حضرت عزیر علیہ السّلام کا قرآنی تذکرہ


حضرت عزیر علیہ السّلام کا قرآنی تذکرہ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے واقعات کو محض تاریخ بیان کرنے ‏کے لیے نہیں بلکہ عبرت، نصیحت اور ایمان کی تقویت کے لیے ذکر فرمایا ہے۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں ایک نام حضرت ‏عزیر علیہ السّلام کا بھی ہے، جن کا واقعہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 259 میں نہایت دلنشیں انداز میں بیان ہوا ہے۔ اگرچہ اس ‏آیت میں نام کی صراحت نہیں، تاہم اکثر مفسرین کرام کے نزدیک اس سے مراد حضرت عزیر علیہ السّلام ہی ہیں۔

قرآن مجید میں یہ واقعہ کچھ یوں بیان ہوا ہے کہ ایک بستی، ‏جسے اکثر مفسرین بیت المقدس سے تعبیر کرتے ہیں، اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی، اس کے مکین ہلاک ہو چکے تھے۔ اس ‏ویران و برباد بستی سے گزرتے ہوئے اس بزرگ ہستی کی زبان سے بے ساختہ یہ کلمات نکلے کہ اللہ تعالیٰ اس مردہ بستی کو ‏موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا۔ یہ سوال انکار کی بنا پر نہیں بلکہ عین الیقین کی بنا پر تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر ‏علیہ السّلام کی روح قبض فرما دی۔ جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَاۚ-قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَاۚ-فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗؕ-

ترجَمۂ کنزالعرفان: یا (کیا تم نے) اس شخص کو (نہ دیکھا) جس کا ایک بستی پر گزر ہوا اور وہ بستی اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی تو اس شخص نے کہا: اللہ انہیں ان کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے اسے سو سال موت کی حالت میں رکھا پھراسے زندہ کیا۔ (پ3، البقرۃ:259)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سو برس گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی عطا فرمائی اور فرمایا کہ کتنی مدت یہاں ٹھہرے۔ انہوں نے ‏عرض کیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم عرصہ۔ ارشاد ہوا:

قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْۚ-وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًاؕ-

ترجَمۂ کنز العرفان: اللہ نے فرمایا: (نہیں)بلکہ تو یہاں سوسال ٹھہرا ہے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بدبودار نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو دیکھ (جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں)اور یہ (سب) اس لیے (کیا گیا ہے)تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادیں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کہ ہم کیسے انہیں اٹھاتے (زندہ کرتے)ہیں پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں۔(پ3، البقرۃ:259)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ہی اس گدھے کی بکھری ہڈیوں کو جوڑ کر ان پر گوشت پوست چڑھایا اور ‏اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔ یہ منظر دیکھ کر ان کی زبان سے بےساختہ نکلا کہ

اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۵۹)

ترجمہ کنز العرفان: میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(پ3، البقرۃ:259)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ واقعہ ‏درحقیقت قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیے جانے کے یقین اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر ایک واضح دلیل کے طور پر پیش کیا ‏گیا ہے، تاکہ ہر دور کا انسان اس سے سبق لے کہ جس ذات نے مردہ ہڈیوں کو دوبارہ زندگی بخشی، وہی ذات قیامت کے دن ‏تمام مخلوق کو دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔

حضرت عزیر علیہ السّلام کا دوسرا تذکرہ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 30 میں ملتا ہے، جہاں یہود کے ایک گمراہ گروہ کے اس ‏باطل عقیدے کا ذکر ہے کہ وہ حضرت عزیر علیہ السّلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، جیسے نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے ‏بارے میں غلو کا شکار تھے۔ قرآن مجید نے اس باطل عقیدے کی سختی سے تردید فرمائی اور اسے ان لوگوں کے منہ کی بے بنیاد باتیں قرار دیا جو پہلے ‏کافروں کے اقوال کی مشابہت رکھتی ہیں۔ چنانچہ ارشادی باری تعالیٰ ہے:

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ﰳابْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْۚ- یُضَاهِــٴُـوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُؕ-قٰتَلَهُمُ اللّٰهُۚ-اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(۳۰)

ترجَمۂ کنزالعرفان: اور یہودیوں نے کہا: عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا: مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی اپنے منہ سے کہی ہوئی بات ہے، یہ پہلے کے کافروں جیسی بات کرتے ہیں۔ اللہ انہیں مارے،کہاں اوندھے جاتے ہیں ؟

(پ10، التوبۃ: 30)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیت اس بات کی طرف واضح رہنمائی کرتی ہے کہ کسی نبی یا بزرگ ہستی کی محبت ‏و عقیدت میں اس حد تک غلو کرنا کہ اسے الوہیت یا اللہ کی اولاد میں شمار کر لیا جائے، سراسر شرک و کفر ہے۔ حضرت عزیر ‏علیہ السّلام خود اس باطل نظریے سے یکسر بری اور اللہ تعالیٰ کے مقرب و برگزیدہ بندے تھے۔

ان دونوں مقامات پر حضرت عزیر علیہ السّلام کے تذکرے سے امتِ مسلمہ کے لیے دو بنیادی سبق ملتے ہیں:

 پہلا یہ کہ ‏اللہ تعالیٰ کی قدرت پر مکمل یقین رکھنا چاہیے، چاہے عقل کسی امر کی حقیقت کو فوری طور پر سمجھنے سے قاصر ہو، کیونکہ جو ‏ذات مردہ کو زندہ کرنے پر قادر ہے وہی ذات قیامت کے دن دوبارہ اٹھانے پر بھی قادر ہے۔

 دوسرا یہ کہ انبیا و اولیا کی ‏محبت میں اعتدال ضروری ہے، اور کسی بھی نیک ہستی کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنا جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے منافی ہو، ‏شرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے حضرت عزیر علیہ السّلام کا ذکر دو الگ الگ مقامات پر، دو الگ الگ پہلوؤں سے فرما ‏کر امتِ محمدیہ کو عقیدے کی درستگی اور یقینِ آخرت کی مضبوطی کا سبق عطا فرمایا۔

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر درست عقیدہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share