امیر ِاہلِ سنت کا 45 سالہ استقلال اور اس کے عالمی نتائج
مشہورمقولہ ہے:Ignore the Noice, Hit the target یعنی شور نظرانداز کیجیے، ہدف کو ٹارگیٹ کیجیے۔ تاریخ پرنظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے لوگوں نے شور پر توجہ نہیں دی بلکہ ہمیشہ نظریں ہدف پر رکھیں،اِسی کو فوکس کیااور آخرِ کار وہ کارنامہ انجام دیاجس سے آج پوری انسانیت مستفیدنظرآتی ہے، امیرِاہلِ سنّت حضرت علا مہ مولانا محمدالیاس عطّار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی ذاتِ گرامی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہےکہ جن کی مستقل مزاجی کی بدولت لاتعداد لوگوں کی زندگیاں بدل چکی ہیں۔ آئیے!دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو اِن 45 سالوں میں امیر اہل سنّت کی ذات ِ مبارکہ کامستقل حصّہ رہی ہیں جن کی وجہ سے عالمی سطح پر بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں:
اخلاص اپنانےاورنیّت درست رکھنے کاعظیم جذبہ:
اسلام نے اخلاص اور درست نیّت پر بہت زور دیا ہے، اسلام کی اِس تعلیم پر امیرِ اہلِ سنّت بڑی استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہیں،آپ کی کوشش ہوتی ہےکہ جوبھی کام کیا جائے وہ صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے ہو اور اسےاچھی نیّت کے ذریعے عبادت بنالیا گیا ہو۔ آپ کا اخلاص اور اچھی نیّت آپ کے عمل کوباعثِ خیر بنادیتی ہے جس کانتیجہ یہ نکلتا ہےکہ نیتِ خیر سے کیےگئے اس عمل کو اپنانے کے رجحان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتاہے۔
حصولِ علم کاذوق شوق:
”علم“ترقی کےلیےضروری ہےاور حصولِ علم کاذوق شوق؛ راہِ علم میں آنےوالی دشواریوں کودور کرنے کا ذریعہ ہے۔ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا شروع سے اب تک حصولِ علم کا جذبہ قابلِ رشک رہا ہے، آپ اپنا مطالعہ اپ ڈیٹ رکھتے ہیں،کئی اہلِ علم سے بیک وقت رابطے میں رہتے ہیں، سوالات کےذریعے سیکھنے سکھانے کے عمل کو مسلسل جاری رکھتے ہیں یوں جو علمی خزانہ آپ جمع کرتے ہیں اُسے تحریر وبیان اور مدنی مذاکروں کے ذریعے خرچ کرنے کا بھرپور اہتمام بھی کرتے ہیں۔
دنیامیں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو باقاعدہ کسی درس گاہ میں جاکر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے یا اپنی تعلیم کو مستقل جاری نہیں رکھ سکتے اُن میں سے جتنے لوگ امیرِ اہلِ سنّت سے وابستہ ہوئے اِس غیر رسمی طریقۂ تدریس سے وہ فیض پایا کہ آج وہ سکھانےوالےبن چکے ہیں اور دنیا بھر میں حصولِ علم کاذوق شوق پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
علم پر عمل کےحسین نظارے:
علم کاتقاضا ہی یہ ہےکہ اُس پر عمل کیا جائے،یہی وجہ ہے کہ شروع سے ہی امیر اہل سنّت معلومات کومعمولات بنانےکی پوری پوری کوشش فرماتے ہیں جس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کو دیکھنے والے کے دل میں نیکیوں سے محبت اور اُن پر عمل کا جذبہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
قول وفعل میں یکسانیت کا پیکرِ جمیل:
اسلام نے قول و فعل کے تضادکی مذمّت یبان کی ہے اور قول وفعل میں یکسانیت قائم رکھنے و الوں کو سراہا ہے۔ قول وفعل میں یکسانیت کی خوبی امیر اہل سنّت میں رچی بسی ہے، آپ جو کہتے ہیں اُس کہے کی توثیق اپنے عمل سے کرتے ہیں،مثلاً آپ نے کم کھانے اور کم بولنے کی تحریک شروع فرمائی تو پہلے خود کم کھا کر اور کم بول کر اِس کا عملی اظہار فرمایا، نفلی روزوں کی ترغیب دی تو پہلے روزہ رکھا، فضول نظری سے بچنے پر ذہن سازی کرنے سے پہلے خود اِس پر عمل کرکے دکھایا،یہاں تک کہ جب جب راہِ خدا میں خرچ کرنے کی مہم شروع ہوئی یا ہوتی ہے تو سب سے پہلے آپ اپنا حصّہ ملاتے ہیں۔ دعوتِ اسلامی کی 45 سالہ ترقی میں امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے قول وفعل کی یکسانیّت کا کردار بہت اہم ہے۔
حقوق کی محافظت:
خالق اور مخلوق کے حقوق ادا کرنا ہم پر لازم ہے اور اسی سےانسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی جڑی ہے۔امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اِن 45 سالوں میں امّت میں یہ شعور بیدار کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ وہ اللہ کے حقوق کو ہرچیز پر مقدم رکھیں اورہرحال میں اسے ادا کریں، مثلاً اُسے دل و جان سے ایک مانیں، رضائےالٰہی کو ہر معاملے میں ترجیح دیں، فرض نماز کی بھرپور پابندی کریں، زکوٰۃ، روزہ اور حج جیسی سالانہ فرض عبادات میں بھی کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ اسی طرح مخلوقِ خدا کے حقوق کی حفاظت کے لیے مختلف طبقوں کی تربیت کا ایک منظم نظام قائم فرمایا ہے جس کے نتیجے میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں دعوتِ اسلامی کا کام ترقی و عروج حاصل کرتا ہے وہاں دوسروں کا احساس بڑھ جاتا ہے، رحم دلی کے جذبات کوفروغ ملتاہے، محبت و بھائی چارے کے نظارے عام ہوتے ہیں،حسنِ اخلاق سے متأثر ہوکر غیر مسلم بھی اسلام قبول کرنے میں دل چسپی لینے لگتے ہیں۔یہ توہوئی آزاد لوگوں میں خالق و مخلوق کے حقوق کاشعور بیدار کرنے کی مختصر بات،اب اُن جیلوں میں موجود لوگوں کی بات کرتے ہیں جو کسی نہ کسی کے حقوق پامال کرنے کے سبب قید ہوئے یا ناجائز مقدمات کی وجہ سے وہاں پہنچے، اب انتقا م کی آگ اُن کے سینوں میں سُلگ رہی ہے اور انہیں بےوجہ قید؛حقوق کی پامالی پر اُکسارہی ہے،ایسے قیدیوں کو غلطی کا احساس دلاکر مزید غلطیوں سے روکنے کے لیے بھی امیرِ اہلِ سنّت نے دعوتِ اسلامی میں تربیتی نظام قائم فرمایا ہے،دنیا میں جہاں جہاں یہ نظام پہنچاقیدیوں کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی دیکھی گئی، اُن کے بدلتے رجحانات، ترکِ گناہ کا عزم اور خامیاں چھوڑکر خوبیاں اپنانے کی حرص میں تیزرفتاراضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
اِن 45 سالوں میں امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد سےمتعلق احتیاطوں کا نتیجہ ہے کہ آج دعوتِ اسلامی کوتحفظِ حقوق کے لیے کوشاں بین الاقوامی پُر امن تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
وقت کے قدردان:
وقت کی دولت کو وقت پر خرچ کرناعقل مندی ہے اور امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی زندگی میں اِس عقل مندی کا اظہار بہت عام نظر آتا ہے اور آپ کی وقت کی قدر دانی دیکھ کر یہ فارمولا اخذ کیاجاسکتا ہے:”ہر کام کےلیےایک وقت ہے اور ہر وقت کےلیے ایک کام ہے“۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امیر اہل سنت شروع سے اب تک دعوتِ اسلامی کے نظم و نسق کو اِس فارمولے کے مطابق لے کر چل رہے ہیں۔
سننے کی صلاحیت اور ماننے کا حوصلہ:
