اسلامی معاشرے میں عزت نفس کا تحفظ


اسلامی معاشرے میں عزتِ نفس کا تحفظ

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری


جو بھی خوش نصیب انسان اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہوا ہے،اللہ پاک نے اسے نہ صرف عزت و تکریم والا بنا دیا ہے بلکہ اسلام نے کسی دوسرے آدمی پر اس بات کو بھی حرام کر دیا ہے کہ وہ اس ’’عزت والے‘‘ کی عزت کو کسی بھی انداز میں تار تار کرے۔ مسلمان کی عزت و حرمت اللہ و رسول کی بارگاہ میں کیسی قدر و منزلت والی ہے اس بات کا اندازہ اس روایت سے لگائیے: ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس سے خیانت کرے، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر مسلمان کی عزت، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (اور ہاتھ مبارک سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا:)تقویٰ یہاں ہے۔ پھر فرمایا:کسی بھی انسان کے بُرا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے۔ ([1])

اسلام عزت کی حفاظت یوں کرتا ہے:

چونکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ اسلام کا رشتہ ہے اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا اکرام کرے اور اس کی عزت کی حفاظت کرے اور ہمیشہ اس کی بے حرمتی سے بچتا رہے اور اگر کوئی دوسرا آدمی مسلمان کی بےعزتی کرے یا اُسے تکلیف پہنچائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے اور اس کی عزت پامال نہ ہونے دے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت کی اللہ پاک قیامت کے دن اس سے جہنم کا عذاب دور فرما دے گا۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷)  ([2])

ترجَمۂ کنز الایمان: اور ہمارے ذمۂ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مسلمان کی عزت کی حفاظت کرنے والا اللہ پاک کی بارگاہ میں ایسا پسندیدہ ہوجاتا ہے کہ اللہ پاک جہنم سے اس کی حفاظت کے لیے ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جیسا کہ حضرت مُعاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی عزت)کواس منافق سے بچایا جو پیٹھ پیچھے اس کی برائی کررہا تھا تو اللہ کریم (بروزِ قیامت) اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجے گا جو اسے جہنم سے بچائے گا اورجس نے کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کا سامان کیا اللہ پاک اس کی سزا پوری ہونے تک اُسے جہنم کے پل پرروکے رکھے گا۔([4])ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عزت دینے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ عزت کی حفاظت کو بھی نیکی قرار دیتا ہے۔پرانے زمانے میں جب گھوڑوں، اونٹوں اور خچروں پر سفر ہوا کرتا تھا اس وقت عزّت افزائی کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ایک آدمی سواری کی لگام پکڑ کر کھڑا ہو جاتا تاکہ سوار ہونے والا آسانی سے سوار ہو جائے، اسی طرح جب کوئی گھوڑے وغیرہ پر سوار آتا تو آگے بڑھ کر سواری کی لگام پکڑ لیتے تھے، تاکہ سوار آسانی سے اُتر جائے اسلام میں یہ معمولی  عمل بھی کس قدر مقبول ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو بندہ اپنے مسلمان بھائی (کی عزّت کرتے ہوئے، اس) کے گھوڑے کی رِکاب پکڑ ے، اس کا یہ عمل کسی لالچ کی وجہ سے نہ ہو، کسی قسم کے خوف کے سبب نہ ہو(بلکہ خالص اللہ پاک کی رضا کے لیے ہو) تو اللہ پاک اس رکاب پکڑنے والے کی مغفرت فرما دیتا ہے۔([5])یہ روایات تو مسلمان کی عزت کرنے اس کی عزت کی حفاظت کرنے سے متعلق تھیں اب اسلام کا کمال دیکھیے کہ اسلام تو وہ شجرِ عزت افزاء ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی ’’شرعی طریقہ کار‘‘ کے مطابق اس کی چھاؤں میں پناہ لے لے تو وہ بھی محروم نہیں رہتا جیسا کہ ’’ذِمّی کافر‘‘ کو تکلیف دینا اور ان کی غیبت کرنا ہرگز جائز نہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جس نے کسی یہودی یا نصرانی کو تکلیف دہ بات کہی اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔([6]) ذِمّی کافِر اُس مخصوص کافِر کو کہتے ہیں جو اسلامی حکومت کو اپنے تحفُّظ کے لیے جِزیہ (TAX) ادا کرے۔ تفسیر نعیمی میں ہے:جِزیہ یعنی وہ شَرعی مَحصول (TAX) جو حکومت اہلِ کتاب (یہودو نصاریٰ) سے ان کے جان و مال کی حفاظت کے بدلے وُصول کرے۔([7])یاد رہے! جب انسان کی عزت محفوظ ہوتی ہے تو خاندان مضبوط ہوتے ہیں، معاشرہ پُرامن بنتا ہے، لوگوں میں اخوت و بھائی چارگی پروان چڑھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے عزتِ نفس کی حفاظت کو محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ شرعی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اگر مسلمان اس تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو دلوں سے نفرت، زبانوں سے تحقیر و تذلیل کے جملے اور معاشرے سے انتشار و افتراق ختم ہو جائے گا۔

