حضرت عبدالرحمٰن بن زید رضی اللہ عنہما
کم عمری میں جن خوش نصیب بچّوں کو اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضری کا شرف ملا اُن میں حضرت عبدُالرحمٰن بن زید رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں، آئیے! ان کے بچپن کے بارے میں پڑھ کر اپنے دِلوں کو محبتِ صحابۂ کرام سے روشن کرتے ہیں:
مختصر تعارف:
آپ حضرت زید بن خطاب اور حضرت لُبابہ بنتِ ابی لُبابہ کے بیٹے اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں، آپ کی ولادت 5ہجری کو مدینۂ منوّرہ میں ہوئی(رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ([1])
حُضور نے گُھٹّی دی، سر پر ہاتھ پھیرا اور دُعائے برکت سے نوازا:
حضرت عبدُالرحمٰن بن زید رضی اللہ عنہما جب پیدا ہوئے تو ان کے نانا جان حضرت ابولُبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں نے آج تک اتنے چھوٹے جسم والا بچہ نہیں دیکھا۔ مدنی آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بچّے کو گُھٹّی دی، سر پر ہاتھ مبارَک پھیرا اور دُعائے برکت سے نوازا۔(دُعائے مصطَفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ) حضرت عبدالرحمٰن بن زید رضی اللہ عنہما جب کسی قوم میں ہوتے تو قَد میں سب سے اونچے نظر آتے۔([2])
وِصال:
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ ظاہری کے وقت آپ رضی اللہ عنہ 6سال کے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا وصال حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں سِن 65 ہجری میں ہوا۔([3])
اللہ پاک کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ماہنامہ فیضان مدینہ)
Comments