انگلیاں روشن ہوگئیں
پیارے بچو!ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات میں اللہ پاک کی قدرت کی نشانیاں بھی نظر آتی ہیں، اللہ پاک کی طرف سے آپ کی حفاظت کا خداوندی اہتمام بھی پتا چلتا ہے اور رسولِ اکرم، نورِ مجسّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حکمت و رحمت بھی معلوم ہوتی ہے۔ آج ایسا ہی ایک ایمان افروز واقعہ پڑھتے ہیں جس میں رات کی تاریکی میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری سے گرنے والے سامان کی بآسانی تلاش کے لیے ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی معجزانہ شان سے صحابیِ رسول کی انگلیاں روشن ہو گئیں۔واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ
ایک مرتبہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دُور کہیں سے سفر کرتے ہوئے صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ شریف آرہے تھے۔ راستے میں دشمن منافقین نے پروگرام بنایا کہ اس راستے میں تھوڑا سا راستہ ایسا بھی ہے جو اونچائی پر بھی ہے اور کافی پتلا بھی ، وہاں رات کے اندھیرے میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس اونٹنی کو چھیڑ کر پریشان کریں گے جس پر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سوار ہونگے تاکہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پہاڑ سے نیچے گر جائیں (مَعاذَ اللہ)۔ اللہ پاک نے ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ان منافقوں کے پلان کا بتا دیا تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے باقی سارے لوگوں کو پہاڑ کے نیچے والے محفوظ آسان اور کھلے راستے سے جانے کا فرمایا اور خود حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ پہاڑی کے تنگ راستے سے روانہ ہوئے۔
دشمن تھوڑا دُور رہ کر حضورِ اکرم کا پیچھا کرنے لگے پھر ایک جگہ انہوں نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گھیرنے کی کوشش کی اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اونٹنی کو بھی چھیڑا تاکہ وہ تیز چلے اور اپنے جسم کو جھٹکے دے کر سوار کو گرا دے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری سے کچھ سامان گر گیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ منافقوں کو وہاں سے دُھتکارنے اور ان کی سواریوں کے چہروں پر مارنے لگے دوسری طرف رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی بلند آواز سے ان پر غصے اور ناراضی کا اظہار فرمارہے تھے جس سے انہیں اندازہ ہوگیا کہ ہمارا پلان رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو معلوم ہوچکا ہے لہٰذا وہ تیزی سے نیچے کی طرف بھاگ گئے اور دوسرے لوگوں میں شامل ہو گئے۔
اسی دوران حضرت حمزہ بن عَمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بھی وہاں حضورِ اکرم سے آملے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری سے گرنے والے سامان کو جمع کرنا چاہا تو میری پانچوں انگلیاں روشن ہوگئیں جن کی روشنی میں میں نے کَوڑا، رسی اور جو سامان بھی گر گیا تھا ڈھونڈ کر جمع کرلیا۔
(دیکھیے: سبل الہدىٰ والرشاد ، 5/ 466-سیرۃ الحلبیہ، 3/201)
پیارے بچو!حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کی پانچوں انگلیوں کا روشن ہوجانا ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک عظیم معجزہ ہے۔ اس واقعے سے ہمیں بہت سی اچھی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
*اللہ پاک اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت فرماتا ہے۔ منافقوں نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ان کا منصوبہ بتا دیا ، اللہ کی عطا سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو غیب کی باتیں معلوم ہوتی تھیں۔
*مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے خود پر قابو رکھنا چاہیے اور حکمتِ عملی سے مشکل کا سامنا کرنا چاہیے۔
*احتیاط سے کام لیتے ہوئے تدبیر اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں۔
*اچھا راہنما صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کی حفاظت کا بھی انتظام کرتا اور ان کے لیے آسانیاں کرتا ہے۔
*اپنے بڑوں کی خدمت کرنا اور ان کی چیزوں کی حفاظت کرنا سعادت مندوں کا کام ہے۔
*اگر کسی کی طرف سے تکلیف پہنچنے کا ڈر ہو تو بہت محتاط رہنا چاہیے اور اپنی حفاظت کے لیے ہجوم کا سہارا لینے نہ لینے میں حکمت و دانائی سے کام لینا چاہیے،کبھی ہجوم خطروں سے بچاتا ہےاور کبھی ہجوم میں خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
*مصیبت میں دوسروں کے کام آنا بڑی نیکی ہے۔
*ہمیں رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت سے حکمت اپنانا اور وقت کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا سیکھنا چاہیے۔
*استعمال کی ضروری چیزیں بظاہر کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں ضرورت کے وقت بہت کام آتی ہیں لہٰذا ان کی قدر اور حفاظت کرنی چاہیےاور اگر وہ اِدھر اُدھر ہوجائیں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments