تواضع اور عاجزی کی نبوی تعلیمات
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےنہ صرف اپنی امت کو عاجزی وانکساری کی تعلیمات دیں بلکہ خود بھی اس پر عمل کیا۔آپ علیہ السّلام کی عاجزی کا تو یہ عالم تھا کہ غیر مسلم بھی فدا ہوجاتے اور اسلام قبول کرلیتے۔ اللہ کے لیے عاجزی اور تواضع اختیار کرنا یہ ایک ایسی خوبی ہے جو اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے اور جو اللہ کے جتنا زیادہ قریب ہوتا ہے وہ اتنا ہی عاجزی اور تواضع کرنے والا ہوتا ہے۔
آیئے! سب سے پہلے جان لیتے ہیں کہ تواضع اور عاجزی کسے کہتے ہیں۔
تواضع کی تعریف:
نفس کو کمتر اور حقیر جاننے کے خیال کو ”تواضُع“کہتے ہیں اور اسی سے عاجزی وانکساری پیدا ہوتی ہے۔ (منہاج العابدین مترجم، ص176)
اللہ پاک اپنے محبوب بندوں کی تعریف اس صفت (یعنی عاجزی والی خوبی) کے ساتھ یوں بیان فرماتا ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔ (پ19، الفرقان: 63)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
احادیثِ مبارکہ میں عاجزی اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے بےشمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔آیئے! اس بارے میں چار احادیثِ مبارکہ پڑھیے:
(1)عاجزی اختیار کرنے کا حکم :
حضرت عیاض بن حِمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بیشک اللہ پاک نے میری طرف وحی فرمائی کہ تَواضُع (یعنی عاجزی) اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی شخص کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر زیادتی کرے۔(مسلم، ص1174، حدیث: 7210)
(2)عجز و انکسار اختیار کرنے کی دنیاوی برکت:
روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے آپ نے منبر پر فرمایا: اے لوگو عاجزی اختیار کرو کیونکہ میں نے رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو الله تعالیٰ کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتا ہے تو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑا۔ اور جو غرور کرتا ہے الله تعالیٰ اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔
(مشکاۃ المصابیح، 2/234، حدیث:5119)
(3)رضائے الٰہی کے لیے عاجزی:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کسی کو معاف کردینے سے اللہ پاک بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ پاک اُسے بلندی ہی عطا فرماتا ہے۔ (مسلم، ص1071، حدیث: 6592)
ان احادیثِ مبارکہ سے یہ بات پتا چلی کہ عاجزی کی بڑی اہمیت ہے اور اس سے بڑا ثواب حاصل ہوتا ہے جبکہ عاجزی نہ کرنے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عاجزی اختیار کریں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت میں نجات کا سبب ہے۔
(4)عاجزی کا نبوی انداز:
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں عاجزی و انکساری اختیار کی جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: عَنِ الْاَسْوَدِ بن يَزيدَ قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِي الله عَنْهَا مَا كَانَ النَّبيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهٖ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ اَهْلِهٖ، يَعْنِي: خِدْمَةَ اَهْلِهٖ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، خَرَج اِلَى الصَّلاَةِ ترجمہ: حضرت اسود بن یزید رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی گھر میں کیا مشغولیت ہوتی تھی؟فرمایا: شہنشاہِ دو عالَم، نورِمُجَسَّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گھریلو کاموں میں اپنے اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹایا کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ (بخاری، 1/241، حدیث: 676)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عاجزی کے متعلق نبوی تعلیمات کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے اور احادیثِ مبارکہ میں جا بجا اس کے فضائل و برکات کا ذکر ملتا ہے۔ ہمیں بھی عاجزی کو لازمی اللہ کی رضا کے لیےاختیار کرنا چاہیے۔ یہ متقین اور ابرار (یعنی نیک لوگوں) کی صفت ہے جو چنے ہوئے بندوں کو ہی ملتی ہے لہٰذا اس کے لیے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں تواضع و عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان احمد رضا،نارتھ کراچی)
Comments