عزتِ نفس کے تحفظ پر اسلام کا جامع نظام:

اسلام اپنے ماننے والوں کو عزتِ نفس کی حفاظت کی صرف ترغیب ہی نہیں دیتا بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی اسلامی معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہے۔اسلام ہر اس کام،عمل،بات،اشارے کنائے اور گفتگو سے منع کرتا ہے کہ جو کسی بھی مسلمان کی عزتِ نفس کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو صرف زبانی کلامی اصول ہی نہیں دئیے بلکہ ایسے احکام بھی عطا فرمائے ہیں جو روزمرہ زندگی میں انسان کی عزت کا تحفظ کرتے ہیں۔ اسلام نے عبادات سے لے کر معاملات، معاشرت، معیشت، عدالت و سیاست الغرض ہر شعبے میں ایسے احکام دئیے ہیں جو انسان کی عزتِ نفس کو محفوظ بناتے ہیں۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی عزتِ نفس پر زبان سے حملہ آور ہوتا ہے اس لیے اسلام نے زبان کی حفاظت کا حکم دے کر دوسروں کی عزت کو تحفظ فراہم کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا زخم اکثر زندگی بھر باقی رہتا ہے، عزتِ نفس کی حفاظت کے لیے اسلام نے زبان کے لیے کچھ اصول وضوابط بنائے ہیں کہ جو کسی دوسرے نظام میں اس قدر جامعیت کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

مذاق اُڑانے کی ممانعت:

اسلامی معاشرہ میں کسی کے لیے بھی جائز و درست  نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو خود اس کی اپنی یا کسی دوسرے کی عزت و حرمت کو خراب کرنے والا ہو۔ انسانی معاشرے میں عزتِ نفس پر حملے کی جتنی بھی صورتیں موجود تھیں یا جو بن سکتی تھیں اسلام نے ان سب سے منع فرما دیا ہے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)

ترجَمۂ کنزُ العِرفان: اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت میں کتنی تفصیل سے ہتکِ عزت کے تمام طریقوں سے روک دیا گیا ہے،چاہے وہ مذاق اُڑانے کی صورت ہو، طعنہ زنی کرنا ہو یا کسی کا نام بگاڑنے سے تعلق رکھتا ہو۔ غور کرنے پر بالکل ظاہر ہو جاتا ہے کہ اللہ پاک نے ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ یہ سارے کام انسانی عزت و وقار کے خلاف اور فتنہ وفساد کا ذریعہ ہیں۔مسلمان کی عزت کا معاملہ اس قدر حساس ہے کہ اشارے کنائے یا کسی بات کے ذریعے دوسرے کو عیب لگانے سے بھی روک دیا گیا اس لیے کہ مومن ایک جان کی طرح ہیں جب کسی دوسرے مومن پرعیب لگایاجائے گا توگویا عیب لگانے والاخود اپنے آپ پرہی عیب لگا رہا ہے۔([9]) حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اِہانت اور تحقیر کے لیے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اوردکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ([10])حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خوفِ خدا کی وجہ سے  فرماتے ہیں: لَوْ سَخِرْتُ مِنْ كَلْبٍ، لَخَشِيتُ اَنْ اَكُونَ كَلْبًا یعنی اگر میں کسی کتے کا مذاق اڑاؤں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں خود بھی کتا نہ بنا دیا جاؤں۔([11])

عیب تلاش کرنا منع ہے:

کسی کی ٹوہ میں لگ جانا،اس کے پوشیدہ عیب ڈھونڈنا،پھر اُنہیں لوگوں میں عام کر دینا بھی اسلام میں منع ہے اس لیے کہ یہ بھی ہتکِ عزت (یعنی کسی کی رسوائی کرنے)کے زُمرے میں آتا ہے۔ رسولِ اَکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے ان لوگوں کے گروہ، جو زبان سے ایمان لائے اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کی ٹوہ نہ کرو، اس لیے کہ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹٹول کرے گا، اللہ پاک اس کی چھپی چیز کی ٹٹول کرے (یعنی اسے ظاہر کر دے) گا اور جس کے عیب اللہ ظاہر کرے گا اس کو رسوا کردے گا، اگرچہ وہ اپنے مکان کے اندر ہو۔([12])

غیبت و چغلی بھی منع ہے:

اسلام نے طعن و تشنیع، عیب جوئی،بہتان اور غیبت و چغلی جیسے تمام رویوں کو سختی سے ممنوع قرار دیا۔ ان سب کے منع ہونے کی بنیادی وجہ پر غور کریں تو صاف ظاہر ہے کہ غیبت و چغلی جیسے تمام گناہ صرف معاشرتی امن کو ہی تباہ نہیں کرتے بلکہ ایک مسلمان کی عزتِ نفس کو بھی شدید مجروح کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔([13])جبکہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَتَّاتٌ یعنی چغل خور جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔([14])ایسی سخت وعیدوں سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام انسان کی عزت، شہرت اور سماجی وقار کو نقصان پہنچانے والے ہر عمل سے منع کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں غیبت اور چغلی کا رواج ہو وہاں اعتماد ختم، رشتے کمزور اور دل نفرتوں سے بھر جاتے ہیں، جبکہ ان سے اجتناب کرنے والا معاشرہ احترام، اخوت اور باہمی اعتماد کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ ان تمام تعلیمات سے واضح ہے کہ اسلام کا تصورِ عزتِ نفس ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام نے انسان کی عزت کو شرعی حق قرار دیا ہے۔ اسی لیے زبان، نگاہ، معاش، خاندان، عدالت اور ریاست ہر شعبے میں ایسے اصول بنائے جن کا مقصد انسان کو باوقار زندگی عطا کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کےاس دور میں چند ہی لمحوں میں کسی کی بھی کردار کشی، مذاق، میمز، جھوٹے الزامات اور بے بنیاد خبریں اُڑا کر عزت ِ نفس مجروح کر دی جاتی ہے۔ اسلام کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ موبائل کی اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر بھی کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا اس کے روبرو بیٹھ کر بے آبرو کرنا۔ اگر آج اسلام کی ان تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کر لیا جائے تو نفرتوں کی جگہ محبت، تحقیر کی جگہ احترام اور انتشار کی جگہ اخوت کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔



([1])ترمذی،3/372، حدیث : 1934

([2]21، الروم:47

([3])الترغیب والترہیب،3/408،حدیث:4371

([4])ابوداؤد، 4/354،حدیث:4883

([5])معجم اوسط، 1/287، حدیث:1012

([6])الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، 7/193،حدیث:4860

([7])تفسیرِ نعیمی،10/254 ملخصاً

([8])پ26،الحجرات:11

([9])روح المعانی، الحجرات، تحت الآیۃ:11، 13/424

([10])جہنم کے خطرات،ص173

([11])مصنف ابن ابی شیبہ،5/231،حدیث:25546

([12])ابو داؤد، 4/354،حدیث:4880

([13])پ26، الحجرات: 12

([14])بخاری،4/115،حدیث:6056


Share