محدث شام امام ضیاء الدین مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ
امام ضیاءُ الدّین مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت 16جُمادَی الاُخریٰ 569ھ بمطابق 11جنوری 1174ءکو دیر مبارک جبل قاسیون (دمشق، شام) میں ہوئی۔
نام ونسب:
ضیاءُ الدّین محمد بن عبد الواحد بن احمد بن عبدالرحمٰن بن اسماعیل بن منصور سعدی مقدسی حنبلی۔
کنیت ولقب:
کنیت ابو عبداللہ اور لقب ضیاءُالدّین ہے۔([1]) آپ کا تعلق خاندان مقادسہ سے تھا جو ایک عرصہ سے علم و کمال، زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں مشہور و معروف تھا۔ اس خاندان میں بڑے بڑے علما اور حدیث کے بڑے حفاظ گزرے ہیں۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے دین دار گھرانے کے علمی ماحول میں پرورش پائی، بچپن ہی میں قرآنِ کریم حفظ کر لیا اور علمِ حدیث کی مجلسوں میں شرکت کرنے لگے۔ سات سال کی چھوٹی عمر میں شیخ اِبنِ سیدہ ابوالمعالی رحمۃُ اللہ علیہ وغیرہ اکابر محدثین سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ امام حافظ عبدالغنی مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ کی صحبت میں بڑا عرصہ رہے اور انہیں سے علم حدیث وغیرہ کی تکمیل کی اور اپنے ماموں امام ابو عمر محمد مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ سے بھی خوب استفادہ کیا۔([2]) آپ نےعلم کے حصول کے لیے بہت سے سفر کیے، بڑے بڑے علما اور محدثین سے اکتساب فیض کیا۔ آپ نےحصول علم کے لیے مصر، بغداد (عراق)، ہمدان (ایران)، نابلس (فلسطین)، اصفہان (ایران)، نیشاپور (ایران)، ہرات (افغانستان)، مرو (ترکمانستان)، حلب، حران، موصل (عراق)، مکۂ معظمہ اور مدینۂ منورہ و غیرہ کا سفر کیا۔([3])
اساتذہ:
آپ نے جن اہلِ علم حضرات سےعلم حاصل کیا ہے ان کی تعداد ایک قول کے مطابق پانچ سو سے زائد ہے۔([4]) ان میں سے کچھ نامور شخصیات کے نام یہ ہیں:امام عبدالغنی مقدسی،امام موفق الدین اِبنِ قدامہ حنبلی، عظیم محدث امام ابو طاہر سلفی، شیخ ابراہیم بن عبدالواحد مقدسی، شیخ ابو عمر محمد بن احمد بن محمد بن قدامہ مقدسی، محدث ابوالقاسم ھبۃ اللہ بن علی بوصیری، فقیہ ابن نجیہ، شیخ عمر بن علی جوینی،ابو جعفر صیدلانی، شیخ عبد الباقی بن عثمان،شیخ شافیہ ابوالمظفر اِبنِ سمعانی، مسند خراسان امام مؤید طوسی، امام عبدالرحمٰن اِبنِ جوزی رحمۃُ اللہ علیہم۔([5])
سیرت و کردار:
حضرت امام ذہبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ لوگوں کے ساتھ بہت بھلائی کرنے والے اور ان کے ہمدردتھے، تہجد گزار تھے، لوگوں کو بھلائی کا حکم دینے والے تھے، خوش شکل اور پُروقار بزرگی والے تھے، اپنے پرائے سب آپ کو پسند کرتے تھے۔([6]) حضرت امام اِبنِ حاجب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آپ علمائے ربانین میں سے تھے۔عبادت کے لیے خوب کوشش کرنے والے اور ذِکرِ الٰہی میں مشغول رہنے والے تھے۔ حضرت امام اِبنِ نجار رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آپ زاہد،متقی اور پرہیزگار انسان تھے۔ حلال کھانے کے معاملے میں محتاط اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے تھے۔ میں نے آپ جیسا باکردار اور تحصیلِ علم میں اچھے طریقے والا کوئی نہیں دیکھا۔([7]) امام اِبنِ کثیر رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ بڑے عبادت گزار، زہد و تقویٰ کے پیکر اور بھلائی کے کاموں میں ممتاز تھے۔([8])
دارُ الحدیث کا قیام:
آپ نے علمِ حدیث کی اشاعت کے لیے جامع مظفری میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی اور بعض اہلِ خیر حضرات نے اس میں آپ کے ساتھ تعاون بھی کیا۔ آپ نے اسے دارُالحدیث بنایا اور اپنی کتابیں اس مدرسے کے لیے وقف فرما دیں۔ آپ کے وقف فرمانے کے بعد دیگر جلیلُ القدر علما نے بھی اس مدرسے کے لیے اپنی کتابیں وقف فرمائیں جن میں امام شیخ موفق، حضرت بہاء عبد الرحمٰن، حضرت امام حافظ عبد الغنی، حضرت امام اِبنِ حاجب، حضرت امام اِبنِ سلام، حضرت اِبنِ ہامل اور حضرت شیخ علی موصلی رحمۃُ اللہ علیہم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔([9])
