صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

اپنے بزرگو ں کو یادرکھئے


جُمادَی الاُولیٰ اسلامی سال کا پانچواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، علمائے اسلام اور اَولیا و مشائخ عظام کا وصال ہوا، ان میں سے132کامختصر ذکر ماہنامہ فیضانِ مدینہ جُمادَی الاُولیٰ 1438ھ تا 1446ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے، مزید13 کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان:

(1)حضرت جابر بن عمرو بن زید بن عوف بن مبذول انصاری رضی اللہ عنہ انصارکے قبیلہ بنو مازن بن نجار سے ہیں۔ ان کے تین بھائی قیس،حارث اور ابوکلاب ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے غزوۂ موتہ (جمادی الاولیٰ8ھ)میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ([1])

(2)حضرت حارث بن نعمان بن اساف انصاری خزرجی نجاری رضی اللہ عنہ اُحد اور مابعد کے غزوات میں شامل رہے۔ آپ نے غزوۂ موتہ (جمادی الاولیٰ8ھ) میں شہادت پائی۔([2])

عُلَمائے اسلام رحمہمُ اللہ السّلام:

(3)جامع معقول و منقول حضرت علامہ مفتی ابوالفتح فاروقی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش تھانیسر، ہریانہ، ہند کے علمی گھرانے میں ہوئی اور 8جمادی الاولیٰ 976ھ کو آگرہ، یوپی ہند میں وصال فرمایا۔آپ بہترین مدرس، استاذ العلماء اور کثیرالتلامذہ تھے۔ 50سال محلہ میررفیع الدین صفوی، آگرہ، ہند میں مسند تدریس پر فائز رہے۔([3])

(4)افضل المحدثین حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش تقریباً 1225ھ کو سہارن پور، یوپی ہند میں ہوئی اور یہیں 6جمادی الاولیٰ 1297ھ کو وفات پائی۔ آپ حافظِ قرآن، عالم جلیل، شیخ الحدیث، محشی و مصحح صحاح ستہ، بانی مطبع احمدی دہلی اور اکابر علمائے ہند سے تھے۔([4])

(5)حضرت علامہ سید ابوسرور محمد عیدالقاسمی گیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش یوم عیدالاضحیٰ 1287ھ کو ہوئی اور 6جمادی الاولیٰ 1335ھ کو وصال فرمایا، تدفین باب الصغیر قبرستان میں کی گئی۔ آپ نے علم دین اپنے والد، شیخ عمر عطار اور دیگر علمائے عصر سے حاصل کیا، آپ بطور وکیل مظلومین کے حق کا دفاع فرمایا کرتے تھے۔([5])

(6)حضرت شیخ احمد بن عبداللطیف خطیب منکاباوی جاوی مہاجرمکی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1276ھ میں کوتاکارنغ، مینا نکاباؤ، مغربی سماٹرا، انڈونیشیا کے علمی گھرانے میں ہوئی اور 9جمادی الاولیٰ 1334ھ کو مکہ مکرمہ میں وصال فرمایا، معلیٰ قبرستان میں تدفین کی گئی۔آپ حافظ قرآن، ماہر علوم اسلامیہ قدیمہ و جدیدہ مثلاً ریاضی، جبر و مقابلہ و ہندسہ، علم توقیت و زیج وغیرہ، صحبت یافتہ شیخ محمد صالح کردی،مدرس باب زیادہ مسجد الحرام، حسن اخلاق کے پیکر، مقبول خاص و عام، 46عربی و ملاوی کتب کے مصنف تھے۔([6])

(7)حضرت مولانا احمد دین مکھڈوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1307ھ میں مکھڈشریف کے علمی گھرانے میں ہوئی اور یہیں 3جمادی الاولیٰ 1389ھ کو وصال فرمایا۔ آپ ذہین و فطین، حافظ قرآن، بہترین عالم دین، شیخ طریقت، کثیر المطالعہ اور مدرسہ خانقاہ معلی مولانا محمد علی مکھڈوی کے کہنہ مشق مدرس تھے۔ مشہور علما مولانا محمد دین مکھڈوی اور مولانا غلام زین الدین ترگوی آپ کے بھائی ہیں۔([7])

(8)استاذالعلماء حضرت مولانا حافظ محمد اکبر رضوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش موضع جال پپلاں ضلع میانوالی کے علمی گھرانے میں ہوئی اور پپلاں میں 16جمادی الاولیٰ 1442ھ کو وصال فرمایا۔ آپ حافظ قرآن، جید عالم دین، تلمیذ محدث اعظم پاکستان، فاضل جامعہ محمودیہ رضویہ پپلاں و جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد، استاذ مدارس اہل سنت اور بہترین مدرس تھے۔ مشہور واعظ مولانا عطاء المصطفیٰ جمیل مرحوم آپ کے شاگرد ہیں۔([8])

اولیا ومشائخ کرام رحمہمُ اللہ السّلام:

(9)شہزادہ غوث الوریٰ حضرت سیدعبدالرحیم قادری رحمۃُ اللہ علیہ صاحب کشف و کرامات، جامع فیوضات ظاہری و باطنی اور کثیر الفیض تھے، جوانی میں سورت آئے اور زندگی بھر رشد و ہدایت میں مصروف رہے۔ وصال 7جمادی الاولیٰ 1247ھ کو فرمایا، مزار سورت، صوبہ گجرات، ہند میں ہے۔([9])

 (10)حضرت شیخ سید محمد بدر الدین زعبی جیلانی طرابلسی رحمۃُ اللہ علیہ عالم و فقیہ، خطیب، مدرس اور امام جامع منصوری کبیر، خطیب العطار، سجادہ نشین خانقاہ محلہ سویقہ، مؤثر واعظ، صاحب کرامات ولی اللہ، قطب و غوث، مرشد و مربی، مجمع طرق سلاسل، سلسلہ قادریہ رفاعیہ بدویہ دسوقیہ شاذلیہ نقشبندیہ اور خلوتیہ کے شیخ طریقت تھے۔ آپ کا وصال جمادی الاولیٰ 1279ھ کو قسطنطنیہ میں ہوا، تدفین مقبرہ یحییٰ آفندی بشکطاش میں کی گئی۔([10])

(11)حضرت مولانا میاں محمد شریف چشتی سیالوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش دربارِعالیہ حضرت میاں حفیظ ماہی سرکی شریف، وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں 1287ھ کو ہوئی اور یہیں 25جمادی الاولیٰ1335ھ کو وصال فرمایا، آپ عالم باعمل، مرید خواجہ شمس العارفین، خلیفہ خواجہ محمد دین سیالوی، بہترین مدرس، طلبہ کے خیرخواہ اور دربار عالیہ سرکی شریف کے پہلے سجادہ نشین تھے۔([11])

(12)واعظ خوش بیاں حضرت مولانا پیر سید ظہور احمد شاہ بخاری قادری رحمۃُ اللہ علیہ جمال ظاہری و باطنی سے متصف، حافظ قرآن، عالم دین، صاحب دیوان شاعر، سلسلہ قادریہ کے شیخ طریقت، 13سے زائد کتب کے مصنف، پُراثر مبلغ اور کثیرُ الفیض تھے۔ آپ کی پیدائش1306ھ کو جلال پورجٹاں ضلع گجرات میں ہوئی اور 22 جمادی الاولیٰ 1372ھ کو وصال فرمایا۔ مزار مبارک (دربارظہوری) منارہ شریف تحصیل کلر کہار ضلع چکوال میں ہے۔([12])

(13)پیرسلطان غلام سرور قادری رحمۃُ اللہ علیہ مشہور ولی اللہ سلطان باہو کے خاندان سے تھے۔ بیعت شیخ سید علی حیدر گیلانی بغدادی سے کی، نانا سلطان غلام نبی قادری کے جانشین تھے، وفات 4 جمادی الاولیٰ 1408ھ کو موضع موہڑا تھتھال، تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں ہے۔([13])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی



([1])الاصابہ،1/550-استیعاب، 1/360

([2])الاصابہ،1/694

([3])آگرہ کے 283اولیائے کرام کی سیرت، ص467، 468

([4])حدائق حنفیہ، ص510،حیاتِ محدثِ اَلوَرِی،ص149تا152

([5])اتحاف الاکابر،ص428

([6])المختصر الحاوی، ص115تا119

([7])تذکرہ علمائے اہل سنت ضلع اٹک، ص210تا215

([8])تذکرہ علمائے اہل سنت میانوالی،ص93، 94

([9])تذکرۃ الانساب،ص 143

([10])اتحاف الاکابر،ص460تا462

([11])خوشاب سرزمین اولیاء،ص314تا317

([12])تذکرہ اکابراہل سنت،ص198تا200

([13])گوجر خان کے سہروردی مشائخ،ص 30


Share