عورت کا جمعہ کے وقت میں خریداری کرنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مرد حضرات کے لیے تو جمعہ کے وقت خرید و فروخت کرنا،ناجائز ہےلیکن خواتین پر تو جمعہ نہیں ہوتا ان کے لیے اس کے وقت میں خریدوفروخت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: جن افراد پر نمازِ جمعہ فرض ہے،ان کے لیے جمعہ کی پہلی اذان ہوتے ہی نمازِ جمعہ کے لیے سعی کرنا واجب ہے ۔ اس وقت خرید وفروخت اور ہر وہ کام جو سعی کے منافی ہو، ناجائز اور مکروہ ِ تحریمی ہے۔البتہ عورتیں اور وہ افراد جن پر جمعہ فرض نہیں یا وہ جمعہ کی نماز ادا کرچکے ہوں، ان کے لیے اس وقت آپس میں خرید و فروخت کرنا مکروہ نہیں ہے۔تاہم ان کا ایسے اشخاص سے خرید و فروخت کرنا، ناجائز و گناہ ہے کہ جن پر جمعہ فرض ہے اور قریبی مسجد میں اذانِ جمعہ ہو چکی ہے اور ان لوگوں نے ابھی تک نمازِ جمعہ ادا بھی نہیں کیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر جمعہ فرض ہے ، اس پر سعی واجب ہوچکی ہے اب اگر وہ نماز ِ جمعہ کی سعی کرنے کی بجائے خرید وفروخت کرے تو ممانعت کا مرتکب ہوتا ہے ،اور خریدار اس فعل میں اس کی اعانت کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ بھی گناہگار ہوگا۔
حاشیۃ الطحطاوی على مراقی الفلاح میں ہے:” (ويجب ترك البيع)۔۔۔ وفي الكلام اشعار بان من لم تجب عليه الجمعة مستثنى من الحكم كما في القهستاني يعني من لم تجب عليهما معا اما اذا وجبت على احدهما دون الآخر اثما جميعا لان الاول ارتكب النهي والثاني اعانه عليه“یعنی: بیع کو ترک کرنا واجب ہے اور عبارت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ جس پر جمعہ واجب نہیں وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے، جیسا کہ قہستانی میں ہے۔یعنی وہ دونوں شخص جن میں سے کسی پر بھی جمعہ واجب نہ ہو۔ لیکن اگر ایک پر جمعہ واجب ہواور دوسرے پر نہ ہو تو (خرید و فروخت کرنے سے )دونوں گناہگار ہوں گے، کیونکہ پہلے نے ممانعت کا ارتکاب کیا اور دوسرے نے اس کی مدد کی۔
(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ،جلد01،صفحہ 517)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2)قرعہ اندازی کے ذریعے انعام کی ایک جائز صورت:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل مختلف Shopping Malls ،Marts وغیرہ میں اس طرح کی آفر ہوتی ہے کہ آپ مثلاً 10 ہزار یا فلاں رقم تک کی شاپنگ کرتے ہیں تو آپ کا نام قرعہ اندازی (Lucky Draw) میں ڈال دیا جائے گا اور اس میں مختلف انعامات موجود ہوتے ہیں ۔ Lucky Draw میں جس کا نام نکلے گا اس کو وہ تمام انعامات مل جائیں گے ۔میرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ طریقہ کار کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس پر ملنے والے انعام کی کیا شرعی حیثیت ہے ؟
نوٹ :اس میں ہمیں الگ سے کوئی رقم جمع نہیں کروانی ہے اگر ہم متعین قیمت تک کی خریداری کرلیتے ہیں تو وہ ہمارا نام قرعہ اندازی میں شامل کرلیں گے ؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق کمپنی کا مخصوص رقم تک کی خریداری کرنے پر قرعہ اندازی میں نام ڈالنا اور نا م نکلنے پر مختلف انعامات دینا جائز و درست ہے کیونکہ مذکورہ طریقہ کار میں شرعاً کوئی خرابی نہیں جس کی وجہ سے اسے ناجائز قراردیا جائےاور نہ ہی کمپنی قرعہ اندازی کے الگ سے کوئی پیسے لے رہی ہے بلکہ کمپنی نے اپنی مجموعی سیل(Sale) بڑھانے کے لیے یہ انعامی اسکیم نکالی ہے کہ فلاں رقم تک خریداری کرنے پر خریدار کانام قرعہ اندازی میں ڈال دیا جائے گا پھر جس کا نام نکلے گا اس کو مختلف انعامات دے دیے جائیں گے۔ لہٰذامذکورہ انعامات لینا جائز و درست ہے ۔
مفتیِ اعظم پاکستان مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”کوئی شخص یا کمپنی اپنے مال کی بِکری بڑھانے کے لیے ایسا کرتی ہے کہ پیکٹ یا ڈبے کے اندر ایک کو پن رکھ دیتی ہے ، جس پیکٹ میں سے ٹکٹ نکلے گا اس پر انعام دیا جائے گا۔ جن لوگوں کے پیکٹ میں وہ ٹکٹ نکلیں گے، تو ان میں قرعہ اندازی کر کے انعام دیا جائے گا یہ صورت جائز ہے۔ اسی طرح کوئی شخص قرعہ اندازی کر کے حج پر بھیجے تو یہ بھی جائز ہے۔“(وقار الفتاویٰ،3/275)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(3)جعلی نوٹ آگے چلانا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس کہیں سے 5000 کا جعلی نوٹ آگیا ہے جو کہ دیکھنے میں بالکل اصلی جیسا لگ رہا ہے بینک کی مشین سے چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ نوٹ جعلی ہے اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ نوٹ کس نے دیا ہے ، کیا میں خود کو نقصان سے بچانے کے لیے یہ نوٹ آگے چلاسکتا ہوں کیونکہ مارکیٹ میں لوگوں کو پتہ نہیں چلے گا اور یہ چلتا رہے گا ؟
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کا جان بوجھ کر جعلی نوٹ آگے چلانا، ناجائز وحرام ہے کیونکہ اس میں اپنے مسلمان بھائی کو دھوکہ دینا ہے ۔اور دھوکہ دہی کا معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ مسلمان تو مسلمان، کافر کو دھوکہ دینا بھی حرام ہے ۔
چنانچہ کھرے کی جگہ کھوٹے سکے دینے سے متعلق ،فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ”رد العدليات من له بصارة على أنها زيف فليس له أن يدفع إلى من يأخذها مكان الجيدة لأنه تلبيس وغدر كذا في القنية“ترجمہ:اگر کسی شخص کو عدالی سکے لوٹائے گئے اور اسے معلوم ہے کہ یہ عدالی سکے کھوٹے ہیں تو اب اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان سکوں کو جید سکوں کی جگہ ایسے شخص کو دےدے جو انہیں قبول کر لے، کیونکہ یہ دھوکہ اور خیانت ہے۔ اسی طرح قنیہ میں بھی مذکور ہے۔(فتاویٰ عالمگیری،5/367)
امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”غدر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔“ (فتاویٰ رضویہ،14/139)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی
Comments