کتبِ سابقہ کی تصدیق اور عقیدہ ختم نبوت


کتبِ سابقہ کی تصدیق اور عقیدہ ختم نبوت


اللہ کریم نے قرآنِ کریم کو متعدد مقامات پر سابقہ آسمانی کتابوں کا ”مُصَدِّق“ یعنی تصدیق کرنے والا ارشاد فرمایا ہے۔ یہ حکم کبھی ”مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ“ کی صورت میں، کبھی ”مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ/مَعَهُمْ“ کی صورت میں، اور کبھی ”تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ“ کی صورت میں وارد ہوا ہے۔ بظاہر یہ الفاظ صرف یہ بتاتے ہیں کہ قرآنِ کریم پچھلی کتابوں کی تائید کرنے والا ہے، لیکن غور کیا جائے تو یہی الفاظ درحقیقت ایک نہایت اہم اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: وہ یہ کہ آسمانی وحی کا ایک متواتر سلسلہ رہا ہے جس میں ہر کتاب اپنے سے پہلے اور بعد والے پیغامِ الٰہی کا ذکر کرتی ہے، سابقہ تمام کتابوں نے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آنے کا بھی ذکر کیا، لیکن قرآنِ کریم، برھانِ رشید نے صرف اپنے سے پہلی کتب کی تصدیق فرمائی، اپنے سے بعد کسی بھی پیغام کے آنے، یا کتاب آنے یا نبی آنے یا ان کے تصدیق کرنے کے بارے میں کچھ بھی نہیں فرمایا، جو کہ بالکل واضح اور صاف دلیل ہے کہ یہ کائنات کے لیے خالقِ کائنات کا آخری پیغام ہے۔

آئیے ذیل میں ”قرآن کتبِ سابقہ کا مصدّق اور عقیدہ ختم نبوت“ کے حوالے سے تفصیل ملاحظہ کرتے ہیں:

قرآنِ کریم کا سابقہ کتابوں پر نگہبان ہونا:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور اے حبیب!ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری جو پہلی کتابوں کی تصدیق فرمانے والی اور ان پر نگہبان ہے تو ان (اہلِ کتاب) میں اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرو ۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح:

”مُصَدِّقًا“ کا معنی ہے سابقہ کتابوں کے اصل و حقیقی مضمون کی تصدیق، جبکہ ”مُهَیْمِنًا“ کا معنی ہے نگہبان۔ گویا قرآنِ کریم صرف سابقہ کتابوں کی تائید نہیں کرتا بلکہ ان پر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے کہ ان میں سے کیا حق ہے اور کیا تحریف زدہ باطل۔ یہ وہی منصب ہے جو ایک آخری اور حتمی سند کو حاصل ہوتا ہے، جس کے بعد کسی اور سند کی حاجت نہیں رہتی۔ اور یہ منصبِ ”نگہبانی“ اسی وقت مکمل معنی رکھتا ہے جب قرآن کریم اس سلسلے کی آخری اور فیصلہ کن کتاب ہو۔ اگر قرآن کے بعد کسی اور وحی کے نزول کا دعویٰ مانا جائے تو یہ قرآنِ کریم کے اس منصب کے خلاف اور قرآن کے اس فرمان کا انکار ہے۔ یہ آیت ختمِ رسالت و نبوت و وحی سب پر دلیل ہے۔

” قرآنِ کریم کتب سابقہ کا مصدّق“ مزید آیات:

کتبِ سابقہ کے مصدق ہونے کا مفہوم کئی آیات میں وارد ہے جیسا کہ سورۂ اٰل عمران میں ہے:

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ(۳)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری جوپہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس نے اس سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ الانعام میں ہے:

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ-

ترجَمۂ کنز العرفان: اور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے،پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لیے (اتری) تاکہ تم اس کے ذریعے مرکزی شہر اور اس کے اردگرد والوں کو ڈر سناؤ ۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۂ فاطر میں ہے:

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِؕ-

ترجَمۂ کنز العرفان: اور وہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے وہی حق ہے، اپنے سے پہلے موجود کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی ۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ البقرۃ میں ہے:

