بچوں کے سوالات کو سنجیدگی سے لیجیے
بچوں کی جسمانی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی، اخلاقی اور دینی تربیت بھی والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ بچوں کی تربیت میں ایک ایسا پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے بچوں کے سوالات کو سنجیدگی سے لینا۔
بعض والدین بچوں کے سوالات کو فضول سمجھ کرنظر انداز کر دیتے ہیں، انہیں ڈانٹ دیتے ہیں یا یہ کہہ کر خاموش کروا دیتے ہیں کہ ”زیادہ سوال نہ کرو۔“ اس طرزِ عمل سے بچہ آہستہ آہستہ سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر وہ اپنے سوالوں کے جواب کہیں اور تلاش کرتا ہے، جہاں ہر جواب درست اور محفوظ ہو، یہ ضروری نہیں۔
اگر والدین محبت، تحمل اور توجہ کے ساتھ بچوں کی بات سنیں، ان کے سوالات کے جوابات ان کی عمر کے مطابق آسان الفاظ میں دیں، یا اگر جواب معلوم نہ ہو تو کسی معتبر ذریعے سے معلوم کرکے انہیں بتائیں، تو بچے کا اعتماد اپنے والدین پر بڑھتا ہے۔ وہ ہر اہم معاملے میں سب سے پہلے اپنے ماں باپ کی طرف رجوع کرتا ہے، اور یہی مضبوط تعلق اس کی بہترین تربیت کی بنیاد بنتا ہے۔
اس مضمون میں بچوں کے سوالات کے تعلق سے والدین کی توجہ چند باتوں کی طرف مبذول کروائی جارہی ہے تاکہ والدین ان پر عمل کرکے بچوں کی تربیت کا سامان کرسکیں۔
بچے کے سوال کا مذاق نہ اڑائیں:
بعض بچے بہت معصوم یا عجیب سوال پوچھتے ہیں جس پر گھر کے بڑے ہنس پڑتے ہیں، بہن بھائی مذاق بناتے ہیں اور بچہ شرمندہ ہو جاتا ہے۔
والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کے سوال کو خاندان کی محفل میں مذاق کا موضوع نہ بنایا جائے۔ کیونکہ آج جس سوال پر آپ ہنسے ہیں، ممکن ہے کل جب اسے کوئی سنجیدہ مسئلہ درپیش ہو تو وہ آپ سے پوچھنے کے بجائے خاموش رہنا پسند کرے اور یہ بچے کی تربیت میں نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
کبھی بچے کا سوال دراصل شکایت ہوتا ہے:
بچے کبھی کبھی اپنی شکایت سیدھے انداز میں بیان نہیں کرتے بلکہ وہ سوال کی شکل میں اپنے دل کی بات کہتے ہیں۔
مثلاً:” آپ بھائی کو مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں؟“اس سوال کا جواب فوراً یہ نہیں ہونا چاہیے:”فضول باتیں نہ کرو!“ بلکہ والدین کو سوچنا چاہیے کہ بچے کو ایسا محسوس کیوں ہوا؟ کیا واقعی دونوں بچوں کے ساتھ رویے میں کوئی فرق ہے؟کیا ایک بچے کی ضروریات پوری کرتے ہوئے دوسرے بچے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے؟کیا بار بار کسی ایک بچے کی تعریف اور دوسرے پر تنقید ہو رہی ہے؟ الغرض بچے کے احساس کو غلط ثابت کرنے سے پہلے اسے سمجھنا ضروری ہے۔
یہاں والدین یوں کہہ سکتے ہیں:”نہیں بیٹا! ہم دونوں سے محبت کرتے ہیں۔ اگر تمہیں کبھی ایسا محسوس ہوا ہے تو ہمیں بتاؤ، تاکہ ہم تمہارے اس احساس کو دور کرسکیں۔“یہ جواب بچے کے دل میں اعتماد پیدا کرے گا۔
بچوں کے سوالات میں ان کی تربیت کے مواقع تلاش کریں:
بچوں کے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے ہر سوال کو تربیت کا ایک موقع بنایا جا سکتا ہے۔
مثلاً والدین میں سے کسی نے بطورِ مدد کسی کو کچھ پیسے دیے تو بچہ پوچھتا ہے:”ابو! آپ نے اس شخص کو پیسے کیوں دیے؟“یہاں والدین صرف یہ نہ کہیں:”کیونکہ وہ ضرورت مند ہے۔“ بلکہ اسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں، ان میں دوسروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اگر کسی ضرورت مند کی مدد کی جائے تو اس سے ہمارے اندر رحم، شکر اور انسانیت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کسی کی ضرورت پوری کرنا بہت بڑے ثواب کا کام ہے،نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا رہتا ہے، اللہ اس کی حاجت پوری کرتا رہتاہے۔(مسلم، ص1069،حدیث:6578)
اسی طرح بچے کو اگر کسی کا مذاق اُڑانے سے روکا جائے تو وہ بعض اوقات پوچھتا ہے کہ:” ہمیں کسی کا مذاق کیوں نہیں اڑانا چاہیے؟“یہ ایک بہترین موقع ہے کہ اسے بتایا جائے کہ ہر انسان کی عزت ہوتی ہے، کسی کی شکل، لباس، رنگ، زبان، غربت یا کسی کمزوری کو مذاق کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔یوں ایک معمولی سا سوال اخلاقی تربیت کا سبق بن جاتا ہے۔
جب بچہ پوچھے:”ہم اتنے امیر کیوں نہیں؟“یہ سوال عام طور پر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچے اپنے اردگرد دوسروں کو مہنگے موبائل، بڑے گھر، اچھی گاڑیاں یا قیمتی کھلونے استعمال کرتے دیکھتے ہیں۔والدین کو ایسے سوال پر شرمندہ ہونے یا بچے کو ڈانٹنے کے بجائے اسے بہتر انداز میں سمجھانا چاہیے۔ اسے بتایا جا سکتا ہے کہ ہر بندے کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس ایک چیز زیادہ ہے تو کسی کے پاس دوسری۔ اور یہ اللہ پاک کی تقسیم ہے۔ ہمیں اللہ پاک کی تقسیم پر راضی رہنا چاہیے۔ اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا برکت کاسبب اور راضی نہ ہونا بے برکتی کا سبب ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جو کچھ عطا کرتا ہے اُس کے ذریعے اپنے بندے کو آزماتا ہے ، پس جو اُس پر راضی ہو جاتا ہے جو اللہ نے اُس کے لیے حصہ مقرر فرمایا تو اللہ اُس حصے میں اپنے اُس بندے کے لیے برکت دیتا ہے، اور اُس میں وسعت دیتا ہے، اور جو کوئی راضی نہیں ہوتا اُس کے لیے برکت نہیں دی جاتی۔
(مسند احمد،33/403،حدیث:20279)
حساس سوالات پر والدین کا رویہ بہت اہم ہے:
ایک خاص عمر کے بعد بچوں کے سوالات زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔وہ جسمانی تبدیلیوں، بلوغت، شادی، پیدائش، مرد و عورت، موت، بیماری اور معاشرتی مسائل کے بارے میں سوال کر سکتے ہیں۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں والدین کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگر والدین ہر سوال پر غصہ کریں گے تو بچہ خاموش تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کی جستجو ختم نہیں ہوگی۔وہ معلومات کہیں نہ کہیں سے حاصل کرے گا۔ آج کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی نے یہ مسئلہ مزید اہم بنا دیا ہے۔اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچے کی عمر اور ذہنی سطح کے مطابق درست، محفوظ، باوقار اور مناسب معلومات خود فراہم کریں۔
اگر کوئی بات ابھی تفصیل سے بتانا مناسب نہ ہو تو اسے ڈانٹنے کے بجائے کہا جا سکتا ہے:”یہ ایک اہم موضوع ہے۔ میں تمہیں اس کے بارے میں تمہاری عمر کے مطابق سمجھاتا ہوں، اور جو بات ابھی تفصیل سے سمجھنا ضروری نہیں اسے بعد میں سمجھیں گے۔“
والدین کے عمل میں تضاد پر سوال:
بعض اوقات بچہ والدین کے عمل میں تضاد دیکھتا ہے تو وہ اس پر سوال کرتا ہے۔مثلاً
”جب جھوٹ بری بات ہے تو آپ نے جھوٹ کیوں بولا؟“
”آپ کہتے ہیں غصہ نہیں کرنا چاہیے، پھر آپ خود غصہ کیوں کرتے ہیں؟“
”آپ کہتے ہیں موبائل کم استعمال کرو، لیکن آپ خود ہر وقت موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں؟“
”آپ کہتے ہیں وقت کی پابندی کرو، پھر آپ خود دیر سے کیوں آتے ہیں؟“
اس طرح کے سوالات کو سنجیدہ لیتے ہوئے والدین کو اپنے عمل کا دفاع کرنے کے بجائے اگر واقعی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔یہاں یہ کہنا چاہیے کہ ”ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، ان شآء اللہ الکریم میں اپنے رویے کو بہتر کرنے کی کوشش کروں گا۔“ یہ جملہ بھی بچے کی تربیت کا حصہ بن سکتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں اپنے بچوں کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments