محاسنِ اسلام کی عملی تصویر: ”دعوتِ اسلامی
اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر گوشے کو محیط ہے۔ اسلام کے محاسن میں سے ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ نیکی کی دعوت اور بُرائی سے روکنے کو ہر دور کے مسلمانوں کی زندگیوں کا حصہ قرار دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے امتِ مسلمہ کو ”خیر امت“ کا لقب عطا فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے منع کرتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں ہر دور میں ایسے افراد اور تحریکیں سامنے آئیں جنہوں نے اس فریضے کو اپنے اپنے انداز میں نبھایا اور معاشرے کی دینی و اخلاقی اصلاح میں کردار ادا کیا۔
بیسویں صدی کے آخری حصے میں برصغیر پاک و ہند سے ایک ایسی ہی دینی و اصلاحی تنظیم ”دعوتِ اسلامی“ کے نام سے اٹھی جس نے مختصر عرصے میں تقریباً پوری دنیا میں اپنا دائرہ کار وسیع کر لیا۔ یہ تنظیم مکمل منظم ہے جس نے علم، تعلیم، تربیت، ابلاغ اور سماجی خدمت کے 80 سے زائد شعبہ جات میں کام کا جال بچھا رکھا ہے۔ آئیے! ملاحظہ کیجیے کہ کس طرح دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات اسلام کے محاسن یعنی علم دوستی، خدمتِ خلق، تربیتِ نفس، اتحاد و یگانگت اور عالمگیر پیغامِ رحمت کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔
نيکی کی دعوت کا یہ تصور کوئی نیا نہیں بلکہ خود انبیائے کرام علیہمُ السّلام کا طریقہ رہا ہے۔ ہر نبی نے اپنی قوم کو حق کی طرف بلایا، صبر و تحمل سے کام لیا اور تدریجی انداز میں لوگوں کو بدلنے کی کوشش کی۔ نبی آخر الزماں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مکہ کے تیرہ برسوں میں انفرادی دعوت سے آغاز کیا، پھر خاندان، قبیلے اور بالآخر پورے معاشرے تک اپنا پیغام پہنچایا۔ یہی تدریجی اور فہم و تدبر پر مبنی طریقہ ہر کامیاب دینی تنظیم کی بنیاد بنتا ہے، اور دعوتِ اسلامی نے بھی اسی اسوہ کو اپنے کام کا محور بنایا ہے۔
دعوتِ اسلامی کا ہر شعبہ معاشرے کے کسی نہ کسی طبقے یا ضرورت کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا ہے، مثلاً علما، طلبہ، تاجر، اطبا، وکلا، خواتین، معذور افراد، نو مسلم اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ۔ یہ تنوع خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کا پیغام کسی خاص طبقے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے ہے۔
دعوتِ اسلامی کا مقصد اور فکری بنیاد: ”مدنی مقصد“:
اسلام کا ایک نمایاں حسن باہمی اتحاد و یگانگت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کے دُکھ سکھ میں شریک ہوں، جہاں امیر و غریب، تعلیم یافتہ اور اَن پڑھ، شہری اور دیہاتی سب ایک ہی مقصد کے تحت جمع ہو جائیں، دراصل دعوتِ اسلامی اسلام کے اسی وصفِ اتحاد کا عملی مظہر ہے۔ کسی بھی دینی تنظیم کی کامیابی کا ایک بڑا معیار یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو باہمی نزاع سے نکال کر ایک نکتے پر جمع کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے، اور اسی کسوٹی پر پرکھنے سے دعوتِ اسلامی کی وسعت اور تنظیمی مہارت مزید نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔
دعوتِ اسلامی کا نکتہ اتحاد ہے: ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے“۔
دعوتِ اسلامی کی پوری تنظیمی سرگرمی اسی ایک جملے اور مقصد کے گرد گھومتی ہے جسے ”مدنی مقصد“ کہتے ہیں۔ اس مختصر مگر جامع جملے میں انفرادی اصلاح (خود احتسابی) اور اجتماعی اصلاح (دوسروں کو دعوت) دونوں پہلو یکجا ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کے تمام شعبہ جات، خواہ وہ علمی و تحقیقی ہوں یا تعلیمی، سماجی ہوں یا میڈیا سے متعلق، بالآخر اسی ایک مقصد کے حصول کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔
اس فکری بنیاد کا ایک اور پہلو نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں کا احیا بھی ہے،دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماعات، قافلے اور تربیتی نشستیں اسی مقصد کے تحت منعقد کی جاتی ہیں تاکہ لوگ نماز کی پابندی، حسنِ اخلاق اور سنتوں پر عمل کی طرف راغب ہوں۔
علمی و تحقیقی خدمات: دارُالافتاء اہلسنّت/المدینۃ العلمیہ:
اسلام کا ایک نمایاں حسن یہ ہے کہ وہ انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احکام کے مطابق راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، تجارت، نکاح، طلاق، وراثت اور روزمرہ زندگی کے بے شمار مسائل میں شرعی راہنمائی مہیا کرنا اسلام کی ایک عظیم خدمت ہے، کیونکہ صحیح علم ہی صحیح عمل کی بنیاد بنتا ہے۔ دعوتِ اسلامی نے اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ”دارُالافتاء اہلِ سنت“ کے نام سے ایک منظم اور مؤثر شعبہ قائم کیا ہے، جو عوامُ الناس کو مستند، مدلل اور آسان انداز میں شرعی راہنمائی فراہم کر رہا ہے۔
دارُالافتاء اہلِ سنت کی ملک بھر کے متعدد شہروں میں برانچز قائم ہیں، جہاں ہزاروں سائلین اپنے دینی و شرعی مسائل کے جوابات حاصل کرتے ہیں۔ یہاں شرعی راہنمائی مختلف ذرائع سے فراہم کی جاتی ہے؛ بالمشافہ ملاقات کے ذریعے زبانی راہنمائی، تحریری فتاویٰ کی صورت میں شرعی فیصلے، ای میل و فون کالز کے ذریعے شرعی راہنمائی، مدنی چینل پر براہِ راست (Live) اور ریکارڈ شدہ سوال و جواب کے پروگرام، سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر روزانہ کی بنیاد پر فتاویٰ اور شرعی مسائل کی اشاعت، نیز مختلف مقامات پر مفتیانِ کرام کی مستقل یا خصوصی نشستوں کے ذریعے عوام کی دینی راہنمائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
علم دینِ اسلام کی روح ہے، اور دعوتِ اسلامی نے اسی اہمیت کے پیشِ نظر 2001ء میں اپنا تحقیقی و تصنیفی شعبہ ”المدینۃ العلمیہ“ قائم کیا۔ اس ادارے کے تحت اب تک 2200 سے زائد کتب و رسائل پر کام مکمل ہو چکا ہے۔
تعلیمی خدمات: مدارس، جامعات اور جدید تعلیمی نظام:
تعلیم و تعلم اسلام کے اہم ترین محاسن میں شامل ہے، اور دعوتِ اسلامی نے اس میدان میں وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔ ملک و بیرونِ ملک ہزاروں کی تعداد میں ”مدرسۃ المدینہ“ کے نام سے حفظ و ناظرہ کے مدارس قائم ہیں جن میں بچوں اور بچیوں کے لیے الگ الگ نظام مرتب کیا گیا ہے۔
بالغ افراد کے لیے ”مدرسۃ المدینہ بالغان“ اور خواتین کے لیے ”مدرسۃ المدینہ بالغات“ کا نظام رکھا گیا ہے جس میں مساجد، بازاروں اور گھروں میں مختصر دورانیے کی کلاسیں لگا کر قرآنِ کریم کی تعلیم اور بنیادی مسائل مفت سکھائے جاتے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 2011ء میں ”دارُالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم“ کی بنیاد رکھی گئی جس میں دینی و عصری تعلیم کا امتزاج پیش کیا جاتا ہے۔ اس اسکولنگ سسٹم کی شاخیں ملک و بیرونِ ملک قائم اور دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے لیے خوب کوشاں ہیں۔
اسی تعلیمی سلسلے کی ایک اہم کڑی ”جامعۃ المدینہ“ ہے جہاں آٹھ سالہ درسِ نظامی (عالم کورس) کے ذریعے ایسے علما کی تیاری کی سعی کی جاتی ہے کہ جو قرآن و سنت، فقہ، حدیث، تفسیر، عقائد، عربی ادب اور دیگر اسلامی علوم پر گہری دسترس حاصل کر کے امت کی علمی و دینی راہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ اعلیٰ علمی مہارت پیدا کرنے کے لیے عالم کورس کے بعد تخصص فی الفقہ، تخصص فی الحدیث، تخصص فی الدعوۃ والارشاد اور تخصص فی الاقتصاد الاسلامی جیسے اہم پروگرام بھی جاری ہیں۔
جدید دور کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فروری 2012ء میں ”فیضان آن لائن اکیڈمی“ کا آغاز کیا گیا جس کے ذریعے دنیابھر میں کہیں بھی بیٹھ کر آن لائن اسلامک کورسز کیے جا سکتے ہیں۔ اس اکیڈمی میں دنیا بھر سے ہزاروں طلبہ و طالبات جو اردو اور انگریزی زبان سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ناظرہ،حفظ، عالم کورس اور دیگر کورسز سے استفادہ کر رہے ہیں، جبکہ بچیوں اور خواتین کو پڑھانے کے لیے خواتین اساتذہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔
اور ہاں! دعوتِ اسلامی کے تعلیمی نظام میں محض نصابی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ طلبہ کی اخلاقی اور سماجی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں، تعلیمی مقابلوں کے ذریعے طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے، جبکہ عید میلادُ النبی، شبِ معراج اور شبِ براءت جیسے مواقع پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کر کے بچوں میں عشقِ رسول اور دینی حمیت پیدا کی جاتی ہے۔ اسی طرح یومِ آزادی اور یومِ پاکستان جیسے قومی دنوں پر تقریبات کا انعقاد بچوں میں حُبِّ وطن کا جذبہ اجاگر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ دینی تربیت کے ساتھ ساتھ قومی شعور بھی پروان چڑھانا مقصود ہے۔خاص دنوں میں یہ مصروفیات دارُالمدینہ کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں میں بھی ہوتی ہیں۔
تربیتی و طبقاتی اصلاحی مجالس:
اسلام کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ ہر پیشے اور طبقے سے وابستہ فرد کو اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتا ہے۔ دعوتِ اسلامی نے اسی اصول کے تحت معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے علیحدہ علیحدہ شعبہ جات قائم کیے ہیں تاکہ ہر شخص اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دین پر عمل کر سکے۔
*شعبہ امامت کورس:
مساجد کے لیے دین دار اور تربیت یافتہ ائمہ و مؤذنین تیار کرتی ہے تاکہ نماز اور امامت سے متعلق فرض علوم عام کیے جا سکیں۔
*شعبہ تجہیز و تکفین:
مسلمان میتوں کے غسل و کفن اور لواحقین کی دلجوئی کے شرعی آداب سکھاتی اور اس پر عمل کرتی ہے۔
*شعبہ تاجران:
کاروباری حضرات کو تجارت کے اسلامی اصولوں سے روشناس کراتی ہے اور بازاروں میں درس و تعلیم کا اہتمام کرتی ہے۔
*شعبہ وکلاء و ججز:
قانون کے شعبے سے وابستہ افراد کی دینی تربیت اور اصلاح کے لیے کوشاں ہے۔
*شعبہ اصلاح برائے کھلاڑیان:
کھیلوں سے منسلک افراد میں دینی شعور اجاگر کرتی ہے۔
*شعبہ حج و عمرہ:
حج و عمرہ پر جانے والے حضرات و خواتین کو ضروری مسائل اور آداب کی تربیت دیتی ہے۔
ان شعبہ جات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نیکی کی دعوت کسی ایک طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ ڈاکٹر، وکیل، تاجر، کھلاڑی، امام اور عام آدمی سب کو دین سے قریب کیا جائے۔ اسی طرز پر شعبہ رابطہ برائے حکیم ہربل ڈیپارٹمنٹ، شعبہ خدامُ المساجد (مساجد کی تعمیر و آبادکاری)، شعبہ مزاراتِ اولیاء اور شعبہ اِزدیادِ حب جیسے شعبے بھی قائم ہیں جو بالترتیب طبی شعبے، مساجد کی آبادکاری، بزرگانِ دین کے مزارات پر دینی خدمات اور بچھڑے ہوؤں کو دوبارہ دینی ماحول سے جوڑنے کا کام انجام دیتے ہیں۔
غور کیا جائے تو یہ تمام طبقاتی شعبہ جات دراصل اسلام کے اس اصول کی عملی تفسیر ہیں جب کوئی تاجر اپنی دکان پر بیٹھ کر شرعی اصولوں کے مطابق خرید و فروخت کرتا ہے، جب کوئی معالج مریض کا علاج کرتے وقت طبی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ دینی احکام کا بھی خیال رکھتا ہے، تو یہی وہ توازن ہے جسے اسلام دنیا اور دین کے مابین قائم کرنا چاہتا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات کی تقسیم اور تنوع دراصل اسی توازن کو عملی جامہ پہنانے کی ایک منظم کوشش ہے۔
