نیکی
میں جلدی
کیجیے!
اللہ پاک کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی قوّت و طاقت اور توفیق عطا فرمائی۔ نیک عمل کرنا یقیناً بہت اچھی بات ہے لیکن نیک عمل میں پہل کرنا زیادہ فضیلت کا سبب ہے کیونکہ نیکی کرنے میں پہل کرنے والا نیکی کے کام کو قوّت و طاقت دیتا ہے اور نیکی کی طرف جلد رغبت کرنا فطرت کے نیک اور اچھا ہونے کی علامت بھی ہوتی ہے۔ نیک کام میں پہل اور جلدی کرنے والا دوسرے لوگوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن جاتا ہے جس سے معاشرے میں نیکی کرنے اور نیکی کی دعوت دینے کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
آئیے! نیک کام میں پہل اور جلدی کرنے کے بارے میں احادیثِ طیبہ پڑھتے ہیں:
جنّت میں جانے کا شوق:
حضرت مولیٰ مشکل کُشا، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسولِ کریم، رءُوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو جنّت میں جانے کا شوق رکھتا ہے وہ بھلائی کے کام میں جلدی کرنے والا ہوتا ہے اور جو دوزخ میں جانے سے ڈرتا ہے وہ شہوات (یعنی خواہشات) سے بچتا ہے۔ ([1])
علّامہ عبدُالرّءُوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں: نیک کام اس لیے کیا جائے تاکہ اس کے سبب قُرب حاصل کیا جاسکے اور شوق اصل میں دل کی اس بے چینی اور تڑپ کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے۔([2])
نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے:
فرمانِ آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: نیک اعمال میں جلدی کرو۔([3])
جتنا ہوسکے نیکی میں جلدی کرنی چاہیے ایسا نہ ہو کہ دل کا اِرادہ بدل جائے اور نیکی سے محرومی کا سامنا ہو، لہٰذا جب بھی نیکی کا ذِہن بنے فوراً کر لینی چاہیے۔
آخِرت کے کام میں جلدی کرو:
حدیثِ پاک میں ہے: اِطمینان و سکون ہر چیز میں ہو، سوائے آخِرت کے کام کے۔([4])
یعنی کسی نیکی اور خاص طور پر عبادت کی ادائیگی کا جیسے ہی موقع ملے فوری ادا کرلینی چاہیے، کہ دیر لگانے میں شاید موقع جاتا رہے، بہت دیکھا گیا کہ بعض حاجیوں کو موقع ملا (تو حج) نہ کیا، پھر نہ کرسکے۔ ربِّ کریم فرماتا ہے:
فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-
ترجَمۂ کنزُ العرفان:توتم نیکیوں میں آگے نکل جاؤ۔ (پ2، البقرہ:148)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
شیطان کارِ خیر (یعنی نیک کام) میں دیر لگوا کر آخر اس سے روک دیتا ہے۔
نیکی کے کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے:
حضرت عبدُالرّحمٰن بن ابو عَمْرَہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کی والدۂ محترمہ نے (غلام)آزاد کرنا چاہا پھر صبح تک دیر لگائی، پھر وہ فوت ہوگئیں، حضرت عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے آزاد کردوں تو کیا انہیں نفع دے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعد ابن عبادہ رضی اللہ عنہ رسولُ اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا:میری ماں وفات پاچکی ہیں، کیا انہیں نفع دے گا کہ میں ان کی طرف سے آزاد کردوں، تو رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ہاں۔([5])
یعنی حضرت عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ صاحبہ نے شام کے وقت لونڈی یا غلام آزاد کرنے کا اِرادہ کیا مگر صبح تک ٹال دیا اور رات میں اچانک فوت ہوگئیں(یوں اُن کی یہ نیکی رہ گئی) ([6])
فتنوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو:
رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اُن (آنے والے) فتنوں سے پہلے نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کے حصّوں کی طرح ہوں گے کہ انسان سویرا پائے گا مومن ہوکر، شام کرے گا کافر ہوکر اور شام کرے گا مومن ہوکر، سویرا پائے گا کافر ہوکر، معمولی دنیوی سامان کے عوض اپنا دین فروخت کر دے گا۔([7])
سونا روکے رکھنا ناپسند کیا:
حضرت عُقبہ بن حارِث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیچھے مدینے شریف میں عصر کی نماز پڑھی۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سلام پھیر کر تیزی سے کھڑے ہوگئے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی بیبیوں کے حجروں میں سے ایک حجرے کی طرف تشریف لے گئے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تیزی کے ساتھ جانے پر لوگ گھبرا گئے، جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے تو لوگوں کو تعجب اور حیرت میں دیکھ کر فرمایا: مجھے یاد آیا کہ کچھ سونا ہمارے پاس ہے میں نے اسے پسند نہیں کیا کہ وہ قِیامت کے دن مجھے روکے، اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔([8])
مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس سے مستفاد (یعنی یہ نتیجہ حاصل) ہوتا ہے کہ زکاۃ، فطرہ، صدقے کا مال روکنا اچھا نہیں، جس قدر ہوسکے جلد مستحق (یعنی حق دار) کو دے دیا جائے۔([9])
نیکی میں اتنی دیر نہ کرو کہ موت کا وقت آجائے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ ایک شخص حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ اَقدس میں حاضر ہو کر عرض گُزار ہوا: یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! کون سے صدقے میں زیادہ ثواب ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہارا صدقہ کرنا اس حال میں کہ تم تندرست اور مال کے حریص ہو، تمہیں تنگدستی کا خوف ہو اور مالداری کی اُمید ہواور تم صدقہ کرنے میں اتنی دیر مت کرو کہ سانس حلق تک پہنچ جائے(یعنی موت کا وقت قریب آپہنچے)پھر تم کہو کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا، حالانکہ وہ فلاں(یعنی وارثوں) کا ہو ہی چکا تھا۔ ([10])
ہمیں ہر نیک کام میں جلدی کرنی چاہیے، تاکہ کوئی نیکی ہم سے نہ رہ جائے اور موت کا پروانہ آجائے، بعض اعمال کی تو احادیثِ مبارکہ میں جلدی کرنے کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے، چنانچہ تین فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھیے اور نیک کام میں جلدی کرنے کی عادت بنائیے:
(1)تین کاموں میں دیر نہ کرو: (۱)نماز جب اس کاوقت آجائے (۲)جنازہ جس وقت حاضر ہو اور (۳)لڑکی کا جب رشتہ مل جائے۔([11]) (2)سلام میں پہل کرنے والا تکبّر سے بَری ہے۔ ([12])(3)صدقہ دینے میں جلدی کرو کہ بَلا صدقے سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔([13])
اے عاشقانِ رسول!ہمیں ہر طرح کے چھوٹے بڑے گناہوں سے بچتے رہنا چاہیے اور کوئی نیکی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی بجالانے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، اللہ پاک ہمیں خوب نیک کام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی
Comments