رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پسندیدہ اعمال


رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پسندیدہ اعمال

اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت ہر مسلمان کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ قرآنِ کریم نے اس منزل تک پہنچنے کا راستہ واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ

ترجَمۂ کنزُالعرفان: ‫اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بندۂ مؤمن کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسند، آپ کی تعلیمات اور آپ کے پسندیدہ اوصاف کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

احادیثِ مبارکہ میں متعدد ایسے اعمال، عادات اور اخلاق کا ذکر ملتا ہے جنہیں رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پسند فرمایا، ان کی تعریف فرمائی یا ان کے اختیار کرنے والوں کو اپنی محبت، قرب اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارت دی۔

آئیے! ایسے نیک اعمال کے بارے میں پڑھتے ہیں جو رسولِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو محبوب تھے، تاکہ ہم ان مبارک ارشادات کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں، اپنے کردار کو سنواریں اور اپنی زندگی کو ایسے اعمال سے مزین کریں جو ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت و رضا کے قریب کر دیں۔

بُردباری اوروقار:

قبیلہ عبدالقیس کے سردار  جن کا نام  منذِر بن عائذ رضی اللہ عنہ  تھا اور حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں ”اشج“ کہہ کر پکاراتھا،  جب  آپ وفد کے ساتھ  نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اپنی اونٹنی کو  باندھنے کے بعد ایک تھیلی میں سے دو نہایت عمدہ اور سفید کپڑے نکال کر پہنے۔ حضورنبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ،پھر وہ چلتے ہوئے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ اَقدس میں پہنچ گئے،حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اے اَشَج! تم میں دو عادتیں ایسی ہیں جواللہ پاک اور اس کے رسولکو پسند ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ  دو عادتیں کون سی ہیں؟ ارشاد فرمایا: بُردباری اور وقار۔ انہوں نے عرض کی: کیا مجھ میں  یہ دو عادات پیدا کی گئی ہیں یا میری فطرت میں رکھی گئی ہیں؟ارشادفرمایا:اللہ پاک نے یہ دو عادتیں تمہاری فطرت میں رکھی ہیں۔اس پر حضرت اشج رضی اللہ عنہ نےکہا: اللہ پاک کاشکر ہےجس نے میری فطرت ان دو عادتوں پر رکھی جو اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوپسند ہیں۔([2])

 حضرت شیخ عبدُالحق محدِّث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وفد کے اکثر ارکان نے ایسی جلدی کا مظاہرہ کیا اگرچہ یہ شوق و محبّت کی بنا پر تھا، ان میں سے ایک آدمی جس کا نام اشج تھا اس نے ایسا نہ کیا بلکہ پہلے وہ اپنی منزل اور رہائش گاہ پر گئے، تازہ غسل کیا، سفید کپڑے پہنے، مسجد نبوی میں آ کر دو نفل اَدا کیے اور اس کے بعد بڑے ہی خشوع و خضوع اور اطمینان سے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور زیارت و محبّت سے باریاب ہوئے، حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کی تعریف فرمائی اور اس اَدب کو پسند کیا اور فرمایا: تم میں دو چیزیں ایسی ہیں جو اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پسند ہیں، حلم(یعنی بردباری) اور وقار۔([3])

پیارے اسلامی بھائیو! سستی اور کاہلی سے بچتے  ہوئے ہمیں بھی اپنے معاملات چاہے گھر کے ہوں یا باہر کے، دینی ہوں یا دنیاوی بُردباری، اطمینان اور اچّھے انداز میں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، تاکہ ہم اللہ پاک اور اس کے آخِری رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پسندیدہ بن جائیں  اور دنیا و آخِرت میں کامیابی ملے۔

بہترین اَخلاق والے:

ملنساری اور اچھے اخلاق سے پیش آنے والے لوگ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پسندیدہ لوگ ہیں، حسنِ اخلاق سے پیش آنے کے متعلّق اَحادیث کریمہ میں بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں، آئیے! مزید 2 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھیے اور اپنے اندر دوسروں   کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کا جذبہ پیدا کیجیے:

(1)حسنِ اخلاق کے پیکر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ لوگ وہ ہیں: جو تم میں بہترین اَخلاق والے ، نرم دل ، لوگوں سے محبت کرنے والے اور وہ  جن سے لوگ محبت کرتے ہیں۔ ([4])

(2)بیشک تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب(یعنی پیارا) اور آخرت میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو تم میں بہترین اخلاق والاہوگا اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور آخرت میں مجھ سے زیادہ دور وہ شخص ہوگا جوتم میں بد  تر ین اخلاق والا ہوگا۔   ([5])

نیک اعمال پر ہمیشگی:

حضرت عائشہ صدِّیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سب سے پیارا عمل وہ تھا کہ جس کو کرنے والا ہمیشہ کرتا رہے۔([6])

ایک روایت میں ہے کہ اگرچہ وہ عمل تھوڑا ہو۔ ([7])

نیک اعمال پابندی سے کرتے رہنا حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بہت پسند تھا  لہٰذا ایک مسلمان کو اللہ پاک اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب و پسندیدہ بننے کے لیے نیک اور بہترین اوصاف اپناتے ہوئے پابندی سے نیک اعمال کرتے رہنا چاہیے۔اے کاش! ہم اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پسندیدہ بننے میں کامیاب ہوجائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی



([1])پ3،آل عمرٰن:31

([2])مسند احمد ، 39/490، حدیث:54-احیاء العلوم ، 3/219

([3])اشعۃ اللمعات، 4/27

([4])مجمع الزوائد ، 8/48، حدیث: 12668

([5])مسند للامام احمد بن حنبل، 6/220، حدیث:17747

([6])بخاری، 4/237، حدیث:6462

([7])مسند احمد، 9/326، حدیث:24376، ملتقطًا


Share