شان و اوصافِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا قرآنی تذکرہ(قسط:01)
کائنات کی تمام مخلوقات میں سب سے اشرف، سب سے افضل اور سب سے عظیم ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس ہے۔آپ تمام انبیاء کے سردار، ساری کائنات کے لیے رحمت اور اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں۔
قرآنِ کریم، جو اللہ کا کلام اور ہر دور کے لیے راہنمائی کا سرچشمہ ہے، اس میں بے شمار مقامات پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ اقدس کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا تعارف ان الفاظ میں کرایا کہ آپ رحمۃٌ للعالمین ہیں، خاتم النبیین ہیں، سراجِ منیر ہیں اور انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ کے کامل مرکز ہیں۔
اس مضمون میں قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مختلف صفات اور مقامات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت، عظمت اور ادب مزید راسخ ہو۔
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ساری کائنات کے لیے رہنما ہیں:
حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کے رسول ہیں، اللہ کریم نے آپ کو تمام انسانیت کے لیے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کے آخری اور سب سے محبوب پیغمبر ہیں جن کی رسالت پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا (پ22،سبا:28)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ (پ9، الاعراف:158)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر اللہ درود بھیجتاہے:
اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود بھیجتا ہے اور فرشتے بھی۔ آپ کا ذکر بلند کرنا اللہ کی سنت ہے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ22، الاحزاب:56)
ترجمۂ کنزالایمان: بےشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) (پ30، الم نشرح:4)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت فرض ہے:
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ جو حکم آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دیں اسے قبول کرنا اور جس سے روکیں اس سے رکنا ہر مومن پر واجب ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (پ5، النسآء:59)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ- (پ28، الحشر: 7)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے:
اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی ہی اللہ کی بندگی کا عملی مظہر ہے۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ5، النسآء:80)
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(۷۱) (پ22، الاحزاب:71)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ساری کائنات کے لیے رحمت ہیں:
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رحمت انسانوں، جنّوں، حیوانوں اور کائنات کی ہر مخلوق کے لیے ہے۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پ17، الانبیآء:107)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سب سے آخری نبی و رسول ہیں:
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاتم النبیین ہیں یعنی نبوت کا سلسلہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ختم ہو گیا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ22، الاحزاب:40)
ترجمۂ کنزالایمان: محمّد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم امانتِ الٰہی قرآن کے امین ہیں:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا اور اسے امت تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس امانت کو کماحقہ امت تک پہنچایا :
وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۱۹۲) نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ(۱۹۳) عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ(۱۹۴)
(پ19، الشعراء:192تا194)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بےشک یہ قرآن رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے اُسے روح الا مین لے کر اُترا تمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انسانیت کے لیے عملی نمونۂ کامل ہیں:
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ طیبہ مسلمانوں کے لیے مکمل نمونۂ عمل ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة (پ21،الاحزاب:21)
ترجمۂ کنزالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اخلاق کے سب سے اعلیٰ مرکز ہیں:
اللہ تعالیٰ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اخلاق کو عظیم قرار دیا ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اخلاقِ کریمانہ ہی رہتی دنیا تک کے لیے معیارِ خلق ہیں۔
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ29، القلم:4)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کے خاص بندے ہیں:
معراج کے موقع پر اللہ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ”عبد“ کہہ کر یاد فرمایا جو اللہ کے ہاں آپ کے بلند اور خاص مقام کی طرف اشارہ ہے ۔
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (پ15، بنیٓ اسرآءیل:1)
ترجمۂ کنزالایمان: پاکی ہے اسے جوراتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجدِ حرام(خانہ کعبہ) سے مسجد اقصا(بیت المقدس) تک۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بشیر و نذیر ہیں:
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نیک عمل کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں۔
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۴۵) (پ22، الاحزاب:45)
ترجمۂ کنزالایمان: بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم داعی اِلی اللہ اور سراجِ منیر ہیں
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کی طرف بلانے والے اور روشن چراغ ہیں جو تاریکیوں میں راہ دکھاتے ہیں اور آپ تمام انسانیت کے لیے ہدایت کی روشنی ہیں۔
وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(۴۶) (پ22، الاحزاب:46)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکادینے والا آفتاب۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مومنوں پر مہربان اور ہماری بھلائی کے حریص ہیں:
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مومنوں کے ساتھ نہایت مہربان اور رحیم ہیں۔ آپ کو مومنوں کی تکلیف ناگوار گزرتی ہے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہماری بھلائی کے لیے بےحد حریص ہیں۔
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)
(پ11، التوبۃ:128)
ترجمۂ کنزالایمان: بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تکلیف اللہ کو ناپسند ہے:
جو لوگ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے انہیں دنیا و آخرت میں ملعون قرار دیا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَة (پ22، الاحزاب:57)
ترجمۂ کنزالایمان: بےشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مومنوں کی جانوں سے بھی قریب ہیں:
اللہ تعالیٰ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے زیادہ قریب اور محبوب بنایا ہے۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ (پ21، الاحزاب:6)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت ایمان کا جزو ہے:
اللہ اور رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت سے بڑھ کر کسی بھی چیز کو عزیز رکھنا ایمان کے منافی ہے۔
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ10، التوبۃ:24)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو (انتظار کرو) یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی اللہ کی محبت کا ذریعہ ہے:
جو شخص اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اتباع کرے۔
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3، آل عمرٰن:31)
ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم امتوں پر گواہ:
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی برکت سے آپ کی امت کو بھی خاص مقام ملا کہ قیامت میں دوسری امتوں کی گواہی دیں گے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کے اوپر گواہ و نگہبان ہوں گے۔
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-
(پ2، البقرۃ:143)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ثمرۂ دعائے ابراہیمی ہیں:
حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خانہ کعبہ تعمیر کرتے وقت دعا کی تھی کہ اللہ اس قوم میں ایک نبی مبعوث فرما، اس دعا کی قبولیت حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صورت میں ہوئی۔
رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ (پ1، البقرۃ:129)
ترجمۂ کنزالایمان: اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بشارتِ عیسیٰ ہیں:
حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اپنی قوم کو رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد کی پہلے ہی بشارت دے دی تھی۔
وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ- (پ28، الصف:6)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل اسکالرعلوم اسلامیہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments