سیرت و شمائل مبارکہ اور رسائلِ امیرِ اہلِ سنت
حضور نبیِ رحمت، شفیعِ امّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیبہ، معجزات، دعوت و تبلیغ کی جدوجہد، مصائب و آلام پر صبر و استقامت، اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی بے مثال قربانیوں کا مطالعہ ایمان کی مضبوطی، عشقِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فروغ اور کردار سازی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ سیرتِ نبوی کا ہر پہلو انسانیت کے لیے ہدایت، راہنمائی اور کامیابی کا پیغام رکھتا ہے۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اپنی منفرد دعوتی و اصلاحی طرزِ تحریر کے ذریعے سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مختلف گوشوں کو نہایت آسان، دلنشین اور مؤثر انداز میں عوام الناس تک پہنچایا ہے۔ ان رسائل میں حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت، اعلانِ نبوت، معجزات، دعوتِ دین، کفار کی مخالفت، صبر و استقامت، غزوات، میلادِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی برکات اور دیگر اہم موضوعاتِ سیرت کو قرآن و حدیث، واقعات و حکایات اور اصلاحی نکات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ان رسائل کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف تاریخی معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ قاری کے دل میں محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیدا کرتے، سنتوں پر عمل کا جذبہ بیدار کرتے اور عملی زندگی کی اصلاح کا سامان بھی فراہم کرتے ہیں۔ آئیے! ان رسائل کا موضوعاتی اور شماریاتی جائزہ لیتے ہیں:
بُڈھا پُجاری(صفحات:32):
رحمَتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دنیا میں تشریف لانے اور اعلانِ نبوت فرمانے سے قبل دنیا کے حالات بہت خراب تھے، انسانیت اور اخلاقیات نام کی چیز ہی ناپید تھی۔ اس رسالے میں اسلام کی تشریف آوری سے قبل دنیائے عرب وعجم،اہْلِ ایران وتُرک اور باشندگانِ ہند کی جہالتوں کا بیان ہے۔ پھر حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تشریف آوری،مبارک زندگی کے پہلے 40سال اور غارِحرا کی عبادات، پہلی وحی، اعلانِ نبوت، دعوتِ اسلام کا آغاز، ابتدائی حالات، کفار کی جانب سے سخت مخالفتوں اور رکاوٹوں کے سلسلے اور امامُ الانبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بلندہمتی و عظیم استقامت کی تفصیلات، نیکی کی دعوت کی ترغیب، سنت کی فضیلت اور ناخن کاٹنے کی سنتیں اور آداب ذِکر ہوئے ہیں۔ اس رسالے میں 12آیاتِ مبارکہ، 8احادیْثِ طیبہ، 9شرعی مسائل، 8 اقوال وفرامین اور 6حکایات وواقعات درج ہیں۔
سیاہ فام غلام(صفحات:48):
ربِّ کریم نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شمار معجزات سے نوازا۔اس رسالے میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات جیسے چہرے کو روشن کرنا،دورانِ گفتگو دانتوں کی باریک کھڑکیوں سے نور نکلنا، قوتِ حافظہ عطا فرمانا، غیبی خبردینا،اپنے والدیْنِ کریمین اور دیگر فوت شدہ لوگوں کو زندہ کردینا وغیرہ12 معجزات بیان ہوئے ہیں۔ ضمنی طور پر حضور رحمَتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بے مثال بشریت،نورانیت اور عِلْمِ غیب کا بیان بھی ہے، اللہ پاک کے لیے محبت رکھنے کے 8 فضائل اور آخر میں 14 مدنی پھولوں کی صورت میں ہاتھ ملانے کی سنتیں اور آداب رسالے کا حصہ ہیں۔مجموعی طور پر رسالہ 2 آیاتِ مبارکہ، 17 احادیْثِ طیبہ، 5شرعی و فقہی احکام، 7مدنی پھولوں اور 6 واقعات پر مشتمل ہے۔
بھیانک اونٹ(صفحات:32):
توحیدورسالت کی تبلیغ کرنے اور نیکی کی دعوت دینے والوں کو تکالیف ومصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خود حضور نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی راہِ خدا میں بہت تکالیف برداشت فرمائیں۔اس رسالے میں 2قرآنی آیات، 19احادیْثِ مبارکہ، 14مسائل، 2اقوال اور 12 سیرت کے واقعات ذِکرکیے گئے ہیں۔امام الانبیاء حضرت محمد مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آزمائشوں کا دل سوز تذکرہ، طائف کا لرزہ خیز سفر،شِعْبِ ابی طالب اورسوشل بائیکاٹ کا دردناک واقعہ، نیکی کی دعوت کی فضیلت و عظمت، نیک اعمال کی کچھ تفصیل اور آخر میں بیٹھنے کی سنتیں اور آداب تحریر ہیں۔
نور والا چہرہ(صفحات:32):
رحمَتِ کونین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا بچپن انتہائی حَسین اور باکمال تھا۔اس رسالے میں مسلمان بچوں کے دلوں میں آقائے دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت بٹھانے اور بڑھانے کے لیے آپ کے خوب صورت بچپن کے پیارے پیارے واقعات ہیں بالخصوص آپ کے مبارک ہاتھوں کے 8حیرت انگیز کمالات درج ہیں اور ویڈیو گیمز کے دینی و دنیاوی نقصانات، ان سے ہونے والی بیماریاں، لرزہ خیز تباہ کاریاں اور ان کی نحوست کے 14عبرت ناک واقعات تحریر کیے گئے ہیں۔
صُبْحِ بہاراں(صفحات:36):
عید میلادُ النبی اہل ایمان کی پہچان ہے، عاشقانِ رسول ہرسال 12ربیعُ الاول کو جَشنِ ولادت مناکر اپنا ایمان تازہ کرتے اوررحمتوں اور برکتوں سے اپنا دامن بھرتے ہیں۔یہ رسالہ 3قرآنی آیات،7احادیْثِ طیبہ، 4 معجزاتِ مصطفٰے، 6اقوال و فرامین اور 9حکایات و واقعات پر مشتمل ہے۔جَشنِ ولادت منانے کی شرعی حیثیت، اس کی برکات وثمرات،ولادت کی خوشی میں جھنڈے، جلوسِ میلاد اور دعوتِ اسلامی کا جَشنِ ولادت منانے کا انداز، عید میلاد منانے کے طریقے، شرعی احکام اور احتیاطوں کے 12مدنی پھول درج ہیں۔ آخر میں جَشنِ ولادت کے متعلق امیر اہلِ سنّت مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کا مکتوب اورجَشنِ وِلادت منانے کی نیتیں رسالے کی زینت ہیں۔
ابوجہل کی موت(صفحات:26):
مشرکینِ مکہ کے سرغنہ ابوجہل کو حدیثِ پاک میں اس امت کا فرعون کہا گیا ہے۔اس رسالے میں ابوجہل کی موت اور عبرتناک انجام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔غزوۂ بدر کے حالات، اہلِ حق کی بےسروسامانی اور کفار کا سامانِ عیش و جنگ، فرشتوں اور حضرت جبرائیل علیہمُ السّلام کے ذریعے اہلِ ایمان کی مدد اور حضرات صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبہ جہاد کا تذکرہ ہے۔ 3آیاتِ طیبہ، 6احادیْثِ کریمہ،2اقوال اور10واقعات پر مشتمل رسالے کے آخر میں ”سفر“کے متعلق 32مسائل و احکام اور آداب تحریر ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مجلس اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کراچی
Comments