رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیٹھنے کا اندازِ مبارک(قسط:01)


رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیٹھنے کا اندازِ مبارک(قسط:01)


اللہ پاک کے پیارے آخری نبی، محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چلنا، پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا، گفتگو فرمانا اور لوگوں سے ملنا جلنا، الغرض زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں امت کے لیے درس موجود نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان نے نہ صرف آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ارشادات کو یاد رکھا بلکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ظاہری ہیئت، نشست و برخاست اور معمولات کو بھی نہایت اہتمام سے محفوظ فرما کر لوگوں تک پہنچایا۔

جب ہم رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیٹھنے کے انداز کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مختلف مواقع پر مختلف انداز میں تشریف فرما ہوتے تھے۔ کسی مجلس میں جہاں جگہ ملتی، وہیں بیٹھ جاتے۔بیٹھنے کے ان مختلف انداز میں نہ تکبر تھا، نہ بناوٹ کا، اور نہ ہی دنیاوی جاہ و جلال اور شان و شوکت کا کوئی اثربلکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نشست بے مثال عاجزی اور سادگی کی آئینہ دار ہوتی تھی۔

آئیے! نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیٹھنے کے چند مبارک انداز ملاحظہ کیجئے:

بیٹھنے کی کوئی ممتاز جگہ مقرر نہ فرماتے:

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک نشست و برخاست آپ کی بے مثال عاجزی و سادگی کی آئینہ دار ہوتی تھی۔ اللہ پاک کے محبوب اور تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے سردار ہونے کے باوجود آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجلس میں اپنے لیے کوئی ممتاز مقام مقرر نہ فرماتے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے درمیان اس طرح گھل مل کر بیٹھتے کہ آنے والا شخص آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو الگ سے پہچان بھی نہ پاتا کیونکہ آپ جب صحابَۂ کرام کے درمیان تشریف لاتے تو کسی خاص اور ممتاز جگہ پر نہ بیٹھتے۔([1])

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، پھر صحابۂ کرام سے پوچھا:’’تم میں محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کون ہیں؟‘‘ اس وقت نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابہ کے درمیان تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ہم نے کہا: ’’یہ سفید رنگت والے شخص ہیں جو تکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔‘‘([2])

غور کیجیے!جس ذاتِ اقدس کے لیے کروڑوں دل عقیدت و محبت سے سرشار ہیں، جو مالکِ کونین اور تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے سردار ہونے کے باوجود نہ نمایاں تخت وتاج رکھتے تھے، نہ شاہانہ پوشاک زیبِ تن فرماتے اور نہ مجلس میں اپنے لیے کوئی ممتاز مقام مقرر فرماتے۔ اسی سادگی کو دیکھ کر ایک اجنبی شخص آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پہچان نہ سکا اور اسے پوچھنا پڑا: ’’تم میں محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کون ہیں؟‘‘

جہاں جگہ ملتی وہاں بیٹھ جاتے:

نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دوسروں کے حقوق اور معاشرتی آداب ملحوظ رکھتے ہوئے مجلس میں تشریف آوری کے وقت کسی کو اٹھا کر اپنی جگہ بنانے یا کسی کے لیے تنگی پیدا کرنے کے بجائے جہاں جگہ ملتی، وہیں تشریف فرما ہوجاتے۔

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں جان ہند بن ابی ہالہ سے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مجلس کے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نشست و برخاست ہمیشہ ذکرِ الٰہی پر ہوتی اور مجلس میں پہنچتے تو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتے اور دوسرے لوگوں کو بھی اسی طرح کرنے کا حکم دیتے۔([3])

ایک موقع پر لوگوں کو بیٹھنے کا ادب سکھاتے ہوئےفرمایا: کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔([4])

معلوم ہوا کہ مجلس میں دوسروں کے حق اور آرام کا لحاظ رکھنا بھی حسنِ معاشرت کا اہم حصہ ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے عمل اور ارشاد دونوں کے ذریعے امت کو یہ سکھایا کہ مجلس وہی خوب صورت ہے جہاں ہر شخص دوسرے کے حق اور راحت کا خیال رکھا جائے۔

قبلہ رُخ بیٹھتے:

رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک اندازِ نشست میں سے ایک انداز یہ بھی نمایاں تھا کہ آپ عموماً قبلہ رُخ ہو کر تشریف فرما ہوتے۔([5])

ہمیں بھی جب موقع میسر ہو اور کوئی رکاوٹ نہ ہوتونبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس پیاری سنت پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، خصوصاً تلاوتِ قرآنِ پاک، دینی مطالعہ، تصنیف و تالیف، دعا و اذکار اور درود و سلام پڑھتے وقت قبلہ رُخ بیٹھنا چاہیے کیونکہ قبلہ رُخ بیٹھنے میں قبلے کی تعظیم و تکریم ہے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھنا باعثِ خیر و برکت ہے۔

قبلہ رُخ بیٹھنے کی فضیلت کے بارے میں تین فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ کیجیے:

(1)مجالس میں سب سے مُکرّم (یعنی عزّت والی) مجلس وہ ہے جس میں قبلے کی طرف مُنہ کیا جائے۔([6])

(2)ہر شے کے لیے شرف (یعنی بُزرگی) ہے اور مجلس (یعنی بیٹھنے) کا شرف یہ ہے کہ اس میں قبلے کی سمت مُنہ کیا جائے۔([7])

(3)ہر شے کے لیے سرداری ہے اور مجالس کی سرداری اس میں قبلے کو مُنہ کرنا ہے۔([8])

مجلس میں پاؤں نہ پھیلاتے:

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بیٹھنے کے انداز میں سے یہ بھی تھا کہ آپ اپنے ہم نشینوں کے سامنے پاؤں پھیلا کر تشریف فرما نہ ہوتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنے اصحاب کے درمیان کبھی پاؤں پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔([9])

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے ہم مجلسوں کے سامنے اپنے پاؤں نہیں پھیلاتے تھے، بلکہ ان کی تعظیم و تکریم کے پیشِ نظر ایسا کرنے سے اجتناب فرماتے تھے۔([10])

اس سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھتے وقت اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کے ادب و احترام کا خیال رکھنا چاہیے اور بلا ضرورت ان کے سامنے پاؤں پھیلانے سے بچنا چاہیے۔ بالخصوص علمائے کرام، والدین، اساتذہ اور بزرگوں کی مجلس میں اس ادب کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔ (جاری ہے)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھئے:ابو داؤد، 4/297، حدیث: 4698

([2])دیکھئے:بخاری،1/39،حدیث: 63

([3])الشمائل المحمدیۃ للترمذی، ص 191، حدیث: 319

([4])بخاری،4/179،حدیث: 6270

([5])احیاء العلوم،2/449

([6])معجم اوسط، 6/161، حدیث: 3861

([7])معجم کبیر، 10/320، حدیث: 10781

([8])معجم اوسط، 2/20، حدیث: 2354

([9])ترمذی،4/221، حدیث: 2498

([10])شرح الطیبی، 11/37


Share