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۹۷)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اے محبوب!تم فرمادو:جو کوئی جبرئیل کا دشمن ہو (توہو) پس بیشک اس نے توتمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ اتارا ہے، جو اپنے سے پہلے موجود کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ پاک نے متعدد مقامات پر یہود و نصاریٰ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ یہ قرآن ان کی اپنی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے، اس لیے ان پر ایمان لانا اولیٰ اور واجب ہے، اور جو انکار کریں وہ اپنے اوپر خود حجت قائم کررہے ہیں، چنانچہ سورۃ البقرۃ میں ہے:

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ

ترجَمۂ  کنزالعرفان: اور ایمان لاؤ اس (کتاب)پر جو میں نے اتاری ہے وہ تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے ۔([6])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْۙ-

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب آئی جو ان کے پاس (موجود) کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے ۔([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗۗ-وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْؕ-

ترجَمۂ کنزالعرفان:اور جب ان سے کہا جائے کہ اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں: ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں جو ہمارے اوپر نازل کیا گیا اور وہ تورات کے علاوہ دیگر کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ(قرآن) بھی حق ہے ان کے پاس موجود(کتاب) کی تصدیق کرنے والا ہے۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ النسآء میں ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا(۴۷)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اے کتاب والو! جو ہم نے تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرنے والا (قرآن) اتارا ہے اُس پر ایمان لے آؤ،اِس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں پھر انہیں ان کی پیٹھ کی صورت پھیر دیں یا ان پر بھی ایسے ہی لعنت کریں جیسے ہفتے والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم ہوکر ہی رہتا ہے۔([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سابقہ قصص کا بیان اور ان کی تصدیق:

قرآنِ کریم نے سابقہ انبیاء کے قصص، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ، اس تفصیل اور صحت کے ساتھ بیان فرمائے جو کسی امی نبی کے لیے انسانی ذرائع سے ممکن نہ تھا۔ یہ خود تصدیق کی ایک اور صورت ہے جو نبوتِ محمدی پر دلالت کرتی ہے اور یہ سابقہ کتب کی تصدیق کی جارہی ہے:

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫(۳۷)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ اللہ کے نازل کئے بغیر کوئی اسے اپنی طرف سے بنالے، ہاں یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق ہے اور لوحِ محفوظ کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، یہ ربُّ العالَمین کی طرف سے ہے۔([10])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۱۱۱)

ترجَمۂ کنز العرفان: بیشک ان رسولوں کی خبروں میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) کوئی ایسی بات نہیں جو خود بنالی جائے لیکن (یہ قرآن) ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے تھیں اور یہ ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔([11])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۲)

ترجَمۂ  کنزالعرفان: اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ (قرآن) عربی زبان میں ہوتے ہوئے تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوں کے لیے بشارت ہو۔([12])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح:

 سابقہ کتب کی تصدیق کا بار بار فرمایا جانا یہ واضح کرتاہے کہ بس اب یہ فائنل اور آخری کتاب ہے جو آخری پیغمبر پر نازل ہوگئی، اگر بفرضِ محال آئندہ کسی نئے نبی کی گنجائش ہوتی تو یہی اسلوب (فلاں کتاب فلاں کی تصدیق کرتی ہے، پس ایمان لاؤ) قرآن کے بعد بھی دہرایا جانا ضروری تھا، لیکن قرآن کریم میں کہیں ایسی کوئی آیت موجود نہیں جو کسی آئندہ کتاب یا نبی کے ذریعے خود قرآن کی تصدیق کیے جانے کی خبر دیتی ہو۔

:جنات نے بھی تصدیق کا بتایا

قرآنِ کریم کی تصدیقی حیثیت کے بارے میں جنّات نے بھی اپنی قوم سے کہا:

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۳۰)

