(1)کالی زبان والے کی بَددُعا
سوال: کچھ لوگ کہتے ہىں کہ کالى زبان والے کى بَددُعا بہت لگتى ہے کىا ىہ بات دُرُست ہے؟
جواب: مىں نے ابھى تک کسی کی کالى زبان دىکھى نہىں ہے زبان تو لال ہوتى ہے۔جہاں تک بَددُعا لگنے کا تعلق ہے تو مظلوم کى دُعا اور بددُعا دونوں قبول ہوتى ہیں،اب مظلوم چاہے جانور ہو یا غىر مسلم،بددُعا تو ان کى بھى لگتی ہے۔(دیکھئے: مرقاة المفاتیح، 5/24، تحت الحدیث:2249-مراٰۃ المناجیح، 3/300) اس مىں کالى اور لال زبان کا کوئى تذکرہ ہی نہىں ہے۔لوگ اِس قسم کی باتیں اپنى طرف سے کرتے رہتے ہىں حالانکہ کسى مرد یا عورت کو کہنا کہ تىرى زبان کالى ہے،تىرى بددُعا لگتی ہے ىا تو نے مجھے بددُعا دی ہے جبھی تو میرا نقصان ہوا ہےتو ىہاں دِل آزارى کى صورتىں ہوسکتى ہىں۔ ىہ بھى ہوسکتا ہے کہ کوئى اپنى طرف سے ہوشىارى کرتے ہوئے کہے کہ مىں نے فُلاں کو بددُعا دى تو اس کا نقصان ہو گىا ، فُلاں نے مجھے ستاىا تو اس کو ىوں ہوگىا۔ اىسے بڑے بول بولنا بھی بہت خطرناک ہے لہٰذا اِس قسم کی باتوں سے بچنا چاہیے۔(مدنی مذاکرہ، 8شعبان المعظم 1440ھ)
(2) ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص پڑھنا کیسا؟
سوال: میں قراٰن شرىف پڑھا ہوا نہىں ہوں، مجھے صرف اَلْحَمْد شرىف اور قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد آتی ہے، کیا میری نماز ہوجائے گی؟
جواب: اگر کوئى اور سورت ىاد نہىں ہے اور نماز کی ہر رکعت مىں سورۂ فاتِحہ اور سورۂ اخلاص ہی پڑھتے ہىں تو کوئى بات نہىں نماز ہوجائے گی۔ مَزید سورَتیں یاد کرنے کی کوشش کرتے رہیے۔(مدنی مذاکرہ، 18شعبان شریف1441ھ)
(3)کسی چیز کو بیچنے میں کتنا نفع رکھیں؟
سوال: میں نے کپڑے کا کام شروع کیا ہے تو کیا اس میں 500 روپے نفع رکھ سکتے ہیں؟
جواب: سوال میں کچھ وضاحت کی کمی ہے البتہ جتنے کا بھی کپڑا بیچیں جائز ہے لیکن جھوٹ نہ بولیں اور دھوکا نہ دیں۔ نیز میرا مشورہ ہے کہ اتنا مہنگا بھی نہ بیچیں کہ جس سے آپ کے مسلمان بھائی تکلیف میں آجائیں، کپڑے کے جو واجبی دام بنتے ہوں وہ لیں کہ مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنا اور اس کی بھلائی چاہنا ثواب کا کام ہے۔(مدنی مذاکرہ، 6 ربیع الاول شریف1442ھ)
(4)اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈالنا:
سوال: اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کیوں ڈالی جاتی ہیں؟