دنیا بھر کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے جہاں وسائل کی ضرورت رہتی ہے وہیں چھوٹے بڑے کئی مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے۔ وسائل پورے کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے سننے کی صلاحیت، قابل ِ اصلاح بات ماننے اور اچھی رائے قبول کرنے کا حوصلہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ کریم نے امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کو کمال درجے کا حلم و بردباری اور بےپناہ دولتِ صبر سے نوازا ہے، کم و بیش 22 سالوں میں کئی مرتبہ میں نےدیکھا ہے کہ بھرے مجمع میں کوئی طویل کلام کرے یا سخت سے سخت الفاظ میں اپنا مدعا پیش کرے آپ پورے اہتمام کے ساتھ اُس کی بات سنتے ہیں پھر نہایت نرم اور اپنائیت بھرے لہجے میں اُسے ایسا وافی شافی کافی جواب دیتے ہیں کہ اُس کے چہرے پر خوشی و اطمینان کے آثار واضح محسوس کیے جاتے ہیں اور وہ دعوتِ اسلامی کےدینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا شروع کردیتا ہے۔
امّت کی خیرخواہی کا جذبہ:
اصلاحِ امّت کے لیے دل میں خیر خواہانہ جذبے کی بڑی اہمیت ہے۔جذبۂ خیرخواہی کی وجہ سے آزمائش سہہ کر آسائش فراہم کرنے کاہنر آجاتا ہے، رنج برداشت کرکے راحت پہنچانےمیں دشواری محسوس نہیں ہوتی، حماقت کا جواب ذہانت سے دینے کی عادت پڑجاتی ہے اور امّت کی تعلیم و تربیت اور ترقی و کامیابی کے لیے کار آمد منصوبے ذہن میں آتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے وہ خواب جیسے منصوبے حقیقی تعبیر اختیار کرکےدکھیاری امّت کو سُکھ پہنچانے کاذریعہ بن جاتے ہیں۔ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے جذبۂ خیرخواہی نے وہ سب کچھ دیا ہے جس کی امّت کو ضرورت ہے۔ آج دعوتِ اسلامی کے قائم کردہ تعلیمی ادارے، لٹریچر، فلاحی منصوبے،مدنی چینل،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس سمیت تمام شعبے؛امّت کی خیرخواہی کے جذبے کے تحت ہی کام کررہے ہیں۔
دوراندیشی اور معاملہ فہمی:
امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے دعوت اسلامی کا پودا لگایا،اِسے اپنی دور اندیشی سے پروان چڑھایا،معاملہ فہمی سے اِس کی نگہداشت کی اور مسلسل نگہبانی کرکے اِسے اتنا مضبوط کیا کہ کئی طوفان آکر گزرگئے لیکن دعوتِ اسلامی کا یہ درخت اپنی جگہ قائم ہے اور اپنے سائے سے سب کو مستفید کررہا ہے۔ امیرِ اہلِ سنّت نے یہی دور اندیشی اور معاملہ فہمی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ میں منتقل فرمادی جس کانتیجہ یہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کی ترقی کا سفر کبھی بھی رکا نہیں ہے۔
افرادسازی کے لیے مضبوط نظام:
امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے امّت کو سنبھالنے کے لیے دعوتِ اسلامی عطافرمائی اوردعوتِ اسلامی کو سنبھالنے کے لیے ایسے نگران و ذمہ دران کو مقرّر کیا جو اہل افراد کی تربیت کریں، انہیں ذمہ داریاں دیں اور اُن کومشکلات حل کرنا سکھائیں۔ افراد سازی کے اِس مضبوط نظام کی بدولت دعوتِ اسلامی کا قائم کردہ ہر شعبہ ترقی و کامیابی کی منزلیں طے کررہا ہے۔
اللہ پاک امیرِ اہلِ سنّت کو درازیِ عمر بالخیر عطا فرمائے اور آپ کے اس گلشن (دعوتِ اسلامی)کو ہمیشہ پھلتا پھولتا اور شاد و آباد رکھے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث وعلومہ)
Comments