ترجَمۂ کنزالعرفان: کہنے لگے: اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے وہ پہلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہے، حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔([13])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جنات نے قرآن کو توریت کی تصدیق کرنے والی، حق اور سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب تسلیم کیا۔ یہ واقعہ سورۃ الجن میں بھی مذکور ہے جہاں جنات میں سے کچھ مسلمان ہوگئے۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ قرآن کی تصدیقی و ہدایتی حیثیت پوری کائنات کی مکلف مخلوقات کے لیے آخری اور کافی ہے۔ جب جن و انس دونوں کے لیے ایک ہی حق اور سیدھی راہ کی راہنمائی کرنے والی کتاب اور رسول کافی قرار پائے، تو اس کے بعد کسی اور نبی یا کتاب کی طرف راہنمائی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

:قرآن کریم اور سابقہ کتب کی تصدیقات میں فرق

 اوپر مذکور آخری دونوں آیات بتاتی ہیں کہ قرآن سے قبل موسیٰ علیہ السلام پر کتاب ”تورات“ ہدایت کے لیے آئی، جب قبل کی کتب اور سابقہ انبیاء کے بارے میں فرمایا جارہا ہے تو بعد میں آنے والوں کا ذکر بھی کیا جاسکتا تھا لیکن چونکہ قرآن آخری وحی اور رسول مکرم آخری نبی ہیں، اس لیے مابعد کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

کوئی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ پہلی کتابوں نے بھی اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق فرمائی ہے، قرآن پاک نے بھی اپنے سے پہلوں کی تصدیق کی ہے، تو پھر فرق کیا ہوا؟ تو یاد رکھیے کہ پہلی کتابوں اور انبیاء کرام نے جیسے اپنے سے پہلے انبیاء اور کتب کی تصدیق فرمائی ایسے ہی بعد میں آنے والے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بشارتیں بھی دیں، لیکن قرآن کریم اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے بعد کسی کے آنے کی خبر نہیں دی۔

عیسیٰ علیہ السلام نے سابقہ کتب کی تصدیق اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: کے آنےکی خبر دی

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(۶)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے فرمایا:اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس عظیم رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے پھر جب وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے توانہوں نے کہا: یہ کھلا جادو ہے۔ ([14])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہود و نصاریٰ سابقہ کتب و انبیاء کے بتانے سے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد سے بخوبی آگاہ تھے:

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْؕ-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ(۱۴۶)

ترجَمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں۔([15])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْۙ-وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْاۚ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ٘-فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ(۸۹)

ترجَمۂ  کنزالعرفان: اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب آئی جو ان کے پاس (موجود) کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس سے پہلے یہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں کے خلاف فتح مانگتے تھے تو جب ان کے پاس وہ جانا پہچانا نبی تشریف لے آیا تواس کے منکر ہوگئے تو اللہ کی لعنت ہو انکار کرنے والوں پر۔([16])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تصدیق کرنے والے رسول:

جیسے قرآنِ کریم سابقہ کتب کی تصدیق کرنے والا ہے ایسے ہی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی سابقہ کتب کی تصدیق فرمانے والے ہیں:

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَۗۙ-كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘(۱۰۱)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول تشریف لایاجو ان کی کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہے تواہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے یوں پھینک دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں ہیں۔([17])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح:

یہاں لفظ ”مُصَدِّقٌ“ خود رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات کے لیے استعمال ہوا، نہ صرف قرآن کے لیے، یعنی آپ کی رسالت بذاتِ خود سابقہ وحی کی تصدیق ہے۔ اس کے باوجود ایک گروہ نے علم کے باوجود اللہ کی کتاب کو نظر انداز کردیا۔ محمد فاروق الزین لکھتے ہیں کہ یہود کی اپنی کتاب (سفرِ تثنیہ 18: 18) میں یہ واضح تھا کہ منتظَر نبی نسلِ اسماعیل سے ہوگا۔