سماجی خدمت اور خدمتِ خلق کے شعبے:
اسلام نے عبادت کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا کی خدمت کو بھی اجرِ عظیم کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے متعدد شعبے اسی جذبے کے تحت کام کرتے ہیں۔ ”اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ“ گونگے، بہرے، نابینا اور جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس شعبے کے تحت نابینا افراد کے لیے بریل رسم الخط میں قرآنی تعلیم، بہرے افراد کے لیے اشاروں کی زبان میں نماز و وضو کی تعلیم اور معذور افراد کے لیے عمارتوں میں ریمپ اور لفٹ جیسی سہولیات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان افراد کے لیے علیحدہ رہائشی مدارس اور جامعات بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔
”شعبہ تحفظِ اوراقِ مقدسہ“ کا مقصد قرآنی آیات اور دینی تحریروں پر مشتمل کاغذات کو بے حرمتی سے بچانا اور شرعی طریقے سے ان کو تلف کرنا ہے، جبکہ ”شعبہ فیضانِ اسلام“ نو مسلم افراد کی بنیادی دینی تربیت کا اہتمام کرتا ہے تاکہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد عقائد و عبادات سے مکمل آگاہی حاصل کر سکیں۔
اسی طرح سماجی خدمت کا عظیم شعبہ ”فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن (FGRF)“ قائم ہے، یہ صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ ملک و بیرونِ ملک انسانیت کی خدمت میں مصروف ایک فعال فلاحی ادارہ ہے۔ یہ شعبہ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلوں اور دیگر ہنگامی حالات میں متأثرین تک فوری امداد پہنچانے کے ساتھ ساتھ مستقل بحالی کے منصوبوں پر بھی کام کرتا ہے۔FGRFنے سیلاب متأثرین کے لیے لاکھوں افراد کو پکا ہوا کھانا، ماہانہ راشن، پینے کا صاف پانی، خیمے، بستر اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا، ہزاروں خاندانوں کے مکانات تعمیر یا مرمت کروائے اور میڈیکل کیمپوں کے ذریعے مفت علاج اور ادویات مہیا کیں۔ اسی طرح خون کے عطیات کی مہمات، تھیلیسیمیا کے مریضوں کی مدد، صاف پانی کی فراہمی کے لیے ہینڈ پمپ اور شجر کاری، کسانوں میں کھاد اور بیج کی تقسیم، معذور بچوں کی بحالی، پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت اور کمزور طبقات کی خود کفالت جیسے منصوبے بھی اس کے نمایاں فلاحی اقدامات میں شامل ہیں۔ FGRF کی خدمات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ فلسطین، شام، بنگلہ دیش، افریقی ممالک، برطانیہ اور دیگر خطوں میں بھی ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں خوراک، ادویات، پانی، عارضی رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس طرح دعوتِ اسلامی نے FGRF کے ذریعے یہ عملی پیغام دیا ہے کہ اسلام ”پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دکھیاری امت کی خدمت، مصیبت زدہ افراد کی دستگیری، ماحول کے تحفظ، صحت، تعلیم اور انسانی وقار کی بحالی“ کی تعلیم دیتا ہے اور دعوتِ اسلامی نےان تعلیمات کو عام کیا ہے۔
میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیغام کی اشاعت:
اسلام کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ یہ ”عصری تقاضوں سے ہم آہنگ“ ہے۔ اس میں وقت کے تقاضوں کے مطابق چلنے کی وسعت موجود ہے۔ اس پہلو سے دیکھیں تو دورِ جدید میں ذرائع ابلاغ کا اثر و رسوخ سب سے زیادہ ہے، اور دعوتِ اسلامی نے اس میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ”مکتبۃ المدینہ“ کا آغاز 1986ء میں محض بیانات کی آڈیو کیسٹوں کی اشاعت سے ہوا تھا، جو آج ایک مکمل اشاعتی ادارہ بن چکا ہے۔ اسی تسلسل میں ”مدنی چینل“ کا قیام عمل میں آیا جسے مکمل طور پر موسیقی سے پاک اور مہذب مواد پر مبنی ایک اسلامی ٹی وی چینل کے طور پر متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے تلاوتِ قرآن، نعت، بیانات اور تربیتی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔
”شعبہ سوشل میڈیا“ کے تحت فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام، ایکس اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے متعدد پیجز اور چینلز چلائے جا رہے ہیں جن کے مجموعی فالورز کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اسی طرح ”آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ“ نے قرآن، حدیث، نماز کے اوقات، حج و عمرہ اور روحانی علاج جیسے موضوعات پر درجنوں موبائل ایپلی کیشنز اور سافٹ ویئر تیار کیے ہیں، جن میں مدنی قاعدہ، القرآن الکریم، صراطُ الجنان فی تفسیر القرآن، فیضانِ حدیث، پریئر ٹائمز اور بہارِ شریعت ایپ جیسی مقبول ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ یہ شعبہ ادارے کی ویب سائٹ، ڈیجیٹل خدمات اور اندرونی نظم و نسق کے سافٹ ویئر بھی تیار کرتا ہے۔
زبانوں کے تنوع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دعوتِ اسلامی نے کثیر دینی لٹریچر کو 38 سے زائد زبانوں میں پیش کیا ہے۔ ”چائنیز ڈیپارٹمنٹ“ جیسے شعبے بھی قائم کیے ہیں جو چینی زبان بولنے والوں تک دین کا پیغام پہنچانے کے لیے کورسز، تراجم اور مقامی رابطہ کاری کا کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ” شعبہ فلکیات“ 2010ء سے دنیا بھر کے شہروں کے لیے نماز، سحر و افطار کے اوقات اور سمتِ قبلہ کے تعین کا علمی و سائنسی کام سرانجام دے رہا ہے۔
خواتین کے لیے مخصوص شعبہ جات:
اسلام کا ایک حسین پہلو یہ ہے کہ اس نے خواتین کی تعلیم و تربیت کو بھی بہت اہمیت دی ہے۔ دعوتِ اسلامی کی عالمی مجلسِ مشاورت کے تحت اسلامی بہنوں کے لیے تقریباً چالیس شعبہ جات قائم ہیں۔ ”مدرسۃ المدینہ بالغات“ کے تحت خواتین کو قرآنِ کریم کی تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ ”دارُالسنہ للبنات“ میں رہائشی کورسز کے ذریعے فیضانِ نماز کورس، اصلاحِ اعمال کورس اور فیضانِ قرآن کورس جیسے پروگرام کروائے جاتے ہیں، جن سے اب تک ہزاروں خواتین مستفید ہو چکی ہیں۔
”شعبہ نیو مسلم برائے اسلامی بہنیں“ نو مسلم خواتین کی بنیادی تربیت کرتا ہے، ”شعبہ ماہنامہ خواتین“ کے ذریعے اسلامی بہنوں کی تحریری صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے اور انہیں مضامین نویسی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔
دعوتِ اسلامی، محاسنِ اسلام کی عملی تصویر کیوں؟
یہ چند شعبہ جات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعوتِ اسلامی نے اسلام کے بنیادی محاسن کو عملی طور پر کیسے نافذ کیا ہے۔ سب سے پہلے علم دوستی کا پہلو دار اکافتاء،المدینۃ العلمیہ اور مدارس کے وسیع نیٹ ورک میں نمایاں ہے۔ دوسرا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اصول مختلف طبقات کے لیے قائم شعبہ جات میں کارفرما ہے، جہاں ہر پیشے سے وابستہ فرد کو نیکی کی دعوت دی جاتی ہے۔ تیسرا خدمتِ خلق کا جذبہ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ اور FGRF جیسے شعبوں میں جھلکتا ہے۔ چوتھا عصری تقاضوں سے ہم آہنگی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ، دارُالمدینہ اسلامک اسکول سسٹم اور فیضان آن لائن اکیڈمی میں دکھائی دیتی ہے۔ پانچواں خواتین کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ اسلام کے اس اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ علمِ دین ہر مسلمان مرد و عورت پر یکساں فرض ہے۔
الله كریم دعوتِ اسلامی کا فیضان جاری رکھے۔ آمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علومِ اسلامیہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضان مدینہ)
Comments