اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے
ربیعُ الآخر اسلامی سال کا چوتھا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وصال ہوا، ان میں سے117 کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ربیعُ الآخر 1439ھ تا 1447ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید11 اولیائے کرام و علمائے اسلام کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:
اولیا و مشائخ کرام رحمہم اللہ السَّلام:
(1)میراں سیّد عبدالرزاق قادری بغدادی بیجاپوری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش خاندان غوث الاعظم میں بغداد،عراق میں ہوئی اور 22ربیع الآخر1051ھ کو بیجاپور،کرناٹک ہند میں وصال فرمایا۔ مزار جوڑ گنبد کے نام سے مشہور ہے۔ آپ قطب الوقت، وحید العصر، کثیر الفیض اور اکابر مشائخ قادریہ سے تھے۔ ([1])
(2)حضرت شاہ سیّد نورالعلا نقشبندی ابو العلائی رحمۃُ اللہ علیہ عالمِ دین، صاحب صدق و صفا، کثیر الفیض اور سجادہ نشین والدِ گرامی حضرت شاہ ابوالعلا احراری تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے والدِ گرامی شاہ عبدالرحیم دہلوی کو ان سے خرقہ خلافت حاصل تھا۔ ان کا وصال 7ربیع الآخر 1090ھ میں ہوا، آگرہ سٹی (یوپی) ہند میں والدِ گرامی کے پاؤں کی جانب تدفین کی گئی۔([2])
(3)جداعلیٰ خاندانِ راشدی (پیرپگارا) حضرت میاں پیر سائیں سیّد محمد بقا شاہ شہید پٹ دھنی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش رسول چھوٹی سائیدی ضلع خیرپور میرس میں حسینی سادات گھرانے میں 1135ھ کو ہوئی اور 9ربیع الآخر1198ھ کو شہید ہوئے، مزار مبارک قصبہ شیخ طیب ضلع خیرپور میرس سندھ میں ہے۔ آپ علوم ظاہری و باطنی کے جامع، مرید و خلیفہ پیر سید عبدالقادر جیلانی (آستانہ عالیہ چناہ شریف، کوٹ سدھانہ ضلع جھنگ)، مخدوم اسماعیل روہڑی چشتی نقشبندی کے فیض یافتہ، سندھی کے بلندپایہ شاعر، شیخ طریقت، رشد و ہدایت کے پیکر تھے۔([3])
(4)حضرت علامہ گل پیر قادری رحمۃُ اللہ علیہ پیر محمد قاسم انگوی قادری کے پڑپوتے، پیر چراغ علی انگوی کے فرزند، بانی آستانہ قادریہ قاسمیہ ڈھوڈاشریف، صاحب مجاہدہ، قصیدہ غوثیہ کے عامل اور صاحب کرامت تھے۔ آپ کی پیدائش انگہ شریف، وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ہوئی اور 10ربیع الآخر1331ھ کو وصال فرمایا، مزار ڈھوڈا شریف ضلع گجرات میں ہے۔([4])
(5)جمال ملت حضرت مولانا پیر سیّد جمال الدین شاہ کاظمی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش خانقاہ خواجہ آباد ضلع میانوالی میں ہوئی اور یہیں 5ربیع الآخر1420ھ کو وصال فرمایا۔ آپ تلمیذ علّامہ عطا محمد بندیالوی، فاضل دارُالعلوم امجدیہ کراچی و جامعہ شمسیہ نصیریہ خواجہ آباد، مرید و خلیفہ والدِ گرامی خواجہ پیر سید کمال الدین شاہ، بانی جامعہ قمر العلوم فریدیہ کراچی اور اہلِ سنّت کے متحرک راہنما تھے۔([5])