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ(۸۱) فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۸۲) اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ(۸۳)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور یاد کرو جب اللہ نے نبیوں سے وعدہ لیا کہ میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں گا پھر تمہارے پاس وہ عظمت والارسول تشریف لائے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو گاتو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ (اللہ نے) فرمایا: (اے انبیاء!) کیا تم نے (اس حکم کا) اقرار کرلیا اور اس (اقرار) پر میرا بھاری ذمہ لے لیا؟ سب نے عرض کی،’’ ہم نے اقرار کرلیا‘‘ (اللہ نے) فرمایا، تو (اب) ایک دوسرے پر (بھی) گواہ بن جاؤ اور میں خود (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ پھرجو کوئی اس اقرار کے بعد روگردانی کرے گاتو وہی لوگ نافرمان ہوں گے۔ کیا لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین چاہتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی بھی ہے وہ سب خوشی سے یا مجبوری سے اسی کی بارگاہ میں گردن جھکائے ہوئے ہیں اور سب کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔([18])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح:

اللہ کریم نے جمیع انبیاء و رسل سے جس نبی کے آنے پر ان کی مدد کرنے اور ساتھ دینے کا عہد لیا، اور اس عہد پر تاکیدی اقرار لیا، ذمہ داری سونپی، گواہ بنایا اور خود بھی گواہ بنا، وہ نبی صرف اور صرف محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں، اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں اتنا پختہ عہد لینا بالکل واضح کرتاہے کہ جب آپ تشریف لائیں گے بس آپ ہی آخری ہوں گے۔ اگر آپ کے بعد کسی نبی نے آنا ہوتا اور وہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیروکار کی حیثیت سے ہی آنا ممکن ہوتے تو ان سے یہ بھی عہد لیا جاتا کہ ان کے بعد بھی ان کے دین ہی کو لے کر چلو گے، لیکن نہیں، اللہ کریم نے ایسا عہد نہیں لیا۔

یہ عہد نہ لینا بھی واضح کرتاہے کہ رسولِ مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آنا تھا۔ جیسے قادیانی اپنے جھوٹے مرزا قادیانی کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کی شریعت و دین کی تقویت و تبلیغ کے لیے نبی بن کر آئے، نرا جھوٹ، باطل، فسادی دعویٰ اور ارتداد و کفر ہے۔

اللہ پاک نے تو اس عہد و میثاق کے بعد صاف اعلان فرمادیا کہ جو اس عہد کی مخالفت کرے گا فاسق ہے اور ایسا کرنے والا اللہ کے دین سے ہٹا ہوا ہے، اور جو اللہ کے دین کے علاوہ کوئی دین چاہتا ہے وہ کافر و مرتد ہوتا ہے۔

:مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک نہایت واضح اور مربوط نتیجہ سامنے آتا ہے

توریت نازل ہوئی، پھر انجیل توریت کی ”مُصَدِّق“ بن کر آئی اور خود انجیل نے اپنے بعد ایک اور رسول (احمد) کی خبر بھی دی۔ یہی سلسلہ جب قرآن پر پہنچا تو قرآن کو بھی تمام سابقہ کتابوں کا ”مُصَدِّق“ اور ان پر ”مُهَیْمِن“ یعنی حتمی نگہبان قرار دیا گیا۔ نیز قرآن کریم میں کہیں بھی، کسی ایک آیت میں بھی، یہ خبر نہیں دی گئی کہ مستقبل میں کوئی اور کتاب آکر قرآن کی تصدیق کرے گی، جبکہ توریت اور انجیل دونوں کے بارے میں خود قرآن نے بتایا کہ ان کے بعد ایک اور کتاب آنے والی تھی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل اسکالرعلوم اسلامیہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ6،المآئدۃ:48

([2])پ3،آل عمرٰن:3

([3])پ7،الانعام:92

([4])پ22، فاطر:31

([5])پ1،البقرۃ:97

([6])پ1،البقرۃ:41

([7])پ1، البقرۃ:89

([8])پ1،البقرۃ:91

([9])پ5،النسآء:47

([10])پ11،یونس:37

([11])پ13،یوسف:111

([12])پ26،الاحقاف:12

([13])پ26،الاحقاف:30

([14])پ28،الصف:6

([15])پ2،البقرۃ:146

([16])پ1، البقرۃ:89

([17])پ1،البقرۃ:101

([18])پ3،آل عمرٰن:81تا83


Share