جوانی
جوانی زندگی کا اہم ترین حصہ ہے جس میں زندگی کے اہم ترین کام سرانجام دیے جاتے ہیں،جو لوگ یہ رازسمجھ جاتے ہیں وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو بہتر اور کامیاب بنالیتے ہیں، اور جو نادان زندگی کے اس اہم ترین حصے کو اہمیت نہیں دیتا وہ ایک طرف اپنی دنیا تباہ وخراب کرتا ہے تو دوسری طرف اپنی آخرت داؤ پر لگا دیتا ہے،آئیے ! دیکھتے ہیں کہ دینِ اسلام ہمیں جوانی کی اہمیت کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔
قرآن پاک کیا فرماتا ہے؟
اللہ پاک نے جوانی کو دو کمزوریوں کے درمیان رکھا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةًؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۚ-وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ(۵۴)
ترجَمۂ کنزُالعرفان: الله ہی ہے جس نے تمہیں کمزور پیدا فرمایا پھر تمہیں کمزوری کے بعد قوت بخشی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جوچاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہی علم والا، بڑی قدرت والا ہے ۔([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ میں انسان کے مختلف احوال کو بیان فرمایا گیا ہےکہ پہلے وہ ماں کے پیٹ میں جنین تھا پھر بچّہ ہوکر پیدا ہوا اور دودھ پیتا رہا۔ یہ حالتیں نہایت کمزوری کی ہیں،پھر بچپن کی کمزوری کے بعد جوانی کی قوّت وطاقت عطا فرمائی گئی، پھر اس قوت کے بعد ایک بار پھر کمزوری دی گئی جسے بڑھاپا کہا جاتا ہے،یہاں جو درمیانی حالت یعنی جوانی ہے اسے قوت سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس حالت کو دو کمزوریوں کے درمیان رکھا گیا ہےجس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عبیدہ فرماتے ہیں: جب حضرت ابراہیم خلیل ا للہ علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے بالوں میں سفیدی دیکھی تو فرمایا: حلم وبردباری اور علم کو خوش آمدید اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے جوانی سے سلامتی کے ساتھ گزار دیا۔([2])
جوانی کے متعلق ارشاداتِ نبوی:
جوانی کے متعلق کثیر ارشاداتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم موجود ہیں جن میں سے بعض یہاں درج کیے جاتے ہیں :
(1)ارشاد فرمایا: اَلشَّبَابُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْجُنُوْن یعنی جوانی جنون وپاگل پن کی ایک شاخ ہے۔([3])
اندازہ لگا لیجیے کہ جوانی کو کس قدر قابو کرنے کی ضرورت ہے، اگر اِسے درست سمت میں نہ رکھا جائے تو یہ پاگل پن انسان کی دنیا وآخرت کو تباہ کردیتا ہے، اس جنون کی وجہ سے انسان بے ہودگیوں، بے حیائیوں اور معاشرتی برائیوں کا شکار ہوتا اور باربار شرمندگی اور افسوس کے گہرے گڑھے میں گرتا ہے۔
(2)ارشاد فرمایا:ادھیڑ عمر والے سے اچھا سلوک کرو اور جوان پر رحم کرو۔ ([4])
ویسے تو ہر انسان پر رحم کرنا اور اس کے ساتھ شفقت سے پیش آنا چاہیے لیکن جوان کے ساتھ شفقت ورحم کا خاص سلوک برتنے کا حکم دیا گیا۔جوان کی طاقت و قوت، خون کا جوش اور بھرپور جذبہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اُسے پیار و محبت سے سمجھایا جائے، ایسا کریں گے تو نتائج زیادہ بہتر حاصل ہوں گے کیونکہ سختی، بے جا روک ٹوک اور طنز کے تیر جوان کو بغاوت ونافرمانی پر ابھارتے ہیں۔
(3)ارشاد فرمایا:بہترین نوجوان وہ ہے جو تمہارے بوڑھوں سے مشابہت اختیار کرے اور بدترین بوڑھا وہ ہے جو تمہارے جوانوں سے مشابہت اپنائے۔([5])
یقیناً وہ نوجوان اچھا ہے جو بوڑھے لوگوں کی طرح عبادت و ریاضت اور تقویٰ وطہارت کی جانب راغب ہے، لوگ تو زیادہ تر بڑھاپےمیں توبہ اور نیکیوں کی طرف آتے ہیں لیکن یہ اپنی جوانی ہی میں بڑھاپے کے انداز اپنائے ہوئے ہے تو زبانِ رسالت سے ایسے نوجوان کو بہترین قرار دیا گیا۔
(4)حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سایۂ عرش پانے والے سات افراد کا ذکر کیا تو ان میں سے ایک یہ بیان فرمایا:وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری۔ ([6])
(5)رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے پروان چڑھا یہاں تک کہ فوت ہوگیا اللہ تعالیٰ اُسے 99صدیقین کا ثواب عطا فرماتا ہے۔([7])
جوانی کی عبادت کا ثواب زیادہ کیوں ہے؟بات دراصل یہ ہے کہ جوانی میں گناہ کی طرف لے جانے والی قوت یعنی”نفس وخواہش“طاقتورہوتی ہے جبکہ نیکی کی طرف لے جانے والی قوت”عقل“ کمزور ہوتی ہے اور بڑھاپے میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے،لہٰذا جب نوجوان کمزور قوت کے ذریعے طاقتور قوت کو مغلوب کرکے خود کو عبادت میں لگادیتا ہے تو اُس کی عبادت کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔
جوانی بزرگوں کی نظر میں:
صحابۂ کرام وبزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم نے بھی جوانی کی اہمیت کے پیشِ نظر راہنما باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ چنانچہ
(1)حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جوانی کی آفت سے بچ کر رہو۔([8])
(2)حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں :توبہ اچھی ہے مگر جوان کے لیے زیادہ اچھی ہے۔ ([9])
(3)حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جب نوجوانوں کو دیکھتے تو فرماتے: رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وصیت کو خوش آمدید! رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں وصیت فرمائی ہے کہ ”ہم تمہارے لیے مجلس میں کشادگی کریں اور تمہیں حدیثِ پاک سمجھائیں کیونکہ تم ہمارے جانشین ہو اور ہمارے بعد حدیث کے محافظ ہو۔“([10])
(4)حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ جب کسی جوان کی طرف متوجہ ہوتے تو اُس سے فرماتے: اے بھتیجے ! اگر تجھے کسی بات میں شک وشبہ ہو تو مجھ سے پوچھ لینا یہاں تک کہ تجھے یقین حاصل ہوجائے کیونکہ تیرا یقین کے ساتھ لوٹنا مجھے تیرے شک کے ساتھ لوٹنے سے زیادہ پسند ہے۔([11])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مجلس اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کراچی

Comments