ اندیشہ ہے کہ اس کے نفل بھی قبول نہیں ہوں گے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(4)ناپاکی کے ایام میں آیات کو بطورِ دعا پڑھنا کیسا؟

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون کی دعا مانگنے کی یوں عادت ہے کہ وہ اپنی دعا میں عموماً آیتِ کریمہ (لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷))، اسی طرح(حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ(۱۷۳))اور آخر میں سورۃ الصافات کی آخری تین آیات (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲))پڑھتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ خواتین کے جب ناپاکی کے دن ہوں، تو ان مذکورہ آیات کو دعا کے طور پر پڑھ سکتی ہیں یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

آیتِ کریمہ اور سوال میں بیان کردہ دیگر آیات دعا کے دوران خواتین اپنے مخصوص دنوں میں پڑھ سکتی ہیں یا نہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ حالتِ جنابت، اسی طرح خواتین کو ناپاکی کے مخصوص دنوں میں قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا ناجائز و حرام ہے، لیکن جو قرآنی آیات ذکر و ثنا یا دعا و مُناجات کے معانی پر مشتمل ہوں، ان کو ذکر و ثنا اور دعا و مناجات کی نیت سے پڑھنا جائز ہے، کیونکہ ان میں نیت کی تبدیلی کی وجہ سے حکم تبدیل ہوجاتا ہے اور دعا مانگتے ہوئے عموماً ذکر و ثنا اور دعا و مناجات کے طور پر ہی یہ آیات پڑھی جاتی ہیں، لہٰذا خواتین اپنے مخصوص دنوں میں دعا مانگتے ہوئے آیتِ کریمہ (لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷))، (حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ(۱۷۳)) اور سورۃ الصافات کی آخری تین آیات (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲)) دعا و ثنا کی نیت سے پڑھ سکتی ہیں اور اگر آیات کی تلاوت کی نیت ہوئی تو حرام ہے۔

نوٹ:وہ آیات کہ جن میں ذکر و ثنا کا معنیٰ نہیں پایا جاتا، ان میں نیت کی تبدیلی فائدہ نہیں دے گی، اس لیے ایسی آیات مخصوص دنوں میں ذکر و ثنا کی نیت سے بھی پڑھنے کی اجازت نہیں ہے؛ اسی طرح ذکر و ثنا اور دعا و مناجات کے معانی پر مشتمل آیات کسی مقصد کے حصول، یا کسی عمل کے لیے بطورِ وظیفہ پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، جیسا کہ کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے آیتِ کریمہ یا (حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ(۱۷۳)) کا مخصوص تعداد میں وظیفہ کیا جاتا ہے، تو اس نیت سے ذکر و ثنا والی آیات بھی نہیں پڑھی جاسکتیں۔ نیز جن لوگوں کو عورت کا مخصوص حالت میں ہونا معلوم ہو، تو بہتر ہے کہ ا ن کے سامنے ذکر و ثنا والی آیات بطورِ ذکر و ثنا پڑھنے سے بچا جائے، کیونکہ ایسی صورت میں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ لوگ بحالتِ حیض و نفاس تلاوتِ قرآن کو جائز نہ سمجھ لیں، یا اِس پڑھنے والی عورت پر گناہ کی تہمت نہ لگادیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران مجلس تحقیقات شرعیہ، دارالافتاء اہل سنت، فیضان مدینہ کراچی


Share