(6)پیرِطریقت صوفی اقبال احمد نوری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1340ھ کو محلہ بازارصندل خان،اقبال چوک قلعہ بریلی شریف یوپی ہند کے صوفی عزیز احمد حامدی کے ہاں ہوئی ۔ آپ مستفیض دارُ العلوم منظرِ اسلام بریلی، خلیفہ مفتیِ اعظم ہند، مصنفِ کتب، مدیرِ ماہنامہ نوری کرن بریلی ہیں، 14کتب ورسائل میں شمع شبستان رضا اورشمع شبستان نوری نے شہرت پائی۔ وصال 6ربیع الآخر1425ھ کو ہوا، مزار جائے پیدائش میں ہے۔([6])
علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام:
(7)حضرت مولانا حفیظ اللہ فرنگی محلی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش لکھنؤ، یوپی ہند کے علمی گھرانے میں ہوئی اور وفات 20ربیع الآخر1279ھ کو فرمائی، تدفین باغ مولانا انوارالحق فرنگی محلی لکھنؤ میں کی گئی۔ آپ سلطنت اودھ کی جانب سے فیض آباد کے منتظم و مہتمم بنائے گئے، عدالتی مصروفیات کے ساتھ زندگی بھر درس و تدریس بھی کرتے رہے۔([7])
(8)مناظراسلام مولانا آل حسن موہانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش تقریباً 1202ھ اور وفات 17ربیع الآخر1287ھ کو ہوئی۔ تدفین مقامی قبرستان، محلہ پکرا، قصبہ موہان ضلع اناؤ ہند میں ہوئی۔ آپ مشہور عالمِ دین، صاحب تصانیف، فاتح عیسائیت، فن مناظرہ کے ماہر، سلسلہ قادریہ قمیصیہ میں علّامہ انوارالحق فرنگی محلی کے مرید تھے، دہلی میں شعبہ وکالت سے منسلک رہے اور کچھ عرصہ ناظم صدارت العالیہ ریاست حیدرآباد کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ تنقیح العبادات اور الاستفسار اہم کتب ہیں۔([8])
(9)عالمِ جلیل شیخ علامہ عبدالحق جاوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں 1285ھ کو ہوئی،اپنے نانا امام محمد نووی اور دیگر علمائے مکہ سے تعلیم و تربیت پائی۔ یہ حافظِ قرآن، فاضلِ نوجوان، علومِ عقلیہ و نقلیہ کے ماہر، عالم فلکی، مدرس مکہ اور شبیہ شیخ نووی تھے۔ کثیر طلبہ نے آپ سے علمِ دین حاصل کیا۔ ان کی کتاب تدریج الادانی الی قراءۃ شرح التفتازانی طلبہ میں متداول ہے۔ ان کا وصال 19ربیع الآخر 1324ھ کو ہوا، تدفین معلیٰ قبرستان میں کی گئی۔([9])
(10)مستفتی اعلیٰ حضرت مولانا میاں احمد شیخ خاکی قادری سہروردی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش شیخ برادری میں ہوئی، علمِ دین و تصوف پیر و مرشد مولانا میا ں محمد بخش پنڈوڑوی سے حاصل کی۔ آپ پنجابی، فارسی اور اردو کے شاعر تھے، آپ کا تخلص خاکی ہے۔ بہترین کاتب تھے، اپنے ہاتھ سے 7قرآن پاک لکھے۔ آپ فقیہہ زماں، عالمِ باعمل تھے۔ متقی و پرہیزگار تھے، آپ کی 13تصانیف ہیں۔ 23 ربیع الآخر 1343ھ میں وصال فرمایا۔ تدفین موہری راجگان تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں ہوئی۔([10])
(11)ریاض الملت،شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی محمد ریاض الدین قادری چشتی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1351ھ کو موضع لنگر ضلع اٹک میں ہوئی اور 13ربیع الآخر 1421ھ کو وصال فرمایا۔ آپ جید عالمِ دین، تلمیذ و مرید و خلیفہ محدث اعظم پاکستان، مفسر قرآن (تفسیرریاض القرآن مع ترجمہ ریاض الایمان)، بہترین مدرس،کثیر التلامذہ، شیخِ طریقت، بانی آستانہ عالیہ فیض آباد شریف ضلع اٹک، صاحب دیوان نعت گوشاعر اور 50کے قریب کتب کے مصنف ہیں۔([11])
Comments