قلبِ امیرِ اہل سنّت کی کیفیات


قلبِ امیرِ اہل سنّت کی کیفیات

امیرِ اَہلِ سنّت، حضرت علّامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ


(امیرِ اہلِ سنّت نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ) میرے دل کی کیفیات یا احساسات میں خوشیاں کم اور غم زیادہ ہیں۔ کچھ تو لاینحل سے خاندانی و ذاتی غم اور میرے دل  میں کبھی کبھی خوف بھی ہوتا ہے، بعض اوقات ایمان چلے جانے اور بُرے خاتمے کا خوف ہوتا ہے کیونکہ گناہوں سے توبہ تو کرلی لیکن پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے یہ جانا جا سکے کہ توبہ قبول ہوگئی اور جنت مل گئی لہٰذا بے فکر ہوجاؤ۔ کبھی یہ خیال آتا ہے کہ مرنے کے بعد مردے کو اپنی پسندیدہ چیزوں سے بچھڑنے کے صدمے لاحق ہوں گے،  پھر قبر کی وحشت ناک تاریکی ڈراتی ہے یہاں تو بجلی چلی جائے تو   ڈر لگے لیکن قبر کے بارے میں یہی سنا ہے کہ وہاں سخت اندھیرا ہوگا۔ اس لیے یہ ڈر لگتا ہے کہ اگر میری قبر میں بھی اندھیرا ہوا تو میں کیا کروں گا! ہاں جس خوش نصیب پر کرم ہوگیا تو اس کی قبر نور سے جگمگارہی ہوگی لیکن مجھے تو معلوم نہیں میری قبر اندھیری ہوگی یا روشن۔ نہ میں یہ جانتا  ہوں کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کیا ہے؟  پھر روزِ محشر کا یہ خوف الگ کہ کہیں یہ نہ کہہ دیا جائے کہ ہم نے دنیا میں تمہیں بہت زیادہ عزت دے کر تمہارے کاموں کا بدلہ دے دیا تھا اب تمہارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اگر مجھے یہ کہہ دیا گیا تو میرا کیا بنے گا؟ اس طرح کے تصورات، کیفیات اور تخیلات کا سلسلہ ہے جو کبھی کبھی طاری ہوتا ہے۔ اچھی چیز یں کھاتا ہوں تو کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے:

ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یعنی پھر تجھ سے ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا۔([1])کبھی  اچھی چیزیں کھانے کے لیے پیش کی جاتی ہیں تو بعض اوقات ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ اٹھاکر دے دیتا ہوں کہ  میں نہیں کھاتا میں ان کا حساب کیسے دوں گا؟  لیکن    ایسا بھی موڈ ہوتا رہتا ہے کہ خود منگواتا ہوں کہ  مجھے   فُلاں چیز  کھانی ہے۔ تو اس طرح کی ملی جلی کیفیات میرے اندر ہیں۔ پھر میں شروع سے ہی اپنے اندر سوز  و غم کی ایک کیفیت محسوس کرتا ہوں۔ اگر آپ میرے لکھے ہوئے کلاموں پر غور کریں تو اس میں سوز  و غم کے اثرات نظر آئیں گے۔ اب یہ باتیں کہتے ہوئے بھی مجھے خوف آرہا ہے کہ اگرقیامت کے روز کہہ دیا گیا کہ یہ  جو تم اپنے فضائل بیان کررہے تھے اور خیال کررہے تھے کہ جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں میری باتوں سے انہیں ترغیب ملے گی اور ان کی اصلاح ہوگی لیکن کیا تم نہیں جانتے تھے کہ  اس سے لوگوں کے دلوں میں تمہارا مقام بڑھے گا۔ تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میں ان باتوں کی وجہ سے پھنس جاؤں  کیونکہ  حدیثِ پاک میں ہے کہ ”اللہ پاک  فاجِر کے ذریعہ بھی دین کی مدد لے لیتا ہے“۔([2]) یعنی اس کے ذریعے لوگوں کو تو فائدہ پہنچتا ہے لیکن وہ خود پھنس جاتا ہے اور اس کے لیے آخرت میں حصّہ نہیں ہوتا۔ یہ سب چیزیں  مجھے ایسے ڈراتی ہیں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھاگ کر کہاں جاؤں؟ عمر کا جام لبریز ہونے کو ہے، بڑھاپا آچکا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ میرے بارے میں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر کیا ہے اور نہ جیتے جی سمجھ آسکے گی ۔ ان باتوں کی وجہ سے بارہا  ایسا ہوتا ہے کہ میں خوفزدہ ہوجاتا ہوں۔ اگرچہ ہونٹوں پر مسکراہٹ ہو،  باتیں بھی کر رہا ہوں لیکن اس طرف توجہ چلی جاتی ہے تو کبھی دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ دشمنوں نے ہر طرف سے مجھ پر نالیاں تان رکھی ہیں اگر وہ گولی ماردیں گے تو پتا نہیں توبہ کا موقع بھی ملے گا یا نہیں۔ نہ جانے کلمہ نصیب ہوگا  یا نہیں۔ ایمان پر خاتمہ ہوگاکہ نہیں؟ جب لوگ قبر میں ڈال دیں گے تو منکر نکیر کے سوالات کے جوابات دے سکوں گا یا نہیں۔ قبر کے عذابات اور سانپ بچھوؤں سے بچ سکوں گا یا نہیں۔یہ بھی خیالات آتے ہیں کہ قبر میں عقل سلامت ہوگی تو قبر میں جب بند کریں گے تو اس کا پتا بھی چلے گا۔ اب بالفرض کوئی اور سزا نہ بھی ملے تب بھی اگر قبر کی کال کوٹھڑی میں بند کردیا گیا تو نہ جانے وہاں کیسے رہ سکوں گا، نہ کہیں جاسکوں گا نہ کسی کو اپنے پاس بُلا سکوں گا…… آہ! الموت۔ پھر قیامت اور پُلْصراط کے ہولناک تصورات الگ ہیں اور اگر خدانخواستہ کفر پر خاتمہ ہواتو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈال دیا جائے  گا ۔ اس طرح کی سوچیں اور خیالات گاہے گاہے آتے اور دل کو ڈراتے ہیں۔ اے میرے اللہ تجھ سے تیری رحمت کا سوال ہے۔([3])

)مزید ایک سوال: کیا اس طرح کی سوچ رکھنا شریعت کو مطلوب ہے؟ كا جواب دیتے ہوئے فرمایا) یہ بھی اللہ پاک کا کرم ہے کہ وہ کسی کو ایسی سوچ عطا کرے ۔ اگر کوئی نیک کام کرتا ہے تو یہ بھی اللہ پاک نے ہی توفیق بخشی  تھی لہٰذا کوئی بھی اسے اپنا کارنامہ نہ سمجھے بلکہ اللہ کی عطا سمجھ کر اس کا شکر ادا کرے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مجھ پر تو غفلت کے موٹے موٹے پردے پڑے ہیں اور سمجھ نہیں آتی کہ میرا آخرت میں کیا بنے گا۔ گمنام نیک بندے کی فضیلت پڑھتے ہیں تو اس پر رشک آتا ہےکہ اللہ کے یہاں اس کی کیسی مقبولیت ہے ۔ گمنام بندہ وہ ہے جسے لوگ پوچھتے بھی نہیں  بلکہ اسے دھتکار دیں اور دروازے سے دور کردیں ۔ وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت نہ  کریں ، مرجائے تو اس کے جنازے میں نہ جائیں۔ لیکن ان گمنام بندوں کی جن سے اللہ پاک  راضی ہو ان کی بارگاہ میں مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ اللہ پاک کے نام پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ کریم اسے پورا کردے۔ ہم تو ان گمنام بندوں میں سے بھی نہیں ہیں، ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمیں تو بس شہرت ہی کی پڑی ہے۔ جس مدنی چینل پر میں یہ سب کر رہا ہوں وہ بھی تو شہرت کا آلہ ہے  کیونکہ دنیا بھر کے لوگ جب میری باتیں سنیں گے تو ہوسکتا ہے کہ مجھ سے محبت کرنے والوں میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہو۔ نیکیوں کی سوغات بھی مجھے ملے گی کیونکہ بعض لوگ تہمت دھرتے ہوئےبولیں گے کہ یہ ریاکار ہے ، جو کسی کی غیبت کرتا ہے وہ جس کی غیبت کی اُس کو اپنی نیکیاں GIFTکرتا ہے یہاں ایک بڑا واقعہ عرض کرتا چلوں: حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ کو کسی نے کہا کہ فُلاں نے آپ کی غیبت کی ہے تو آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے  غیبت کرنے والے آدمی کو کھجوروں کا ایک تھال بھر کر روانہ کیا اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ سُنا ہے آپ نے مجھے اپنی نیکیاں ہدِیّہ (GIFT)کی ہیں تو میں نے ان کابدلہ دینا بہتر جانا اس لیے کھجوریں حاضِر کی ہیں۔([4])

(مزید سوال ہوا کہ :  آپ خوف اور غمزدہ کیفیات کے باوجود بہت زیادہ مسکراتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا:)

الحمدللہ! میری مسکرانے کی عادت ہے، عام طور سے  لوگوں سے ملتے وقت بھی مسکراتا ہوں  لیکن کبھی کبھی  کیفیت  یہ ہوتی ہے کہ

مرے ہونٹوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا

جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ”اَلْمُؤْمِنُ بِشْرُهٗ فِيْ وَجْهِهِ وَحُزْنُهٗ فِيْ قَلْبِهِ“   یعنی مومن کی خوشی اس کے چہرے پر ہوتی ہے، جبکہ اس کا غم اس کے دل میں ہوتا ہے۔([5])

نوٹ:یہ مضمون امیر ِاہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہکی گفتگو سے تیار کرکے اور نوک پلک سنوروا کر پیش کیا گیا ہے۔



([1])ترجمہ کنزالعرفان: پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں  کے متعلق پوچھا جائے گا۔( پ 30، التکاثر: 8)

([2])بخاری،4/273، حدیث:6606

([3])امیرِ اہلِ سنت کی کہانی انہی کی زبانی ، قسط 6

([4])منہاج العابدین،ص 65-امیرِ اہلِ سنت کی کہانی انہی کی زبانی ، قسط 6  ، مع ترمیم و اضافہ

([5])تاریخ ابن عساکر، 17/419


Share

Articles

Comments


Security Code