فیٹی لیور(NAFLD)
پیٹ کے دائیں جانب پسلیوں کے نیچے واقع جگر انسانی جسم کا نہایتاہم اندرونی عضو ہے، جسے جسم کی ”کیمیائی فیکٹری“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہماری خوراک کو توانائی میں بدلنے، چکنائی کو ہضم کرنے کے لیے ”صفرا“ نامی سیال بنانے اور خون سے زہریلے مادوں کو صاف کرنے کے ساتھ ڈھیروں ضروری کام انجام دیتا ہے۔ اس کی سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر اس کا کچھ حصہ خراب یا کاٹ بھی دیا جائے تو یہ خود کو دوبارہ مکمل طور پر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم، دیگر اعضاء کی طرح یہ بھی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے، جن میں سب سے عام مسئلہ ”فیٹی لیور“ یعنی جگر پر چربی کا جمع ہونا ہے۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے: ایک الکحل (شراب) کے استعمال سے، اور دوسرا الکحل کے بغیر، جسے طبی زبان میں Non-alcoholic fatty liver disease (NAFLD) کہا جاتا ہے۔ عام حالت میں جگر میں معمولی چربی کا ہونا قدرتی ہے، لیکن جب یہ مقدار جگر کے کل وزن کے 5 فیصد سے بڑھ جائے تو اس حالت بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ اس بیماری کو طبی زبان میں فیٹی لیور کہا جاتا ہے۔
ممکنہ وجوہات:
(1)موٹاپا:
بڑھتا ہوا وزن بھی عموماً اس کا سبب ہوسکتا ہے خاص طور پر پیٹ اور کمر کے ارد گرد زائد چربی کا جمع ہونا۔
(2)ذیابیطس (ٹائپ 2 شوگر):
انسولین کی مزاحمت(Insulin Resistance) جگر میں چربی جمع کرنے کا باعث بنتی ہے کہ جب خلیات انسولین کوصحیح استعمال نہیں کرتے تو جسم اضافی چربی خون میں چھوڑ دیتا ہے، جسے جگر اپنے اندر ذخیرہ کر لیتا ہے۔
(3)غیرمتوازن غذا:
پروسیس شدہ کھانے،([1]) بازاری کھانے، فاسٹ فوڈ، مٹھائیاں، کوکنگ آئل کا کثرت سے استعمال اور میٹھے مشروبات اس میں اچھا بھلا حصہ ملاتے ہیں۔
(4)سست طرزِ زندگی:
ورز ش نہ کرنا اور دن بھر بیٹھ کر کام کرنے کی عادت بھی آپ کے جگر میں فیٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
(5)کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائڈز:
خون میں نقصان دہ چربی کی مقدار کا زیادہ ہونا۔
مراحل/علامات:
ابتدائی مرحلے میں جگر پر صرف چربی جمع ہوتی ہے جو بغیر کسی علامت کے خاموشی سے بڑھتی ہے، تاہم بعض اوقات پیٹ کے دائیں جانب اوپر ہلکا بھاری پن یا تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے؛اس مرحلہ پر پرہیز اور ورزش سے مکمل بہتری ہوسکتی ہے لیکن اگر اس پر دھیان نہ دیا جائے تو چربی کی کثرت سے جگر میں سوزش اور ورم پیدا ہو جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ سوزش جگر کو سخت کرکے سکڑنے پر مجبور کر دیتی ہے، اور اگر اب بھی علاج نہ کیا جائے تو جگر مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جسے ”Liver Failure “ کہا جاتا ہے۔
اللہ کریم اس طرح کے جان لیوا امراض سے سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین
بچاؤ اور قدرتی علاج:
خوش قسمتی سے اگر ابتدائی مراحل میں فیٹی لیور کا پتا چل جائے تو بغیر کسی مہنگی دوا کے، صرف اپنے روزمرہ کے اندازِ زندگی میں مندرجہ ذیل تبدیلی لا کر جگر کو دوبارہ %100 صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔
(1)وزن میں کمی:
اپنے جسمانی وزن کا صرف%7سے %10 کم کرنے سے جگر کی چربی میں نمایاں کمی آتی ہے۔
(2)غذا میں تبدیلی:
فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیاء، چینی اور پروسیس شدہ کھانے اور میدے والی چیزوں سے مکمل پرہیز کریں۔ اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں اور فائبر (ریشہ) شامل کریں۔
(3)روزانہ ورزش:
روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز پیدل واک یا ہلکی ورزش جگر سے چربی گھلانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
(4)پانی کا وافر استعمال:
دن میں 8 سے 10 گلاس پانی پئیں تاکہ جسم سے فاسد مادے نکل سکیں۔
فیٹی لیور کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا آگے چل کر ایک بڑا طبی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے الٹراساؤنڈ میں فیٹی لیور کا پتا چلے تو گھبرانے کے بجائے آج ہی سے اپنی غذا اور روٹين کو بہتر بنائیں اور کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
جگر کی حفاظت کے متعلق شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا ایک مختصر مضمون فوائد کے پیشِ نظر شامل کیا گیا ہے:
کئی لوگ رات کو دیر سے گھر پہنچتے، کھاپی کر فارغ ہوتے ہی کچھ دیر چلنے پِھرنے کے بجائے فوراً ہی بستر پر لیٹ جاتے ہیں، طبّی اعتبار سے ان کی یہ عادت ان کے لیے نقصان کا باعث ہے، اس سے پیٹ پھولتا، کولیسٹرول بڑھتا، شوگر پرابلم ہوجاتا، جسم کے مختلف حصوں میں درد ہوتا، وزن بڑھتا، کمر کی ہڈی میں تکلیف پیدا ہوتی اور نہ جانے کیا کیا بیماریاں جسم میں داخل ہوجاتی ہیں۔ وَزْن بڑھانے میں مذکورہ بےاحتیاطی کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں مِٹھاس، میدہ اور جمنے والی چکناہٹ جس میں چربی، گھی اور بعض تیل بھی شامل ہیں۔ ان کے زیادہ استعمال نیز بیٹھ کر دیر تک لکھنے پڑھنے یا دفتری کام کرنے، پیدل چلنے کے بجائے صِرْف اسکوٹر یا کار وغیرہ میں سفر کرنے، چار زانو یعنی چَوکَڑی مار کر بیٹھ کر کھانے، ٹیبل کرسی پر پاؤں لٹکا کر کھانے، کھانا زیادہ کھانے، زیادہ گَرْم کھانے، بدن کا وَزْنْ اکثر بائیں (یعنی Left) طرف ڈالنےمَثَلاً بیٹھے ہوئے یا کھانا کھاتے ہوئے بایاں (یعنی Left)ہاتھ زمین پر ٹیکنے، دیوار وغیرہ پر بائیں (یعنی Left) طرف سہارا لینے، پانی پی کر فوراً سوجانے کا بھی وزن بڑھانے میں بڑا دخل ہے۔ ایسوں کی ایک تعداد ہے جن کے جگر پر چربی ہوجاتی ہے حالانکہ بندہ جگر کے بَل پر زندہ رہتا ہے، بے شک دِل بھی بدن کا اہم ترین حصہ ہے مگر جگر بھی کم اہم نہیں، ایسے افراد کو چاہیے کہ پہلی فرصت میں اپنے کلیجے یعنی جگر کی خبر لیں اور اس کا ٹیسٹ کروائیں، اور اگر کچھ نکل آئے تو مت گھبرائیں، کسی اچھے حکیم سے مشورہ کرکے روزانہ پابندی سے ایک کریلے کا جوس پئیں اور صبح صبح درمیانی رفتار سے ایک گھنٹا یا کم از کم پَون گھنٹا (یعنی45منٹ) پیدل چلیں، بلکہ تندرست ہو یا مریض جو پیدل چل سکتا ہو تو میری گزارش ہے کہ وہ چلے اور کچھ نہ کچھ وَرْزِش بھی کرے، اس سے جگر کی چربی پگھلے گی،ایک آدھ مہینا اس نسخے پر عمل کرکے آپ دوبارہ ٹیسٹ کروائیں گے تو اگر چربی ختم نہ بھی ہوئی ہوگی تو کمی ضرور آئی ہوگی اِن شآءَ اللہ الکریم، پھر اس نسخے پر عمل جاری رکھیں گے تو اِن شآءَ اللہ آپ کا جگر کلیئر ہوجائے گا۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ ”سَو دَوا کی اِک دوا پرہیز ہے۔“ لہٰذا ڈاکٹر آپ کو بولے اس سے پہلے میری بات مان لیجئے اور اپنی صحت کا اس لیے خیال رکھئے تاکہ بہتر طریقے سے عبادت کی جاسکے۔ نیز جن کا وزْن بڑھا ہوا ہے ان کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب”فیضانِ سنّت“ کے دو ابواب ”آدابِ طعام“، ”پیٹ کاقفلِ مدینہ“ اور رسالہ ”وَزْن کم کرنے کا طریقہ“ کا مطالعہ بہت ہی مفید ہے۔
اللہ پاک ہمیں ظاہری و باطنی بیماریوں سے نجات عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری2023ء، بیک ٹائٹل)
(نوٹ:اس مضمون کی طبی تفتیش ڈاکٹر جنید حنیف (میڈیکل آفیسر NICVD) نے کی ہے۔)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ذمہ دار ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments