کیسے سمجھائیں ؟

کیسے سمجھائیں ؟

‏ایک شخص کابیان ہےدو ماہ سے کوئی میرے دروازے پر روزانہ کچرا پھینک کر چلا جاتا بڑی کوشش کے باوجود کچرا پھینکنے والا پکڑ میں نہیں آیا،اہلیہ نے کہا”یقیناً یہ محلے کا کوئی ایسا شخص ہے جو فجر کی نماز کے لیے جاتا ہوگا اور جاتے ہوئے یہ حرکت کر جاتا ہوگا۔“یہ بات سن کر میں خاموش ہو گیا، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ میں خود فجر کی نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتا تھا، اکثر دس بجے آنکھ کھلتی اور فجر قضا کر لیتا۔ایک دن میں نے اپنی بیوی سے فجر میں اٹھانے کا کہاتو وہ حیران ہوگئی کہ یہ آج سورج مشرق کی بجائے مغرب سےکیسے نکل رہا ہے!خیر بیوی نے مجھے اگلے روز فجر کے وقت اٹھادیامیں نے اٹھتے ہی کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو دروازے پر کچرا موجود نہیں تھا فٹافٹ وضو کیاکھڑکی کے پاس ہی مصلیٰ بچھایااور دو رکعت سنت پڑھ کرپھر سے جھانک کر دیکھا تو کچرا دروازے پر پڑا میرا منہ چڑارہا تھا۔ خیر پھر دو رکعت فرض پڑھ کر دوبارہ سوگیااگلے دن سنتوں کےبعد فرض پڑھ کرفارغ ہوا تو کچرا دروازے پردیکھ کر دماغ خراب ہوگیا۔چار دن اِسی طرح گزرگئےلیکن میں کچرا پھینکنے والے کوپکڑ نہیں پایا،پانچویں دن اہلیہ کہنے لگیں ماشآء اللہ! اب فجر کی نماز پڑھنے لگے ہیں تو مسجد میں باجماعت نماز پڑھ لیا کیجیے،بات دل کو لگی اورپانچویں دن سنتیں گھر میں پڑھ کرجماعت سے 10 منٹ پہلےدروازے پر کرسی لگا کربیٹھ گیا اور محلے کے نمازی حضرات کومسجد جاتےہوئے دیکھنے لگاکہ کس نمازی کے ہاتھ میں کچرے کا شاپر ہےلیکن افسوس سارے خالی ہاتھ آتے دکھائی دئیے، نماز پڑھ کرگھر آیا تو دروازے پر کچرا موجود نہیں تھا ایک ہفتے مسلسل پابندی سے باجماعت نماز پڑھنے کے بعد میں نے اہلیہ سے کہا، بیگم! اب کچراپھینکنے والا شاید ڈر گیا ہے جب ہی کچرا نہیں پھینک رہا، اب آپ مجھے فجر کے وقت نہیں اٹھانا۔ اہلیہ کچھ نہیں بولیں اگلے دن اہلیہ نے تو مجھے نہیں اٹھایا البتہ میری خود آنکھ کھل گئی، کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو کچرا دروازے پر موجود تھا ٹائم دیکھا تو فجر کا وقت تو باقی تھالیکن جماعت نکل چکی تھی، اب اگلے دن پھر وہی معمول تھا، دو ہفتے مسلسل فجر کی نماز باجماعت پڑھتا رہا اور دروازہ صاف ستھرا ملتا رہا دو ہفتے بعد اب میری جماعت سے فجر کی نماز پڑھنے کی عادت ہوچکی تھی اور الحمدللہ! میں با جماعت فجر کی نماز پڑھنا شروع ہوگیا پھر کچھ دن بعد رات کے کھانے میں اُس کچرا پھینکنے والے کا ذکر آگیا میں اُسے برابھلا کہنے لگا بیٹا بولا ابو آپ اُسے بُرا تو نہ کہیں بلکہ وہ تو آپ کا محسن ہے جس کی وجہ سے آپ فجر کی نماز باجماعت پابندی سے پڑھنے لگے ہیں، بیٹے کی بات سن کر میرے دماغ کو جھٹکا سا لگا اور سب کو غور سے دیکھنے لگا،مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئےسارے ہنسنے لگے بیٹا کہنے لگا ابو آپ کی وہ محسن اور کوئی نہیں بلکہ امی ہیں آپ امی کا شکریہ ادا کیجیےمیں نے اہلیہ کو دیکھا تواہلیہ مسکرا نے لگیں۔

اس واقعہ سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں صرف بیگانوں ہی کی نہیں بلکہ اپنوں کی اصلاح و بہتری پر بھی توجہ دینی چاہیے بلکہ جو اپنے ہوں اُن کے اپنے ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں اگر کوئی دینی و دنیاوی خرابی ہو تو اسے دور کرنے پر سنجیدگی سے اور بھرپور انداز میں توجہ دینی چاہیے۔اور پھر ملازم ہو، بچہ ہو، بیوی ہو، دوست ہو  یا کسی کو بھی سمجھانا ہو تو Positive انداز رکھنا چاہیے اگر سب کےسامنے  سمجھائیں گے، ذلیل کریں گے یا باتیں سنائیں گے تو اصلاح نہیں ہو پائے گی۔ مثلاً شوہر اگر اپنی بیوی سے شاکی ہو کہ وہ بات نہیں سمجھتی تو اسے خود غور کرنا چاہیے کہ اس نے سمجھانے کا انداز کیسا رکھا۔

یہ حکایت دراصل صرف ایک شخص کے فجر کی نماز کی طرف لوٹ آنے کا واقعہ نہیں، بلکہ کسی کی اصلاح اور ذہن سازی کرنے اور رفتہ رفتہ راہِ راست پر لانے کے ایک نہایت حکیمانہ طریقۂ کار کی تصویر ہے۔ غور کیجیے کہ اگر اس شخص کی اہلیہ شروع ہی میں اسے طعنہ دیتیں، ملامت کرتیں، یہ کہتیں کہ ’’تم نماز نہیں پڑھتے، اسی لیے تمہارے گھر کے باہر کچرا پھینکا جاتا ہے‘‘ یا کوئی بھی منفی طریقہ اختیار کرتیں تو ممکن ہے وہ اپنے دفاع میں مزید ضد اختیار کر لیتا؛ لیکن انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس نے اس کے اندر خود احتسابی کا دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے حکم نہیں دیا، الزام نہیں لگایا، بلکہ ایک سادہ سا جملہ کہا اور اس جملے نے اس شخص کو اپنے عمل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ پھر جب اس کے اندر نمازِفجر کی طرف آنے کا ارادہ پیدا ہوا تو انہوں نے اسے سہارا دیا، آہستہ آہستہ مسجد کی جماعت کی طرف متوجہ کیا ۔

 یہاں سے ہمیں سمجھانے کی ایک بہت بڑی حکمت ملتی ہے کہ انسان کو بدلنے کے لیے ہمیشہ اسے اپنی غلطی کا ڈائریکٹ ذکر کرنا اور اس پر بات کرنا ضروری نہیں، بلکہ اصلاح کی راہ میں چیونٹی کی سی چال چلنا اور جس کی اصلاح کرنی ہے اسے اس مقام تک پہنچانا ضروری ہے جہاں وہ خود اپنی اصلاح کا فیصلہ کرے۔ اصلاح وہ زیادہ پائیدار ہوتی ہے جو مسلط نہ کی جائے بلکہ سامنے والے کے دل میں اچھے مثبت جذبے جگا دے۔ ایک داعی، ایک استاد، ایک والد، ایک شوہر، ایک مربی اور ایک ذمہ دار شخص کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر انسان ایک ہی انداز سے نہیں سمجھتا؛ کسی کو دلیل چاہیے تو کسی کو اپنائیت، کسی کو واقعہ تو کسی کو اپنے سوال کا جواب، کسی کو خاموشی تو کسی کو وہ لمحہ درکار ہوتا ہے جس میں وہ خود اپنے اندر جھانک سکے۔

 سمجھانے کا فن یہ نہیں کہ ہم اپنی بات ہر قیمت پر فوراً و جبراً منوا لیں، بلکہ یہ ہے کہ سامنے والے کے دل میں اپنی بات اس طرح اتار دیں کہ ہماری بات اس کا اپنا نظریہ بن جائے اور نتیجتاً وہ اس پر عمل پیرا ہو جائے۔

اس حکایت میں نہ لمبی تقریر ہوئی، نہ ڈانٹ پڑی، نہ کوئی بحث ہوئی، نہ الزام تراشی ہوئی؛ صرف ایک مناسب موقع، ایک مختصر جملہ، مسلسل حوصلہ افزائی اور بتدریج کوشش نے ایک غافل انسان کو پہلے نمازِفجر کے لیے بیدار ہونے اور فجر کی نماز پڑھنے پر آمادہ کیا، پھر مسجد اور جماعت تک پہنچایا، اور بالآخر اس عملِ خیر کو اس کا باقاعدہ معمول بنا دیا۔ اس لیے اگر ہم واقعی کسی کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اصلاح کے لیے کون سا طریقہ اپنایا جائے اور کس سے گریز کیا جائے۔ اصلاح کے لیے کیا بات کرنے کی ہے اور کیا بات نہیں، کب بات کرنی ہے اور کب نہیں، کس حد تک بات کرنی ہے اور کب خاموش ہونا ہے۔

لہٰذا اگر ہم کسی کی اصلاح چاہتے ہیں مگر اصلاح کا اچھے اور حکمت بھرے طریقے سے ناواقف ہیں یا خوش مزاج و نرم طبیعت سے محروم ہیں، یا سامنے والے کی اصلاح دلائل سے ہوگی اور ہم دلائل سے ناواقف ہیں تو ہمیں خود اصلاح کرنے کے بجائے یہ اہم کام کسی صحیح شخص کے ذمے لگا دینا چاہیے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-

ترجَمۂ کنز العرفان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو۔(پ14، النحل:125)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ پاک ہمیں ہمدردی بھرے انداز میں دوسروں کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلس شوریٰ دعوت اسلامی


Share