رب سے بات کیسے بنے گی؟


رب سے بات  کیسے بنے گی؟



کسی محلے میں ایک شخص مسلسل بے چینی اور بے سکونی میں مبتلا تھا۔ بظاہر وہ نیک زندگی گزارتا تھا، نماز، روزہ اور دیگر عبادات کا اہتمام بھی کرتا تھا، مگر اس کے باوجود دل کو وہ اطمینان اور روحانی لذت نصیب نہ ہوتی تھی جس کی وہ تلاش میں تھا۔ یہ کیفیت اسے اندر ہی اندر بے قرار کیے جا رہی تھی۔ ایک دن وہ اسی الجھن کے ساتھ اپنے ایک سادہ مزاج باورچی دوست کے پاس گیا اور اپنا حالِ دل بیان کیا۔ باورچی نے بڑے غور سے اس کی بات سنی، مسکرایا اور کہا:”ذرا ٹھہریے، پہلے میں ایک ہنڈیا تیار کر لیتا ہوں، پھر اس مسئلے پر بات کرتے ہیں۔“وہ ہنڈیا چولہے پر رکھ کر اس میں پیاز، لہسن، ٹماٹر، نمک، مرچ اور تمام مصالحے ڈالنے لگا۔ پھر وہ شخص وہیں بیٹھ کر اس سے گفتگو میں مشغول ہو گیا۔کچھ دیر بعد اس کی نظر چولہے پر پڑی تو وہ حیران رہ گیا کہ ہنڈیا تو رکھی ہے مگر نیچے آگ ہی نہیں جل رہی۔ غالباً باورچی آگ جلانا بھول گیا تھا۔ اس نے فوراً کہا:آپ نے آگ کیوں نہیں جلائی؟ بغیر آگ کے ہنڈیا کیسے پکے گی؟باورچی نے اطمینان سے جواب دیا:بالکل اسی طرح جیسے عبادت کے تمام ظاہری اعمال تو ہوں مگر دل میں تقویٰ اور اخلاص کی آگ نہ ہو تو دل کی اصلاح اور روحانی سکون حاصل نہیں ہوتا۔یہ بات اس شخص کے دل میں اُتر گئی کہ اصل مسئلہ عبادات کی کمی نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور اندرونی اصلاح کی کمی  ہے، جس کے بغیر ظاہری اعمال اپنی حقیقی تاثیر نہیں دکھا پاتے۔

اس واقعے سے حاصل ہونے والے اہم نکات:

1. تقویٰ عبادت کی روح ہے:

روحانی سکون کے لیے صرف ظاہری اعمال کافی نہیں ہوتے بلکہ دل میں اللہ پاک کا خوف اور پرہیزگاری ہونا بھی ضروری ہے۔ عبادت کی اصل لذت تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے۔ نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف تین مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تقویٰ یہاں ہے۔ ([1])

2. دل کی اصلاح اصل ضرورت ہے

گناہ، جھوٹ، غیبت اور بدگمانی دل کو سخت کر دیتے ہیں جس سے عبادت  میں لذت ختم ہوتی  محسوس ہونے لگتی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:” بے شک مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ بن جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر لے اور گناہ چھوڑ دے اور مغفرت چاہے تو اس سیاہی کو مٹا دیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہوں میں زیادتی کرے تو وہ سیاہی بھی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتی ہے، یہی وہ رَان (یعنی زنگ)ہے جس کا ذکر اللہ پاک نے اپنی کتاب میں یوں فرمایا:

كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴)  ([2])

ترجَمۂ کنز الایمان: کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا  دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

3. اخلاص کے بغیر عمل بے روح ہے

ہر عمل کی قبولیت کا دار و مدار نیت اور اخلاص پر ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو تھوڑا عمل بھی کافی  ہے۔ حضورنبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرت مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ تمہیں تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔([4])

4. روحانی ترقی کے لیے خود احتسابی ضروری ہے

انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے تاکہ دل کی کیفیت بہتر ہوتی رہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں  ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!تم حساب لئے جانے سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کر لو اور (اعمال کا) وزن کئے جانے سے پہلے اپنے (اعمال) کا وزن کر لو اور اس دن کی بڑی پیشی کی تیاری کر لو جس دن تم سب (اللہ  پاک کی بارگاہ میں ) اس حال میں  پیش کئے جاؤ گے کہ تم میں  سے کسی کی کوئی پوشیدہ حالت چُھپ نہ سکے گی۔([5])

5.عبادت میں لذت کے لیےحرام سے بچنا 

حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پَراگندہ اور بدن غبار آلود ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب! یارب! پکار رہا ہے حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام ، اور غذا حرام ہو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو گی۔([6])

اللہ پاک ہمیں سچی عبادت، اخلاص اور تقویٰ نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلس شوریٰ دعوتِ اسلامی



([1])مسلم،ص 1064،  حدیث: 6541

([2])پ30، المطففین:14

([3])ابن ماجہ ، 4 / 488 ، حدیث : 4244

([4])نوادر الاصول، الاصل السادس، 1 / 44، حدیث: 46

([5])مصنف ابن ابی شیبہ،19/ 143، حدیث: 35600

([6])مسلم،  ص393، حدیث: 2346


Share