انگور
اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پسندیدہ پھلوں میں سے ایک پھل ”انگور“ بھی ہے۔([1]) انگور کو عربی میں ”عِنَبٌ“ اور انگلش میں Grapes کہتے ہیں، اس مبارک پھل کا ذکر قرآنِ کریم میں 11مقامات پر آیا ہے۔([2])چنانچہ ایک مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۶۷)
ترجَمۂ کنزُ العِرفان: اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کوئی پھل وہ ہے کہ اس سے تم نبیذ اور اچھا رزق بناتے ہو بیشک اس میں عقل مند لوگوں کیلیے نشانی ہے۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اِس آیت میں رزقِ الٰہی کے کچھ دوسرے خزانوں کا بیان کیا گیا جنہیں ان کی اصل حالت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور انسانی محنت کے بعد والی حالت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے چنانچہ فرمایا کہ اے لوگو! تم جوکھجور اور انگور کے بعض پھلوں کے رس سے نبیذ بنا کر پیتے ہو اور اچھا رزق یعنی چھوہارے، کشمش، سرکہ اورمُنَقّٰی بناتے ہو اس میں بھی تمہارے لیے غورو فکر کا مقام ہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بندوں پر عظیم نعمت ہے اور یہی اللہ کریم کی عظمت و شانِ تخلیق کی بھی دلیل ہے کہ وہی تمام چیزوں کا خالق ہے اوروہی ہر کام کی تدبیر فرمانے والا ہے۔([4])
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انگور تناول فرمانے کا مبارک انداز:
حضرتِ عبّاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انگور کے گچھے سے انگور کے دانے توڑ توڑ کر تناول فرما تے تھے۔([5])
انگور لانے والا نصرانی غلام دولتِ ایمان پاگیا:
ہجرتِ مدینہ سے قبل طائف کے سفر میں اہلِ طائف کی ایذا رسانی کے بعد جب حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک باغ میں درخت کے سائے میں تشریف فرما ہوئے تو باغ کے مالکان عتبہ اور شیبہ نے اپنے نصرانی غلام عَدَاس کے ہاتھ آپ کی خدمت میں انگور پیش کیے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بسم اللہ پڑھ کر انگور کھائے تو عداس تعجب سے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرۂ مبارکہ کو دیکھنے لگا اور بولا کہ اس شہر کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولتے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارا وطن کہاں ہے؟ عداس نے کہا کہ میں ”شہر نَینویٰ“ کا رہنے والا ہوں۔ رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: وہ حضرت یونس بن متی علیہ السّلام کا شہر ہے۔ عداس نے کہا کہ آپ اُن کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: وہ میرے بھائی ہیں اور وہ بھی میری طرح اللہ پاک کے نبی تھے۔ جب عداس کو معلوم ہوا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرت یونس علیہ السّلام کے بارے میں جانتے ہیں تو اسے یہ یقین ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں، چنانچہ اس نے محبت و عقیدت سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سر مبارک، ہاتھوں اور قدموں کا بوسہ لیا اور فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔([6])
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دنیا میں جنت کے انگور کھلائے:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو (دنیا میں) جنت کے انگور کھلائے۔([7])
انگور اور انار سے تسبیح کی آواز آنا:
حضرت امام محمد باقر رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیمار ہوئے تو حضرت جبریل علیہ السّلام ایک تھال میں انار اور انگور لائے۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تناول فرمانے کے لیے ان میں سے کچھ اٹھایا تو اس میں سے تسبیح (سبحٰنَ اللہ) کی آواز آئی۔([8])
انگور (Grapes) اور طب:
انگور ایک نہایت ہی مُفید پھل ہے، سوکھے ہوئے چھوٹے انگور کِشْمِش اور بڑے انگور مُنَقّٰی کہلاتے ہیں۔ انگور کے چند فوائد ملاحظہ کیجیے:
*انگور کھانے سے خون میں اضافہ ہوتا ہے۔*انگور جلد ہضم ہوکر بدن کا جزو بن جاتا ہے۔*رس دار انگور وٹامن سے بھرپور ہوتا ہے۔ *انگور بدن کو غذائیت پہنچانے اور قوت بڑھانے کے لیے بہترین چیز ہے۔*متوسط انسان کو 125سے250گرام تک انگور کھانا چاہیے۔*انگور جسم کو مُعْتَدِل اور پُرکشش بنانے میں دوا کا کام کرتا ہے۔ *انگور جسم میں موجود فاسِد مادَّوں کو خارج کرتا ہے۔ *نزلہ زکام، کھانسی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر بَلْغَمِی امراض میں بے حدمفید ہے۔ *مِعْدہ اور آنتوں کو جِلا بخشتا ہے۔ *جگر کو طاقت دیتا ہے۔ *انگور آنتوں کے زخم کے لیے فائدہ مند ہے لیکن 10سے 15دانے استعمال کیے جائیں۔ *انگور کھانے سے حَلْق کے امراض ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ *انگور امراضِ گردہ و مَثَانہ میں بھی مفید ہے۔ *اس کا رس گردے اور مثانے کی پتھری کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ *تُرش انگوروں کا رس آنکھوں کے درد کے لیے مفید ہے۔([9])
*روزانہ رات کو سات دانے بادام اور21دانے کشمش یعنی سوکھے ہوئے انگور (چھوٹے بڑے کوئی سے بھی ہوں )پانی میں بھگو دیجیے اور یہ دونوں چیزیں صبح دودھ کے ساتھ اور اچھی طرح چبا کر کھا لیجیے ، اِنْ شَآءَاللہ الکریم دردِ سر دُور ہو گا، قوت حافظہ کے لیے بھی یہ نسخہ مفید ہے۔([10]) *روزانہ کشمِش (خشک چھوٹے انگور جس کو پنجابی میں ”سوگی“ کہتے ہیں) کے 40دانے (اگر موافِق آتے ہوں تو دُگنے کرنے میں بھی حرج نہیں ) اور تین عدد بادام لے کر اس پر 11بار دُرُود شریف پڑھ کر دم کر کے کھا لیجیے اِس کے اوپر دو گھنٹے تک پانی نہ پئیں۔ اِن شآءَ اللہ الکریم کھانسی میں بَہُت فائدہ ہوگا۔ بلغم نکلے گا اور مزید نہیں بنے گا۔ (ضَرورتاً کشمِش کی تعداد بڑھا دیجیے)بَہُت چھوٹے بچّوں کے لیے حسبِ ضرورت مقدار کچھ کم کر دیجیے۔ تاحُصولِ شفا علاج جاری رکھیے۔([11]) *کھجور کے ساتھ انگور یا کشمش یا منقّٰی ملا کر کھانا مضر یعنی نقصان دہ ہے۔([12]) *چھوٹے بچوں کو قبض ہونے پر رات کو سونے سے پہلے تقریباً 25 گرام انگور کے دانے گرم دودھ کے ساتھ کھلائیں تو قبض دور ہو جاتی ہے۔*الٹی و متلی ہونے پر انگور کے دانوں پر تھوڑا نمک اور کالی مرچ چھڑک کر کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔([13])
نوٹ: ہر دوائی اپنے طبیب (ڈاکٹریا حکیم)کے مشورے سے استعمال کیجیے۔اس مضمون کی طبّی تفتیش حکیم رضوان فردوس عطّاری نے کی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments