باغ کے پھلوں کی درست مقدار بتا دی


باغ کے پھلوں کی درست مقدار بتادی


اللہ پاک نے اپنے آخری نبی، حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شمار معجزات عطا فرمائے۔ ان معجزات کے ذریعے ایک طرف تو لوگوں کو آپ کی رسالت پر یقینِ قلبی حاصل ہوتا اور دوسری طرف اہلِ ایمان کے ایمان کو تقویت نصیب ہوتی۔ آئیے! آج ہم حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ایک ایسے ہی پیارے معجزے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ غزوۂ تبوک کے سال نکلے۔ جب ہم وادی القریٰ پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں تھی۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اس باغ کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ۔ چنانچہ صحابہ نے کچھ نہ کچھ اندازہ لگایا اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی۔پھر آپ نے اس عورت سے فرمایا: اِن شآءَ اللہ! میں واپس آؤں گا جب تک تم اس باغ سے حاصل ہونے والی پیداوار کا حساب محفوظ رکھنا (یعنی پھل توڑ کر تول لینا وزن یاد رکھنا)۔ پھر ہم آگے روانہ ہوئے یہاں تک کہ تبوک پہنچ گئے۔ پھر (تبوک سے فارغ ہو کر)آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم واپس روانہ ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب دوبارہ وادی القریٰ پہنچے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس عورت سے فرمایا:تمہارے باغ کی پیداوار کتنی ہوئی؟اس نے بالکل وہی دس وسق([1]) کی مقدار بتائی جس کا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اندازہ بیان فرمایا تھا۔([2])

یقیناً یہ حضور کا معجزہ ہے کہ حضور انور کا اندازہ ایسا درست تھا کہ اس میں ایک تولہ کا بھی فرق نہ ہوا یہ محض اندازہ نہ تھا ورنہ کچھ فرق ہوتا بلکہ یہ حضور انور کا علم غیب تھا۔

*مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ہر کام میں سچائی کو اختیار کرے۔

*آئندہ کسی کام کا ارادہ کرتے وقت” اِن شآءَ اللہ “کہنا چاہیے، کیونکہ ہر کام اللہ پاک کی مشیت سے ہی پورا ہوتا ہے۔

*اپنے مالی اور کاروباری معاملات کا حساب کتاب محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ بعد میں کسی اختلاف یا پریشانی کا سامنا نہ ہو اور زکوٰۃ وغیرہ کا حساب لگانے میں مفید ہو۔

*سفر،مصروفیت یا ذمہ داریوں کے باوجود اپنی بات کو پورا کرنا چاہیے۔

*انسان کو چاہیے کہ جو بات کہے یا وعدہ کرے اسے یاد رکھے اور موقع آنے پر اس کی طرف ضرور توجہ دے۔

*اپنے ماتحتوں کی ذہنی صلاحیتوں، تجربوں اور پوشیدہ مہارتوں کو وقتاً فوقتا مختلف زاویوں سے پرکھنا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان سے صلاحیتوں کے مطابق کام لیا جاسکے یا ان کی کارکردگی پر بھروسا کیا جاسکے۔

*چھوٹے یا معمولی نظر آنے والے معاملات بھی اہم ہوتے ہیں، اس لیے ان میں بھی ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

*دوسروں کے معاملات میں دلچسپی لینے کا مقصد ان کی خیرخواہی اور رہنمائی ہونی چاہیے، نہ کہ بے جا تجسس۔

*دوسروں کے معاملات میں صرف اسی صورت میں دلچسپی لینی چاہیے جبکہ اسے برا نہ لگے۔

*اپنی بات کی صداقت یا صحیح مقصد سے اپنی مہارت و کمال دوسروں پر ظاہر کرنا معیوب نہیں۔

*بڑوں کو چاہیے کہ وہ ضروری چیزوں کا حساب کتاب رکھیں اور اپنی کہی باتوں اور معاہدوں کو پورا کریں تاکہ چھوٹے ان کے رویوں سے اچھی چیزیں سیکھیں۔

([1])وسق غلے یا پھل کی پیمائش کی ایک قدیم اکائی ہے۔ ایک وسق 60 صاع کا ہوتا ہے اور صاع تقریباً ساڑھے چار سیر کا یعنی 4 کلو سے 160 گرام کم۔(2)دیکھیے: مسند امام احمد، 39/16، حدیث: 23604۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* (فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ماہنامہ فیضان مدینہ)



([1])وسق غلے یا پھل کی پیمائش کی ایک قدیم اکائی ہے۔ ایک وسق 60 صاع کا ہوتا ہے اور صاع تقریباً ساڑھے چار سیر کا۔

([2])دیکھیے: مسند امام احمد، 39/16، حدیث: 23604


Share