مسجد کی چھت پر میلاد والا جھنڈا لگانا کیسا؟ مع دیگر سوالات


 (1) مسجد کی چھت پر میلاد والا جھنڈا لگانا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کی چھت پر میلاد والا جھنڈا لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مسجد کی چھت پر میلاد کا جھنڈا لگانا فی نفسہٖ جائز بلکہ بہت مستحسن عمل ہے کہ فی زمانہ یہ دنیا بھر میں اہل سنت کے درمیان رائج ہے، اسے سنیوں کی مسجد ہونے کی علامت سمجھا جاتا اور اچھا گردانا جاتا ہے، اور حدیثِ پاک کے مطابق جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ پاک کے نزدیک بھی اچھا ہوتا ہے۔ نیز شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں جو کہ اس کے جواز کے لیے کافی ہے، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ اہلِ سنت کی شناخت اور محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اظہار کا ایک خوبصورت انداز ہے۔

المستدرک للحاکم، مسند امام احمد، مسند بزار، المعجم الکبیر للطبرانی وغیرہ کی حدیث پاک میں آتا ہے: واللفظ للاول ”ما رأى المسلمون حسنا فهو ‌عند ‌الله ‌حسن“ ترجمہ: جس عمل کو مسلمان اچھا جانتے ہوں، وہ اللہ پاک کے نزدیک بھی اچھا ہے۔(مستدرك للحاکم، 3/84، حدیث:4465)

علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں: ”الاصل في الاشياء الاباحة حتى يدل الدليل على عدم الاباحة“ ترجمہ: تمام چیزوں میں اصل مباح ہونا ہے، یہاں تک کہ (کسی چیز کے متعلق) مباح نہ ہونے کی دلیل قائم ہو جائے۔(الاشباه والنظائر، ص56)

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) سے مسجد کی چھت پر اسلامی جھنڈا لگانے کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے جواباً فرمایا: ”(مسجد پر جھنڈا لگانے میں مزاحمت) کا اندیشہ نہ ہو تو فی نفسہٖ کوئی حرج نہیں۔“(فتاویٰ رضویہ، 8/122)

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2) قرآنی آیات و احادیث پر مشتمل اخبارات بےوضو پڑھنا چھونا اور ان کو ردی میں بیچناکیسا؟

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اخبارات میں قرآنِ کریم کی آیات اور احادیث و دینی باتیں بھی لکھی جاتی ہیں اور لوگ انہیں بے وضو چھوتے پڑھتے ہیں اور پڑھنے کے بعد ادھر ادھر رکھ دیتے ہیں۔ پھر جب کچھ اخباریں جمع ہو جاتی ہیں، تو انہیں ردی میں بیچ دیتے ہیں۔ ان امور کے متعلق ضروری احتیاطوں کے بارے میں رہنمائی فرمادیجیے۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

 اخبار کے صفحات میں جس جگہ قرآنی آیت یا اس کا ترجمہ لکھا ہو، تو صفحے کے اتنے حصے کو آیت و ترجمے والی جگہ سے اور صفحے کی دوسری طرف بالکل پیچھے والی جگہ سے بے وضو نہیں چھو سکتے، لیکن صفحے کے باقی حصے اور باقی اخبار کو بے وضو چھو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار کے آیت والے صفحے پر دوسری تحریریں بھی لکھی ہوتی ہیں، صرف آیت و ترجمۂ قرآن لکھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ صفحے کے بھی تھوڑے سے حصے ہی پر قرآن پاک کی آیت یا ترجمہ لکھا ہوتا ہے، لہٰذا صفحے کے باقی حصے اور اخبار کو بے وضو چھونا، جائز ہے کہ یہ قرآنی آیت و ترجمے کو چھونا نہیں ہے، جیسے دینی مسائل پر مشتمل کتابوں کو آیت و ترجمے والے حصے کے علاوہ جگہ سے بےوضو چھوسکتے ہیں۔ نیز اخبار ردی میں بیچنے میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس میں لکھی ہوئی آیات و احادیث، ان کے ترجمے، دینی مضامین وغیرہ مقدس تحریرات و الفاظ اور اللہ پاک، انبیاءِ کرام اور فرشتوں علیہمُ السّلام، صحابۂ کِرام و بزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم کے ناموں وغیرہ کو احتیاط کے ساتھ الگ کر دیا جائے، پھر باقی اخبار کو ردی میں بیچ سکتے ہیں، جبکہ ان الگ کئے گئے حصوں کو اکٹھا کر کے کسی پاک تھیلے وغیرہ میں ڈال کر احتیاط کے ساتھ ادب والی جگہ پر رکھ دیا جائے یا زمین میں دفن یا گہرے سمندر و دریا یا بڑی نہر میں تھیلے کے ساتھ وزنی پتھر باندھ کر ٹھنڈا کر دیا جائے۔

پانی میں بہانے اور دفن کرنے کا طریقہ:

پانی میں بہانے کا طریقہ یہ ہے کہ کاغذات کے تھیلے وغیرہ میں وزنی پتھر ڈال کر انہیں اس طرح گہرے دریا یا بیچ سمندر میں ڈال دیا جائے کہ وہ پانی کی تہہ میں چلے جائیں اور باہر ایسی جگہ نہ آسکیں، جہاں ان کی بے ادبی کا خطرہ ہو۔ کم گہرے پانی میں نہ ڈالیں، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ عُمُوماً بہہ کر کَنارے پر آ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سخت بے ادبیاں ہوتی ہیں۔ لہٰذا پانی میں ڈالنے سے پہلے تھیلے میں چند جگہ چِیرے لگا دیں تاکہ اُس میں فوراً پانی بھر کر تہہ میں چلا جائے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیا جائے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے لحد (بغلی قبر) بنائیں یعنی گڑھا کھود کر قبلے کی جانِب دیوار کو اتنا کھودیں کہ سب قرآن پاک اور مقدَّس اَوراق اس دیوارکے سوراخ میں سما جائیں، تاکہ ان پر مِٹّی نہ پڑے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صندوق نما قبر کھودیں یعنی گڑھا کھود کر اس میں رکھیں اور اوپر سے تختہ لگا کر چَھت بنا کر اس چھت پر مِٹّی ڈالیں،جیسے میت کےلیے قبر بنائی جاتی ہے تاکہ ان مقدس تحریروں پر مٹی نہ پڑے، نہ ہی کسی چلنے والے کا پاؤں پڑے۔ یہ احتیاط بھی شرعاً ضروری ہے کہ قرآن پاک وغیرہ مقدس اوراق کو کسی وقف قبرستان میں دفن نہ کریں، کیونکہ قبرستان مسلمان مُردوں کی تدفین کے لیے وقف ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں اوراقِ مقدسہ دفن کرنا یا اس مقصد کے لیے کنواں بنانا، جائز نہیں، کیونکہ یہ وقف کی حالت کو بدلنا ہے، جو کہ ناجائز ہے۔

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)خریدوفروخت میں ٹرانسپورٹ کی وجہ سے  مال ہلاک ہوجائے تو وہ کس کے ذمہ ہے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک پارٹی نے ہم سے مال منگوایا،ہم نے ان سے مال کی کوالٹی،قیمت وغیرہ سب چیزیں طے کرکے عقد کرلیا،مگر پیمنٹ ایک مہینہ بعد دینا طے پایا،اس کے بعد ہم نےوہ مال پارٹی کے کہنے پر، ان کی طرف سے متعین کردہ گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کے سپرد کردیا، راستے میں گڈز ٹرانسپورٹ والوں کو حادثہ پیش آیا اوروہ مال ہلاک ہوگیا،اب اس پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ مال چونکہ ہم تک نہیں پہنچا، لہٰذا ہم اس کی پیمنٹ نہیں کریں گے۔دریافت طلب امر یہ ہےکہ ہلاک ہونے والا مال کس کے ذمہ میں ہلاک ہوا؟اس حوالے سےرہنمائی فرمادیں۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

شریعت اسلامیہ کی روسےخرید و فروخت ہو جانے کے بعد خریدار پر لازم ہےکہ خریدی گئی چیز کی قیمت، چیز بیچنے والے کے سپرد کر دے اور بائع (بیچنے والے شخص) پر لازم ہےکہ وہ بیچی جانے والی چیز خریدار کے سپرد کرے۔ خریدار کی طرف سے متعین کردہ شخص کے سپرد کرنا بھی خریدارکے ہی سپرد کرنا ہےکہ وہ بطور وکیل قبضہ کرتا ہے اور وکیل کا قبضہ مؤکل (اصل مالک) کا قبضہ شمار ہوتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں آپ نے مبیع (بیچی گئی چیز) چونکہ مشتری کی متعین کردہ ٹرانسپورٹ کمپنی کے حوالے کردی تھی، لہٰذا آپ کی طرف سے سپرد کرنا پایا گیا۔اس کے بعد ٹرانسپورٹ کمپنی سےجو مبیع (بیچی گئی چیز) ہلاک ہوئی وہ خریدارکی ہلاک ہوئی، لہٰذا خریدارپر حسبِ وعدہ اس مبیع (بیچی گئی چیز) کی پیمنٹ لازم ہے۔

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران مجلس تحقیقات شرعیہ، دارالافتاء اہل سنت، فیضان مدینہ کراچی


Share