عزّتِ مسلم کی حفاظت کا انعام
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا: مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ اَخِیهِ الْمُسْلِمِ كَانَ حَقًّا عَلَی اللهِ اَنْ يَّرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزّت بچائی اللہ پاک اُسے قیامت کےدن جہنّم کی آگ سے بچائے گا۔ ([1])
عزّت بچانےسےمراد:
مسلمان کی عزّت بچانے سےمرادیہ ہےکہ اُس کی غیبت کرنے،عیب لگانےاورتکلیف پہنچانے والے کو روکنا یا دفاع کرنا ہے، اور یہ دفاع اُسے جہنم سےنجات دلائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ عزّت؛خون کی طرح ہےلہٰذا عزّت پامال کرناخون بہانے اورعزّت بچاناخون بچانے کی طرح ہے۔([2])
معاشرے کی ترقی اوربقاکےلیےامن وامان ضروری ہے اور اس کا حصول ایک دوسرےکےحقوق کی حفاظت کیے بغیر ممکن نہیں یہی وجہ ہےکہ اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حق تلفی پر وعیدیں بیان کرکے اِس سےروکا، حفاظتِ حقوق کی تاکیدکی اوراِسےپوراکرنےوالوں کوخوش خبری سنائی ہے، اِنہی میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے، آئیے!اس اہم ترین حدیث کومزید سمجھتے ہیں:
(1)اسلامی بھائی چارہ اور اِس کے تقاضے:
اس حدیث میں ”اپنے مسلمان بھائی“کا لفظ آیا ہے جو کہ احترامِ مسلم کااحساس دلاتا ہے، اور اِس حقِ بھائی چارہ کو ادا کرتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرنے پر جہنّم سے نجات کو بطورِ انعام و بشارت ذکر کیا گیا ہے۔اسلامی بھائی چارے کی فضیلت اورتقاضے پر چند احادیث پڑھتے ہیں:
(1)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسوا کرے، جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کو دور کرتا ہے تو اللہ پاک قیامت کے دن اس کی آزمائشوں میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گا اورجوشخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے قیامت کےدن اللہ پاک اس کاپردہ رکھےگا۔([3])
(2)حضر ت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:سب مسلمان ایک فرد کی طرح ہیں ،جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہو توسارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگر سرمیں دردہوتوسارے جسم میں درد ہوگا۔([4])
(3)حضرت ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سےروایت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےفرمایا:ایک مسلمان دوسرے مسلمان کےلیے عمارت کی طرح ہے جس کابعض حصّہ بعض کومضبوط کرتا ہے۔([5])
(2)جہنم سے بچانے والے والا عمل:
زبان اگرچہ ہوتی چھوٹی ہے، حرکت دینے میں عام طور پر کوئی مشقت اور تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی مگراِس کی کے ذریعے نافرمانی بڑی ہوتی ہے، جسم کے دیگر حصّوں کے مقابلے میں زبان کا اثر زیادہ ہے، عموماًزیادہ گناہ بھی اسی سے سرزد ہوتےہیں،فتنے فسادات کازیادہ تر دارومدار بھی زبان پرہے، تکلیف دینے میں سب سے بڑاہتھیار زبان ہی ہے۔ جیسے زبان سے بہت سارے گناہ کیے جاتے ہیں اسی طرح اِس سے بہت زیادہ نیکیاں بھی کی جا سکتی ہیں، اِنہی نیکیوں میں سے بہت بڑی نیکی زبان کےذریعے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت کرنا بھی ہے، زبان کا یہ وہ عمل ہے جوہمیں جہنم سے نجات دلائے گا۔اِنْ شَآءَاللہ الکریم
مسلمان کی عزّت کی حفاظت کیسے کریں؟
جہنم سے نجات بہت بڑا انعام ہے، انعام بڑا ہو تواُس کے حصول کے لیے جدوجہد بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے تو آئیے! اِس سلسلے میں چند ایسے اصول مقرّر کرلیتے ہیں جن کو اپنا کر ہم مسلمانوں کی عزّت کی حفاظت کرسکتے ہیں:
(1)مسلمان بھائی کی برائی نہ سننے کا عہد کیجیے:
اللہ کریم نے ہمیں چٹانوں سے مضبوط اور پہاڑوں سے بلندعزم کی نعمت سے نوازا ہے اگر ہم مشکل سے مشکل کام کرنے کا پختہ ارادہ کرلیں اور اللہ کی رحمت شامل ہو تو الحمدللہ وہ کام ہوجاتا ہے۔ اپنے مسلمان بھائی کی برائی نہ سننے کاپختہ عزم ہو توپھر ایسے نازک موقع پرشرم وجھجک رکاوٹ نہیں بنتی اور کسی کارعب و دبدبہ طاری نہیں ہوتااور کسی کی بدزبانی کاڈر یاملامت کاخوف آڑے نہیں آتا۔اگرکہیں زیادہ مشکل صورت حال بن بھی جائے تو یہی پختہ عزم حکمت ِ عملی پر مشتمل کئی راستے دکھاتا ہے، ایسے ہر موقع پرمسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ پیشِ نظر رہنا چاہیے چنانچہ ایک موقع پر آپ نے لوگوں سے پوچھا: جب تم کسی(بدزبان) کو اپنے بھائی کی عزت کی دھجیاں اُڑاتے دیکھتے ہوتب تمہیں کیا ہوجاتا ہے کہ اُسے روکتے نہیں؟ لوگوں نےعرض کی:ہم اُس کی زبان سے ڈرتےہیں۔فرمایا: یہ زیادہ قریب ہےکہ تم (قیامت کے دن) گواہی کےلائق نہ رہو۔([6])
(2)خاموش تائید بھی ہرگز مت کیجیے:
اگرکسی مسلمان کی غیبت وغیرہ کی جا رہی ہو تو ایسے موقع پر مسکرانا یا خاموش رہنا بھی ایک طرح کی تائید کی صورت ہے جوسامنے والے کی اِس کبیرہ گناہ پر حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتی ہے ایسے موقع پر براہِ راست روکنا ممکن نہ ہو تو ناگوار تأثر ظاہر کرنا مسلمان کی عزت بچانے اور ہلکی بات کرنے والے کو روکنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
(3)موضوع بدل دیجیے:
کسی فردکی غیرموجودگی میں ”غائبانہ اصلاح“ کاخوب صورت عنوان دے کر اُس کی غیبت ،عیب جوئی یا تہمت وغیرہ جیسےزبانی گناہ کیے جارہے ہوں تو ایسے گناہوں کے تسلسل کوتوڑنے کے لیے حکمت ودانائی کے ساتھ موضوع بدل دینا بہت مفید رہتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں لوگوں سے یہ بدترین موضوع چھڑوانے کے لیے ذکرِ خدا ومصطفےٰ کرنا، بزرگانِ دین کے فرامین یاواقعات سنانا، لوگوں کےذاتی مشاہدے، مطالعے اور تجربات کے بارے پوچھنا یابتانا ،خوش طبعی پر مشتمل کوئی سبق آموز حکایت سنا دینا ماحول کو خوش گوار بنانے کا ذریعہ ہے۔
(4)سمجھاناسیکھ لیجیے:
کب، کہاں، کیا اور کیسے بولنا ہے؟ یہ آجائے توزندگی پرسکون اور معاشرے کاماحول خوشگوار ہوجاتا ہے، دعوتِ اسلامی اس حوالے سے اعلیٰ ترین درس گاہ ہے جہاں سے لاتعداد لوگوں نے سمجھاناسیکھا ہے اور اب وہ پوری دنیا کے لیے باعثِ خیر بنے ہوئے ہیں۔یہ سب بتانے کامقصد یہ ہے کہ آپ بھی عزّتِ مسلم کی حفاظت کرنے کا عزم کرچکے ہیں تو دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوکر سمجھانے کا ہنر بھی سیکھ لیجیےیہ وہ صلاحیت ہے جو آپ کو دین ودنیا میں کامیاب وکامران کروانے کاذریعہ ثابت ہوگی۔ اِنْ شَآءَاللہ الکریم
اللہ کریم ہمیں احترامِ مسلم کا جذبہ نصیب کرے اور مسلمانوں کی عزّت کامحافظ بناکر دین و دنیا کی بھلائیاں عطافرمائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی

Comments