استادِ محترم کی یادیں
ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے سابقہ مدیر، استادِ محترم حضرت علامہ مولانا ابورجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ کے وصال پر کثیر طلبہ کرام نے ان کے بارے میں اپنی محبت، جذبات اور یادگار باتوں کا اظہار کیا، ان میں سے چند منتخب ملاحظہ کیجیے!
*استاد صاحب نہایت شفیق خوش طبع تھے، وہ طلباء جو مالی اعتبار سے کمزور ہوتے تھے ان کی معاونت بھی کردیا کرتے تھے۔ اللہ پاک استاد محترم کی خدماتِ دینیہ قبول فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
*درجہ اولیٰ سے ہی عشقِ مرشد کے جام پلاتے تھے اور وقتا فوقتاً دینی کام کرنے والے طلبا کی امیرِ اہلِ سنت سے ملاقات کروا دیا کرتے تھے علاوہ ازیں سنتوں پر عمل کی نیت کرواتے تھے۔
*زمانۂ طالب علمی میں استاد محترم کے ساتھ بہت خوشگوار لمحات گزرے۔ استادِ محترم کی یہ شفقت تھی کہ جب بھی ملاقات ہوتی، حال احوال دریافت فرماتے اور ہمیشہ ایک سچے غمخوار کی طرح مشکلات میں ساتھ دیتے۔ اللہ پاک استاد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے صدقے میری بھی مغفرت فرمائے۔ آمین۔
*میرا تعلیمی ذوق دیکھتے ہوئے میری راہنمائی کرتے رہے اور میرا پی ایچ ڈی تک کا سفر مکمل کروا دیا۔
*فضول اور لمبی کالز پر وقت ضائع کرنے سے کیسے بچا جائے، یہ میں نے استادِ محترم ہی سے سیکھا۔ ان کی اس تربیت کا اثر آج تک قائم ہے کہ میں ایک دو منٹ میں فون پر مکمل بات کر لیتا ہوں۔اور وقت ضائع نہیں کرتا۔
*استاد صاحب کو فتاویٰ رضویہ شریف سے بہت محبت بھی تھی اور وہ محبت آپ کی شخصیت میں اس طرح نظر آتی تھی کہ آپ کو فقہی جزئیات اچھے بھلے معلوم تھے۔
*بہت شفیق اور اپنائیت والے اساتذہ میں سے تھے، آپ سے جس کسی نے بھی ایک مرتبہ پڑھا ہے وہ یقیناً کبھی آپ کو بھلا نہیں سکے گا۔
*ایک مرتبہ میں نے خواب دیکھا کہ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مجھے تعویذ دیا ہے، جاگنے کے بعد جب جامعۃ المدینہ پہنچا تو استادِ محترم نے مجھے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا لکھا ہوا تعویذ تحفۃً دیا جس میں اسمِ جلالت ”اللہ“ لکھا ہوا تھا ۔حالانکہ میں نے استادِ محترم کو کچھ نہیں بتایا تھا۔
*درجہ سابعہ میں آپ سے فنِ فصاحت و بلاغت کے موضوع پر کتاب ”مطوّل“ پڑھنے کی سعادت ملی ان کو بہت شفیق پایا۔ مشکل ترین اسباق و عبارات بھی بہت آسان و سہل کر کے پڑھاتے تھے انتہائی ملنسار، اعلیٰ اخلاق کے حامل، شفیق، بہترین ناصح، دعوتِ اسلامی اور بانیِ دعوتِ اسلامی کی محبت کے جام پلانے والے، فنا فی الشیخ، کتب کے مطالعہ کا شوق دلانے والے، دعوتِ اسلامی کے دینی کام کرنے کا جذبہ بڑھانے والے اور عشقِ مصطفیٰ و خوف خدا رکھنے والی شخصیت تھے۔
*استادِ محترم سےعلم ِ صَرف پڑھا، آپ نہایت مشفق و مہربان، حوصلہ افزائی و دلجوئی کرنے والے تھے، عامہ کے امتحان میں پورے پاکستان میں پہلی پوزیشن پر استاد صاحب نے امیر ِ اہلِ سنت کا قلم تحفے میں دیا تھا۔
*استاد صاحب کے حدیث پڑھانے کا انداز نہایت جداگانہ تھا، احادیثِ کریمہ کی تفہیم کے لیے موجودہ زمانے سے جو مثالیں بیان فرماتے ان کا جواب نہیں۔
*استادصاحب خود دورہ حدیث شریف سے فراغت پاکر جب سن 2001میں عالمی مدنی مرکز میں مسندتدریس پر تشریف لائے تو ہمارے درجے میں بھی پیریڈ تھا۔ وہ تدریس کے ساتھ ساتھ موقع بہ موقع ہمیں مرشد کریم کی بارگاہ میں حاضری کے آداب سکھایا کرتے تھے ان کی ایک بات آج بھی یاد ہے کہ ”امیرِاہلِ سنت کی بارگاہ میں حاضری کی وجہ سے جامعۃ المدینہ کی پڑھائی ڈسٹرب نہیں ہونی چاہیے بلکہ پڑھائی میں بھی ممتاز رہناہے۔“ استاد صاحب کی اس نصیحت کی وجہ سے بعض دنوں میں ہمیں ساری رات امیرِ اہلِ سنت کی بارگاہ میں حاضری کی وجہ سے اگرچہ بعدفجر سونے کی حاجت رہتی لیکن ہم لوگ کچھ آرام فجر کے بعد کلاس سے پہلے پہلے تک کرلیتے اور بقیہ آرام کلاس کے بعد، لیکن کلاس کسی صورت مِس نہ کرتے بلکہ اس دن کے اسباق کی تیاری اہتمام کے ساتھ کرتے تھے۔
اس نصیحت کی برکت سے جامعۃ المدینہ میں تقریباً 8سال تدریس کاموقع نصیب ہوا اور تدریس کے ساتھ ساتھ اپنے شہر مظفرگڑھ میں تنظیمی ذمہ داریاں بھی رہیں مگر ان دونوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے دوسرے کام میں کمی و کوتاہی نہیں آنے دی، اسی نصیحت کی برکتیں آج تک پارہاہوں۔ اَلحمدُ لِلّٰہ!
*ایک بار استادِ محترم سبق کی وضاحت فرما رہے تھے کہ میں درمیان میں ہی بول پڑا تو اس وقت استاد صاحب نے مزاحاً ارشاد فرمایا کہ یہ وہ محشی ہے جو کتاب لکھنے سے پہلے حاشیہ لگاتا ہے۔
*استادِ محترم کا انداز تدریس بہت ہی انوکھا اور دلچسپ تھا، آپ پڑھانے کے ساتھ بہترین تربیت بھی فرماتے تھے اور شریعت کی خود بھی پابندی کرتے اور طلباء کو بھی بھرپور ذہن دیتے تھے۔
*دورانِ تعلیم ہر پیریڈ یاد گار ہے،خصوصاً ان کی مسکراہٹ اور تفہیم درس کا انداز اور دوران درس ہلکی ہلکی سی خوش طبعی کبھی بھی بھولنا ممکن نہیں۔
*استاد صاحب تعلیم کے ساتھ تربیت بھی فرمایا کرتے تھے بعض اوقات طلباء کو کھڑا کرکے شفقت بھرے انداز میں کلاس میں راؤنڈ لگا کر دیکھتے تھے کہ کس کس کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر سنت کے مطابق ہیں۔
*استادِ محترم دورانِ تدریس گاہے گاہے امیرِ اہلِ سنت کا ذکر فرماتے تھے اور ساداتِ کرام کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے تھے۔اللہ کریم استادِ محترم کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
*میں استاد صاحب کے شہر گوجرہ (ضلع ٹوبہ دارالسلام، پنجاب) کا رہنے والا ہوں، ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ استاد بطورِ خاص اپنے طالب علموں سے ملنے جائے لیکن قربان جاؤں میرے مرحوم استادِ محترم پر کہ آپ جب بھی گوجرہ تشریف لاتے خود ملنے کے لیے تشریف لایا کرتے میرے اصرار کے باوجود فرماتے کہ میں خود حاضر ہو جاؤں گا ایسی کمال عاجزی قربان جاؤں، اور جب بھی تشریف لاتے، مرشد کی باتیں کیا کرتے مرشد کے عطا کردہ تبرکات بھی عطا فرما کر جایا کرتے تھے، پھر میں چونکہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ گوجرہ میں ہی پڑھاتا ہوں تو چند بار میرے عرض کرنے پر استادِ محترم نے جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ گوجرہ میں طلباء کرام کی تربیت کیلیے خصوصی وقت عطا فرمایا۔ استادِ محترم اپنی والدہ کی خدمت کے لیے وقتاً فوقتاً میرے اکاؤنٹ میں رقم بھیجا کرتے اور فرماتے کہ میری والدہ کو یہ رقم پیش کر آئیں اور ان سے دعاؤں کا بھی کہہ دینا۔ اللہ پاک میرے پیارے استادِ محترم کی قبر کو گل و گلزار بنائے۔ آمین
*درجہ خامسہ میں ان سے پڑھا تھا اور مجھ سے بڑے شوق سے نعت شریف سنتے تھے اور بڑی محبت سے پیش آتے تھے اور جہاں ملتے تو مختلف نیک لوگوں سے تشبیہ دیا کرتے تھے کبھی فرماتے آپ کا عمامہ فلاں جیسا بندھا ہوا ہے،آپ کی شکل فلاں عالم صاحب سے ملتی ہے وغیرہ
* ایک مرتبہ مرحوم استادِ محترم مولانا آصف مدنی علیہ الرَّحمہ نے مجھے پیسے دے کر فیضانِ مدینہ کی کینٹین سے دال اور چپاتی لانے کو فرمایا۔ جب میں دال چپاتی لے کر حاضر ہوا تو استادِ محترم جو اس وقت تصنیفی کام میں مصروف تھے مجھ سے فرمایا سالن میں روٹی چور دو (یعنی ثرید بنا دو) پھر جب میں نے کھانا پیش کیا تو فرمایا: یہیں بیٹھ جاؤ۔ ابھی بمشکل پانچ منٹ گزرے تھے کہ آپ کھانے سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔میں یہ سب دیکھ کر حیران تھا۔ میری حیرت کو بھانپ کر فرمایا:حیران کیوں ہوتے ہو؟ ہمارا یہی معمول ہے کہ جتنا وقت بچے، اسے بچا کر دینی کام میں صرف کیا جائے اور وقت کو ضائع نہ کیا جائے۔ پھر فرمایا: جب میں طلبہ کو ایک ایک گھنٹہ دسترخوان پر بیٹھے فضول باتوں میں وقت برباد کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ یہ دین کے طلبا ہیں اور اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔
*تقریباً 2020ء کی بات ہے، جب شوخیلے، بھڑکیلے اور چمکیلے جبے چل پڑے تھے۔ میں نے بھی پہننا شروع کر دیا تھا۔ ایک مرتبہ کلاس میں ایسا ہی جبہ پہن کر بیٹھا تھا تو استادِ محترم مولانا آصف مدنی علیہ الرَّحمہ نے نہایت محبت بھرے اور دلنشیں انداز میں میری تربیت فرمائی۔ اس کے بعد میں نے وہ جبہ کبھی نہیں پہنا۔
کئی دن بعد ایک روز استادِ محترم نے تمام طلبۂ کرام کے سامنے مجھے مسند کے قریب بلایا۔ ایک شاپر میں سے عمامہ شریف نکال کر مجھے تحفے میں عطا فرمایا اور میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: دیکھو! انہیں میں نے منع کیا تو انہوں نے وہ شوخیلے، بھڑکیلے چمکیلے جبے پہننا چھوڑ دیے۔ پھر فرمایا کہ یہ وہی عمامہ شریف ہے جو امیرِ اہلِ سنت نے مجھے عطا فرمایا تھا۔استادِ محترم کی اس کمال شفقت، تربیت اور دل جوئی پر قربان جاؤں!
Comments