اسلام اور شخصی نکھار (قسط:02 )


اسلام اور شخصی نکھار (قسط:02 )


اللہ کریم نے اسلامی تعلیمات کوایسی عالمگیر وسعت، گہرائی و گیرائی بخشی ہے کہ اس میں اپنے ماننے والوں کی شخصیت کے نکھار کے لیے ایک مضبوط و فائدہ مند تربیتی نظام موجود ہے، اس نظام میں دل کی نگرانی بھی ہے، عمل کی پابندی بھی،نفس کی تربیت بھی،صحبت کا انتخاب بھی، عادات کی اصلاح بھی اور مسلسل خود احتسابی بھی۔ گویا اسلام انسان کو صرف منزل نہیں بتاتا بلکہ منزل تک پہنچنے کے راستے بھی دکھاتا ہےاس لیے کہ شخصی نکھار اتفاقاً پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے تربیت کے ذریعے شعوری طور پر پیدا کیا جاتا ہے۔یعنی اسلام صرف یہ نہیں کہتا کہ اچھے بن جاؤ، بلکہ وہ اچھا بننے کے ذرائع اور راستے بھی دیتا ہے۔یاد رہے کہ شخصیت کا نکھار محض ایک خوب صورت خواہش نہیں کہ انسان چاہے اور اچانک اس کے مزاج، عادات اور کردار میں انقلاب آجائے۔ شخصیت بنتی بھی ہے، بگڑتی بھی ہے اور سنورتی بھی ہے۔ انسان کے روزمرہ معمولات، اس کی صحبت، اس کی سوچ، اس کے ردِّعمل، اس کے فیصلے اور بار بار دہرائے جانے والے اعمال رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کو متعین کرتے ہیں۔ اسی لیے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے صرف یہ جان لینا کافی نہیں کہ اچھا انسان کیسا ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اچھا انسان بننے کے لیے عملی طور پر کیا کیا جائے؟بعض اوقات تھیوری موجود ہوتی ہے اور جب اس کا پریکٹیکل کیا جائے تو نتیجہ وہ حاصل نہیں ہوتا جس کے لیے پریکٹیکل کیا گیا تھا، لیکن اسلام کو اللہ پاک نے ایسی اُجلی اور نکھری تعلیمات عطا فرمائی ہیں کہ جب جب،جہاں جہاں انہیں اپنایا گیا ہے نتیجہ ہمیشہ دو اور دو چار کی طرح ایسا صاف واضح نظر آتا ہے جیسے آفتابِ نیم روز روشن و ظاہر ہوتا ہے۔

سوچ اور فکر کا نکھار:

انسان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو اس کی سوچ ہے۔ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی دیکھتا،سمجھتا اور بالآخر ویسا ہی عمل کرتا ہے۔ اسی لیے اگرشخصیت کی تعمیر مطلوب ہو تو صرف عادات اور ظاہری رویّوں کی اصلاح کافی نہیں بلکہ فکر کی اصلاح بھی ضروری ہے۔اسلام انسان کو سمجھ کر ماننے، غور کرکے دیکھنے اور حکمت کے ساتھ فیصلہ کرنے والا انسان بناتا ہے۔یہ اسلام ہی ہے کہ جو انسان کو جذباتی، سطحی اور اندھی تقلید والی سوچ سے نکال کر وحیِ مَتلو اور وحیِ غیر متلو (یعنی قرآن و حدیث) کی رہنمائی میں غوروفکر، تدبر، بصیرت اور حکمت والی شخصیت بناتا ہے۔وہ جب جب قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے تو اَفَلَا تَعْقِلُونَ، اَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ، لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ جیسی آیات اس کی سوچ اور فکر کو مضبوطی عطا کرتی اور اس میں ایسی بصیرت پیدا کرتی ہیں کہ وہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو سونا نہیں سمجھتا۔ہر مقبول و مشہور بات کو درست نہیں مانتا۔ ہر وائرل خبر کو سچ نہیں سمجھتا۔ہر شخص کی رائے کو دلیل کا درجہ نہیں دیتا بلکہ سوچتا ہے، پرکھتا ہے، تحقیق کرتا ہے اور پھر رائے قائم کرتا ہے۔ اسلام توحید و رسالت کی شہادت کے ذریعے سب سے پہلے مسلمان کے دِل کو صاف کرتا ہے، جب دل سنورتا ہے تو سوچ اور فکر سنورتی ہے، فکر سنورتی ہے تو عمل سنورتا ہے،پھر عادت بنتی ہے، عادت کردار بناتی ہے، کردار شخصیت بناتا ہے اور نکھری ہوئی شخصیات ہی نکھرے ہوئے معاشرے تشکیل دیتی ہیں۔