تلامذہ:
آپ سے علم حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:امام اِبنِ نقطہ، محدثِ عراق امام اِبنِ نجار، امام شرفُ الدین اِبنِ نابلسی،امام سیفُ الدّین اِبنِ مجد، امام زکیُ الدّین برزالی،امام اِبنِ بقاء ملقن، شیخ عبداللہ بن ابوطاہر مقدسی، امام اِبنِ ازہر صریفینی، حافظ ابوالعباس اِبنِ ظاہری، امام اِبنِ حاجب، امام اِبنِ سلام رحمۃُ اللہ علیہم۔([10])
جہاد میں شرکت:
علمی و دینی مصروفیات کے باوجود آپ جہاد میں بھی شریک ہوئے اور سلطان صلاحُ الدّین ایوبی رحمۃُ اللہ علیہ کی قیادت میں صلیبیوں کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔([11])
تعریفی کلمات:
(1)حضرت امام زکیُ الدّین برزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آپ حدیث کے حافظ، ثقہ، علم کے پہاڑ، دین دار اور بھلائی کے پیکر تھے۔([12])(2)امام شیخ عزالدّین اِبنِ عز رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام دارقطنی رحمۃُ اللہ علیہ کے بعد ہمارے شیخ ضیاءُ الدّین مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ جیسا کوئی نہیں آیا۔([13]) (3)امام حافظ ابوالحجاج مزی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے آپ جیسا نہیں دیکھا، آپ علمِ حدیث اور علمِ اسماءُ الرجال میں محدثِ کبیر حافظ عبد الغنی رحمۃُ اللہ علیہ سے بھی بڑھ کر تھے اور آپ کے وقت میں آپ جیسا کوئی نہیں تھا۔([14]) (4)حافظ حدیث امام یوسف بن بدر رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک شیخ ضیاءُ الدّین مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ پر رحم فرمائے آپ حفظِ حدیث اور رجالِ حدیث کی معرفت میں عظیم شان کے حامل تھے۔ حدیث کے صحیح اور ضعیف ہونے میں آپ کی جانب اشارہ کیا جاتا تھا، میری آنکھ نے آپ جیسا نہیں دیکھا۔([15]) (5)امام ذہبی رحمۃُ اللہ علیہ نے ان الفاظ سے آپ کی تعریف فرمائی: شیخ، امام،حافظ، محقق،حجت،بقیۃُ السلف۔([16])(6)امام شیخ عمر بن حاجب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمارے شیخ ضیاءُالدّین مقدسی رحمۃُ اللہ علیہ علم، حفظِ حدیث، ثقاہت اور دین داری میں یگانہ روزگار شخصیت تھے۔([17]) (7)امام اِبنِ رجب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حافظ کبیرابو عبداللہ ضیاءُ الدّین رحمۃُ اللہ علیہ محدثِ عصر اور یکتا زمانہ تھے۔ آپ کی شہرت محتاج بیان نہیں۔([18])
تصانیف:
آپ نے گراں قدر تصانیف یادگار چھوڑیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: (1)فضائل الاعمال(2)الاحاديث المختارہ (3)فضائل الشام (4)فضائل القرآن (5)سیر المقادسہ (6)مناقب اصحاب الحديث (7)النھی عن سب الاصحاب (8)الحجہ (9)صفۃ الجنۃ (10)صفۃ النار (11)ذکر الحوض (12)قتال الترک (13)فضل العلم (14)ذم المسکر (15)کلام الاموات (16)الموبقات (17)الرواۃ عن البخاری (18)دلائل النبوۃ (19)الامر باتباع السنن واجتناب البدع (20)مسند فضالہ بن عبید (21)شفاء العلیل (22)تحریم الغیبہ (23)اطراف الموضوعات (24)الموافقات (25)الارشاد الی بیان ما اشکل من المرسل فی الاسناد۔([19])
امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے آپ کی کتاب الاحادیث المختارہ کو صحاح کے درجہ میں بیان فرمایا ہے۔([20])
وفات:
آپ رحمۃُ اللہ علیہ کی وفات بروز پیر 28جُمادَی الاُخریٰ 643ھ بمطابق 1245ء میں ہوئی اور آپ کا مزار دمشق میں جبل قاسیون پر ہے۔([21])
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ تراجم ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کراچی
Comments