اسلام اور شخصی نکھار (قسط :01 )
انسان کی اصل قدر و منزلت اس کے جسم، لباس، شکل و صورت یا ظاہری وجاہت میں نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق، افکار، عادات اور باطن کی پاکیزگی میں پوشیدہ ہے۔ دنیا میں کتنے لوگ ظاہری خوب صورتی کے مالک ہیں، مگر ان کے کردار میں کشش نہیں۔ کتنے لوگ بلند منصب رکھتے ہیں مگر ان کی صحبت دل کو بوجھل کر دیتی ہے، کتنے لوگ علم و دولت سے آراستہ پیراستہ نظر آتے ہیں لیکن ان کے وجود سے بنی نوعِ انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس کے برعکس بعض لوگ اگرچہ روپیہ پیسہ،عہدہ و منصب اور ظاہری کَرّ و فَر والے نہیں ہوتے لیکن ان کی گفتگو میں شیرینی، کردار میں پاکیزگی، معاملات میں دیانت، رویّے میں شرافت اور دل میں ایسی روشنی ہوتی ہے کہ ان کی صحبت انسان کو بدلنے لگتی ہے۔ایسا بندہ گویا شخصی نکھار کا مالک ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو اسلام کی ایک عظیم خوبی یہ ہے کہ یہ انسان کو محض عبادات کا پابند نہیں بناتا بلکہ اسے ایک سنوری ہوئی، متوازن، پاکیزہ، باوقار اور نورانی شخصیت عطا کرتا ہے۔ اسلام انسان کے ظاہر سے پہلے اس کے باطن کو سنوارتا ہے، عمل سے پہلے نیت کو درست کرتا ہے، زبان سے پہلے دل کی اصلاح کرتا ہے اور معاشرے کو بدلنے سے پہلے فرد کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔اسی لیے اسلام کو صرف چند عقائد، عبادات اور احکام کا مجموعہ سمجھنا اس کی ہمہ گیری کو محدود کردینا ہے۔ اسلام دراصل انسان کو اللہ پاک کے قریب کر کے اُسے مخلوقِ خدا کے لیے مفید تر بنانے کا قدرتی نظام ہے۔
اسلام یوں نکھارتا ہے:
اللہ کریم نے اسلام کو ایسی عظمت، رفعت، پاکیزگی، نفاست و طہارت عطا فرمائی ہے کہ جو بھی اس کے سائے میں آتا ہے، اس کی تعلیمات سے اپنے آپ کو سجاتا سنوارتا ہے وہ خود بھی نکھرتا ہے اور اپنے گردو نواح کو بھی منور کرتا چلا جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اسلام ایک ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اسلام انسان کے باطن کی اصلاح سے آغاز کرتا ہے، فکر کو پاکیزہ بناتا ہے، نیت کو درست کرتا ہے، کردار کو سنوارتا ہے، زبان و نگاہ کو آداب سکھاتا ہے، معاملات میں دیانت پیدا کرتا ہے، غصے کو ضبط، خواہشات کو اعتدال اور تعلقات کو حسنِ سلوک عطا کرتا ہے۔ یوں اسلام ایک عام انسان کو نیک، متوازن، باوقار شخصیت میں ڈھال دیتا ہے۔
شخصی نکھار کی ابتدا:
شخصیت کے نکھارکی ابتدا اسی وقت شروع ہو جاتی ہے کہ جب کوئی بندہ اسلام کے دامن سے وابستہ ہو کر ایمان لے آتا ہے۔گویا اسلامی شخصیت کی تعمیر کی خشتِ اوّل (پہلی اینٹ) ایمان ہے۔ایمان انسان کی زندگی کا زاویۂ نگاہ بدل دیتا ہے۔ جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ میں ایک حکیم و رحیم رب کا بندہ ہوں، میری زندگی بےمقصد نہیں، مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، میرے ظاہر و باطن سے اللہ پاک باخبر ہے، تو اس کے اندر ایک ایسی اخلاقی نگرانی پیدا ہوجاتی ہے جس کے لیے ہر وقت کسی پولیس، عدالت یا کیمرے کی ضرورت نہیں رہتی۔ پھر وہ تنہائی میں بھی خیانت سے بچتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ سچا مسلمان چھپ کر گناہ کرنے سے بھی ڈرتا ہے اس لیے کہ اُس کا یقین ہے کہ دنیا کی نگاہ سے چھپ جانا ممکن ہے اللہ کی نگرانی سے کسی طرح نہیں نکل سکتا۔ ایمان ہی انسان کے اندر خود احتسابی پیدا کرتا ہے۔دنیا کا رائج نظام انسان کو دوسروں کے سامنے اچھا بننے،اچھا دِکھنے کی ترغیب دیتا ہے جبکہ اسلام انسان کو اللہ پاک کی بارگاہ میں اچھا بننے کی تربیت دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے حقیقی شخصیت سازی شروع ہوتی ہے۔
اسلام پہلے باطن سنوارتا ہے:
باہر سے انسان جتنا بھی خوب صورت دکھائی دے، اگر دل میں تکبر، حسد، کینہ، بغض، خود پسندی، حرص اور ریا موجود ہے تو وہ اندر سے بیمار ہے۔ یقیناً نفس کی درستی شخصیت کے نکھار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نفس کی طہارت اور باطن کی پاکیزگی ہی تو ہے کہ جو انسان کو رشکِ ملائکہ بناتی ہے جبکہ نفس کی آلودگی انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر حیوان بنا دیتی ہے۔اسلام ایسے ہی بیمار باطن کی اصلاح کرتا ہے،اسے باطنی بیماریوں سے شفا عطا کر کے ایسا روشن و منور کر دیتا ہے کہ اس میں اخلاقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خوشبو اور سیرتِ طیبہ کی جھلک نمایاں ہونے لگتی ہے۔ اسلام حسد کے مقابلے میں خیر خواہی سکھاتا ہے۔تکبر کے مقابلے میں تواضع سکھاتا ہے۔ بخل کے مقابلے میں سخاوت سکھاتا ہے۔غصے کے مقابلے میں حلم سکھاتا ہے۔بدگمانی کے مقابلے میں حسنِ ظن سکھاتا ہے۔ انتقام کے مقابلے میں عفو و درگزر کی ترغیب دیتا ہے اور خود پسندی کے مقابلے میں بندگی کا شعور پیدا کرتا ہے۔ قرآن مجید کامیاب انسان کا یوں ذکر فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰)
ترجَمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔اور بیشک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپا دیا وہ ناکام ہوگیا۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے نفس کو برائیوں سے پاک کرنا کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ اور اپنے نفس کو گناہوں میں چھپا دینا ناکامی کا سبب ہے اور نفس برائیوں سے اُسی وقت پاک ہو سکتا ہے جب اللہ کریم اور اس کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کی جائے۔یہی اسلام کا شخصی نکھار ہے کہ انسان اپنے نفس کا مالک بنے، نفس کا غلام نہ بنے۔ اس لیے کہ اگر انسان عملی کاوشوں، محنت و ریاضت سے اخلاقِ حسنہ کو ا پنا لے تو انسانیت کی معراج کو پہنچ جاتا ہے اور اگر اخلاق ِ رذیلہ(گھٹیا عادتوں)اور افعالِ قبیحہ (برے کاموں) کا مرکب بن جائے تو وہ انسان کہلائے جانے کا حق بھی کھو دیتا ہے۔
جنہیں اسلام نے نکھارا:
یہ اسلام ہی ہے کہ جو اپنے ماننے والوں کو ایسا عمدہ، پاکیزہ اور اعلیٰ ظرف بنا دیتا ہے کہ مسلمان اپنی ضرورت کے باوجود مسلمان بھائی کو اپنے آپ پر ترجیح دیتا بلکہ کئی بار اس کے لیے اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہے جیسا کہ حضرتِ حُذَیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یرموک کی جنگ میں بہت سے صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان شہید ہوگئے۔ میں پانی ہاتھ میں لیے زخمیوں میں اپنے چچا زاد بھائی کو تلا ش کر رہاتھا، آخر اُسے پالیا، وہ دم توڑ رہے تھے، میں نے پوچھا : اے چچا زاد بھائی! آپ پانی نوش فرمائیں گے؟ کپکپاتی آواز میں آہستہ سے کہا: جی ہاں۔ اتنے میں کسی کے کَراہنے کی آواز آئی، جاں بَلَب چچا زاد بھائی نے اشارے سے فرمایا: پہلے اُس زخمی کو پانی پلا دیجیے۔ میں نے دیکھا وہ حضرت ہِشام بن عاص رضی اللہ عنہ تھے، اُن کی سانس اُکَھڑ رہی تھی میں انہیں پانی کے لیے پوچھ ہی رہا تھا کہ قریب ہی کسی نے آہ بھری۔ حضرت ہِشام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلے اُن کو پلائیے، میں جب اُن زخمی کے قریب پہنچا تو انہیں پانی پینے کی حاجت نہ رہی تھی کیوں کہ وہ شہادت کا جام پی چکے تھے۔ میں فوراً حضرت ہِشام رضی اللہ عنہ کی طرف لپکامگر وہ بھی شہید ہوچکے تھے۔ پھر میں اپنے چچا زاد بھائی کی طرف پہنچا تو وہ بھی شہید ہوچکے تھے۔([2]) اسی طرح چند درویش جاسوسی کی تہمت میں پکڑے گئے سرکاری حکم ہوا کہ ان کو قتل کیا جائے جب قتل کرنے لگے تو ہر ایک نے یہی تقاضا کیا کہ پہلے مجھے قتل کیا جائے تاکہ زندگی کے ایک دو سانس دوسرا بھائی حاصل کرے اور میں اس سے پہلے مارا جاؤں۔ بادشاہ نے یہ ایثار دیکھا، سب کو رہا کردیا۔([3]) جب کوئی انسان اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے تو اس کے ثمرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے خاندان اور پورے معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔ انفرادی سطح پر ایسے شخص کو ذہنی سکون، نظم و ضبط اور خوداعتمادی حاصل ہوتی ہے۔حسنِ سلوک، صلہ رحمی اور حقوق کی پاسداری کی بدولت خاندان میں محبت، تعاون اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔ معاشرتی سطح پر صدق، امانت، عفو اور حسنِ معاشرت جیسی صفات کی بدولت باہمی اعتماد، امن اور تعاون کی فضا قائم ہوتی ہے، جو کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسلام کا نظامِ شخصیت سازی اس قدر منظم ہے کہ فرد سے خاندان تک اور خاندان سے پورے معاشرے تک اس کے اثرات پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تو اسلام کے عطا کردہ شخصی نکھار کی ایک جھلک ہے ورنہ اسلام کی تعلیمات کا ہر گوشہ اپنے اندر انسان کی شخصیت کے کسی نہ کسی پہلو کو سنوارنے کا سامان رکھتا ہے۔ ایمان اسے مقصد دیتا ہے، عبادت اسے نظم دیتی ہے، تقویٰ اسے پاکیزگی عطا کرتا ہے، اخلاق اسے دل کش بناتے ہیں، معاملات اسے باوقار بناتے ہیں اور خدمتِ خلق اسے دوسروں کے لیے نفع بخش بناتی ہے۔ یوں اسلام انسان کے ظاہر و باطن، فکر و کردار اور انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس طرح سنوارتا ہے کہ اس کی شخصیت خود بھی خیر کا پیکر بنتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔(جاری ہے)
Comments