اَخلاق کانکھار:

اسلامی تعلیمات بندے کو باکردار بناتی ہیں،شخصی نکھار اخلاقی نکھار کے بغیر ادھورا اور نامکمل ہے۔نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ صَالِحَ الْاَخْلَاقِ یعنی میں تو بھیجا ہی اس لیے گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں۔(مسند احمد، 14/513، حدیث:8952)یاد رہے!اخلاقی نکھار سے مراد انسان کے اندر ایسے اچھے اوصاف، عادات اور رویّوں کا پیدا ہونا ہے جو اسے اپنے رب کے ساتھ، اپنی ذات کے ساتھ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے کے قابل بنائیں۔اس میں صرف ’’اچھا برتاؤ‘‘ شامل نہیں بلکہ انسان کی پوری اخلاقی شخصیت شامل ہے۔عقل و شعور رکھنے والا ہر آدمی جانتا ہے کہ علم انسان کو ممتاز کرسکتا ہے، مال اسے خوش حال بنا سکتا ہے، منصب اسے بااثر بنا سکتا ہے اور ظاہری وجاہت اسے لوگوں کی نگاہوں میں نمایاں کرسکتی ہےمگر دلوں میں جگہ بنانے، اعتماد حاصل کرنے اور دوسروں کے لیے باعثِ سکون بننے کی صلاحیت عموماً حسنِ اخلاق ہی عطا کرتا ہے۔ سچائی، امانت، وفائے عہد، حیا، تواضع، حلم، صبر، عفو و درگزر، سخاوت، ایثار، رحم و شفقت، خیر خواہی، حسنِ ظن، عدل و انصاف اور حقوقُ العباد کی پاسداری جیسے اوصاف جب انسان کے مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں تو اس کی شخصیت میں ایک ایسا نکھار پیدا ہوتا ہے جو ظاہری آرائش سے کہیں زیادہ دیرپا اور مؤثر ہوتا ہے۔ اچھا اخلاق انسان کو صرف دوسروں کے لیے محبوب نہیں بناتا بلکہ اسے اپنے نفس پر قابو پانے، جذبات کو متوازن رکھنے اور مختلف حالات میں اپنے وقار کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی نکھار کو شخصی نکھار کا محض ایک حصہ نہیں بلکہ اس کا نمایاں ترین مظہر کہا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کا باطن کتنا ہی سنورا ہوا کیوں نہ ہو اس کی خوشبو دوسروں تک اس وقت پہنچتی ہے جب وہ اس کے کردار، گفتگو اور معاملات میں ظاہر ہوتی ہے۔ یوں اخلاق انسان کی باطنی پاکیزگی کو اس کے ظاہر سے جوڑ دیتا ہے اور اس کے وجود کو اپنے لیے بھی باعثِ سکون اور دوسروں کے لیے بھی باعثِ خیر بنا دیتا ہے۔یوں کہہ لیجئے کہ ایمان انسان کو اندر سے سنوارتا ہے، عبادت اسے تربیت دیتی ہے، اور اچھے اخلاق اس نکھار کو دوسروں کے سامنے کردار کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں۔اسلام نے عرب کے لڑاکا،درشت رو،اَکھڑ اور بد مزاج لوگوں کو کیسے رشکِ عرب و عجم بنایا،وہ کون سا نصاب تھا کہ جس نے انہیں یکسر بدل کر رکھ دیا،یہ اُجلی اور نکھری شخصیات کس لائحۂ عمل کے مطابق زندگی گزارتے تھے جو آج زمانہ ان کی مثالیں پیش کرتا ہے اسی سریع الاثر نصاب کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے تاکہ ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ اگر ہم شخصی نکھار چاہتے ہیں تو اسلامی تعلیمات کو اپنانا پڑے گا۔

شخصی نکھار کا اسلامی نصاب:

جب نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں سے پوچھا:وہ کون سا دین ہے جس کی وجہ سے تم اپنی قوم سے بچھڑ گئے (یعنی ہجرت کر آئے) نہ میرے دین میں داخل ہوئے اور نہ ہی ان امتوں میں سے کسی کا دین قبول کیا؟ تو مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نجاشی سے گفتگو کی اور فرمایا:اے بادشاہ! ہم جاہل تھے۔ بتوں کو پوجتے، مردار کھاتے،فواحش و بیہودگی کا اِرتکاب کرتے تھے۔ قطع رحمی و امان کو توڑ نا ہمارا شیوہ تھا۔ طاقتور، کمزور کے حقوق غصب کرلیتے تھے۔ہم انہی گمراہیوں میں بھٹک رہے تھے کہ اللہ پاک نے ہمارے درمیان ایک رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مبعوث فرمایا۔ ہم ان کے نسب، سچائی، امانت داری اور پاکدامنی کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اللہ کریم کی وحدانیت وعبادت کی طر ف بُلایا اورحکم دیا کہ ہم صرف ایک خدا کی عبادت کریں اور اُن پتھروں اور بتوں کو چھوڑدیں جن کی ہم اورہمارے آباء و اَجدادپر ستش کرتے تھے۔نیزہمیں سچ بولنے، امانت اداکرنے، صلہ رحمی اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے، حرام کردہ چیزوں سے باز رہنے اور خون ریزی سے رُکنے کا حکم دیا، بے حیائی، جھوٹ، یتیم کا مال کھانے اورپاکدامن پر تہمت لگانے سے منع فرمایا۔ انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ پاک کی عبادت کریں،اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں نیز انہوں نے ہمیں نما زپڑھنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اسی طرح حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے متعدد اسلامی امور بیان کرنے کے بعد فرمایا:پس ہم نے ان کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے اور وہ احکام جو اللہ کی طرف سے لائے ان کی اتباع کی۔اور ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا۔ جس چیز کو اس نے ہم پر حرام کیاہم نے اسے حرام جانا اور جس کو حلال کیا اسے حلال جانا۔ پس اس بات پر قوم ہماری دشمن بن گئی۔ انہوں نے ہمیں طرح طرح سے ستایا اور دین کے معاملہ میں آزمائش سے دو چار کیا تا کہ ہم اللہ پاک کی عبادت چھوڑ کر بتوں کو پوجنا شروع کردیں اور خبائث کو دوبارہ حلال سمجھیں جب انہوں نے ہمیں حدسے زیادہ ستایا، مظالم ڈھائے، ہماری راہیں تنگ کردیں، ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان حائل ہوگئے،تب ہم تمہارے ملک کی طر ف نکل آئے۔ اے بادشاہ! اس امید پر کہ تیری پناہ میں ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، ہم نے دوسروں کو چھوڑ کر تیرا ملک پسند کیا اور تیرے پڑو س کو تر جیح دی۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے مزید بھی گفتگو فرمائی جسے سُن کر نجاشی بادشاہ نے اپنی ایک خواہش کا یوں اظہار کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بےشک!حضرت محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اللہ کے وہی رسول ہیں جن کی بِشارت حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اِنجیل مُقَدَّس میں دی اور اگر میں دستورِ سلطنت کے مطابق تختِ شاہی پر رہنے کا پابند نہ ہوتا تو میں خود مکہ مکرمہ جاکر اس آخری نبی (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی نعلین شریف سیدھی کرتا اور ان کے مبارک قدم دھوتا۔(مسند احمد، 37/170، حدیث: 22498 مختصراً) حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اس خطبے نے اسلام کا پورا نصاب بیان کر دیا ہے کہ جو شخصی نکھار کی اساس اور بنیاد ہے اس لیے سوچ، فکر، اخلاق و کردار کی پاکیزگی کے لیے اسلامی تعلیمات پر عمل کریں تاکہ فرد کے نکھار کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھی نکھار آئے۔


Share