امیرِ اَہلِ سنّت كاپیغام اساتذہ کے نام([1])
امیرِ اَہلِ سنّت، حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
پڑھانے میں اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کی نیت ہو، جتنے وقت کا اِجارہ کیا گیا ہے اُس میں دِیانت داری سے پڑھایا جائے اور اِس کام کو سرانجام دینے میں عُرف (یعنی معمول) سے ہٹ کر کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ بعض لوگ سورس (SOURCE) لگا کر ٹیچر بن جاتے ہوں گے اور وہ اِس کے اَہل نہیں ہوتے ہوں گے۔ اب اگر کوئی شخص نااہل ہے اور ٹیچر لگ گیا تو وہ پڑھائے گا کىا؟ خود ہى نہىں پڑھا ہوا، وہ تو اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے ٹائم پاس کرے گا۔ایسا شخص گناہ گار ہے کیونکہ شریعت کے مطابق جو بھی طے کیا جائے اُس پر عمل کرنا ضَروری ہوتا ہے جبکہ اِجارے (CONTRACT) کے حوالے سے جو شرائط ہوں وہ شریعت کے مُطابق ہوں۔ بعض جگہوں پر اِجارے کے حوالے سے کئی ایسی شرطیں ہوتی ہیں جو شریعت کے مطابق نہیں ہوتیں لہٰذا اِجارے میں جو بھی شرطیں لگائی جائیں اُنہیں عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللہ السَّلَام سے تفتیش (INVESTIGATE) کروانے کے بعد نافذ کرنا چاہیے ورنہ غلطیاں ہونے کا ڈر ہے۔ اِسی طرح لوگ شادیوں میں طرح طرح کى شرائط طے کرتے ہىں یونہی جب کاروبار میں پارٹنر شپ کرتے ہیں تو اِس میں بھی اپنے طور پر کچھ نہ کچھ شرائط طے کرلىتے ہىں جن میں کچھ غَلَط شرطیں بھی شامل ہوتى ہىں ىا ہو سکتى ہىں اس لیے علمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللہ السَّلَام سے اُن شرطوں کی تفتیش کروا لینا چاہیے ورنہ اندیشہ ہے کہ گناہ ہوتے رہیں اور ہو سکتا ہے کہ روزى بھى خراب ہوتى رہے۔”اِحىاءُ العلوم“کی پہلی جلد کا مطالعہ کیجیے کہ اس میں اُستاد و طلبہ دونوں کے حُقُوق بڑی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مکتبۃُ المدینہ کی کتاب”کامىاب اُستاذ کون؟“حاصل کر کے تمام اَساتذہ اِس کا مُطالعہ فرما لیں۔
تمام طلبہ پر یکساں توجہ رکھنی چاہیے:
کامیاب استاد وہ نہیں جو صرف ذہین طلبہ پر ہی توجہ دے بلکہ کامیاب استاد وہ ہے جو ہر طالبِ علم کو یکساں اہمیت دے۔ جو طلبہ اچھا پڑھتے ہیں وہ اکثر اُستاد کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں اور دِیگر طلبہ بسااوقات نظر اَنداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ”کماؤ پُتّر“ تو ماں باپ کو اچھا لگتا ہے، اِسی طرح جو شاگرد ذہین، فرماں بردار اور شریف ہو گا وہ اُستاد کو اچھا لگے گا اور لگنا بھی چاہیے یہ اُستاد کی مجبوری ہے لىکن اِس کى وجہ سے دِیگر طلبہ کو نظر اَنداز نہ کیا جائے اور یہ بھی نہیں کہ اچھا پڑھنے والے پر زیادہ توجہ ہو اور دوسروں پر کم توجہ ہو کہ چھوڑو یار یہ نہیں پڑھتے تو نہ پڑھیں بس جو اچھا پڑھے اُسی کو پڑھاؤ، یہ رویہ ہرگز دُرُست نہیں، اُستاد کا اِجارہ (یعنی CONTRACT) صرف اچھے طلبہ کو پڑھانے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ تمام طلبہ کو پڑھانے کے لیے ہوتا ہے۔
کىا اُستاد کو شاگرد سے توقعات رکھنی چاہئیں؟
بعض اساتذہ شاگردوں سے کچھ تَوَقُّعات اور امیدیں وابَستہ کرلیتے ہیں، اس حوالے سے ذہن نشین رکھیے کہ اگر آپ اچھا پڑھاتے ہیں تو اچھی توقعات رکھنے میں حرج نہىں ہے کہ ىہ پڑھکر آگے بڑھے گا اور عِلمِ دِین کی خوب خدمت کرے گا۔ اگر شاگرد پر توجہ نہیں دی تو توقع بھی کیا رکھیں گے؟ پتھر بو کر گندم ىا گیہوں تو نہىں ملىں گے پتھر ہى ملے گا بلکہ پتھر بھى نہیں ملے گا وہ بھی زمین کے اندر سما جائے گا۔اَلغرض جىسا بوئىں گے وىسا کاٹیں گے، جىسى توجہ آپ اپنے شاگروں پر دیں اور جیسی کوششیں کریں تو ویسی ہی توقعات شاگردوں سے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حد سے زیادہ توقعات بھی نہیں رکھنی چاہئیں اور شاگردوں سے پیسے یامال وغیرہ ملنے کی توقع تو ہرگز نہیں رکھنی چاہئے ورنہ ان سے مال ملنا بعض صورتوں میں رِشوت بن سکتا ہے۔
Comments