جواب: پہلے مائیک وغیرہ نہیں ہوتے تھے تو اونچی جگہ یا مَنارے وغیرہ پر کانوں کے سوراخ میں انگلیاں ڈال کر اذان دی جاتی تھی تاکہ دور دور تک اذان کی آواز جائے۔بہارِ شریعت میں ہے: اَذان کہتے وقت کانوں کے سوراخ میں انگلیاں ڈالے رہنا مستحب ہے اور اگر دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ ليے تو بھی اچھا ہے۔اور اوّل احسن ہے (یعنی کانوں کے سوراخ میں انگلیاں ڈالے رہنا زیادہ اچھا ہے) کہ ارشاد حدیث کے مطابق ہے اور بلندیِ آواز میں زیادہ مُعین (یعنی آواز اونچی کرنے میں یہ عمل مددگار ہے) کان جب بند ہوتے ہیں آدمی سمجھتا ہے کہ ابھی آواز پوری نہ ہوئی، زیادہ بلند کرتا ہے۔
(بہارِ شریعت، 1/470-مدنی مذاکرہ، 7ذوالقعدۃ الحرام شریف1444ھ)
(5)کیا بیوی اپنے شوہر کی میّت کو غسل دے سکتی ہے؟
سوال: کیا وصیت پر عمل کرتے ہوئے بیوی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے؟
جواب: بہارِ شریعت، جلد اول، صفحہ نمبر 812 پر ہے: عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے جبکہ موت سے پہلے یا بعد کوئی ایسا مُعاملہ نہ ہوا ہو جس سے وہ اس کے نکاح سے نکل جائے مثلاً شوہر کے لڑکے یا باپ کو شہوت سے چُھوا یا بوسہ دیا یا مَعَاذَ اللہ مُرتدہ ہو گئی اگر چہ غسل سے پہلے ہی ہو پھر مسلمان ہوگئی کہ ان سے نکاح جاتا رہا اور اجنبیہ ہوگئی لہٰذا غسل نہیں دے سکتی۔(مدنی مذاکرہ، 3محرم الحرام 1441ھ)
(6)عقیقے میں دو سال کا بکرا قربان کرنا کیسا؟
سوال: ہمارے گھر میں دو سال کے دو بکرے ہیں کیا ان کو عقیقے میں استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں! کرسکتے ہیں جبکہ ان میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جو قربانی کے لئے مانع (یعنی رکاوٹ) ہوتا ہے۔
(مدنی مذاکرہ، بعد نماز تراویح، 20رمضان المبارک 1441ھ)
(7)مسجد کے درخت کی لکڑیاں کاٹنا
سوال: ہمارى مسجد مىں درخت ہیں اور ان درختوں کوکاٹا گىا ہے کیا ان کى لکڑىوں کو بىچ سکتے ہىں؟
جواب:مسجد کا درخت کسی ضرورت کے تحت کاٹ دیا ہے([1]) تو لکڑىاں مسجد ہى کى ہیں، بىچ کر اس کی رقم مسجد ہى مىں خرچ کی جائے۔(مدنی مذاکرہ، بعد نماز تراویح، 20رمضان المبارک 1441ھ)
(8)کیا وضو کرتے وقت ناک صاف کرنا ضروری ہے؟
سوال: کیا وُضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنا اور چھوٹی انگلی سے ناک کے اندر کا حصہ صاف کرنا ضَروری ہے؟
جواب: وُضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھانا سنّت اور ناک میں انگلی ڈال کر ناک صاف کرنا مستحب یعنی ثواب کا کام ہے۔(دیکھئے: بہار شریعت، 1/295، 297-مدنی مذاکرہ، 30ذوالقعدۃ الحرام 1441ھ)
([1])اشجار موقوفہ (یعنی وقف کے درخت) اگر پھل دار ہوں تو جب تک ہرے ہیں ان کاکاٹنا بیچنا ناجائز اور گرپڑنے یا سوکھ جانے کے بعد روا (یعنی جائز) ہے کہ لکڑی بیچ کر مصارف وقف میں صَرف کردیں یہاں تک اگر کوئی پھل کا درخت نصف خشک ہوگیا اور نصف قابلِ انتفاع ہے تو اسی نصف خشک کی بیع جائز، باقی کی ممنوع، متولی اگر سبز کو کاٹے بیچے گا خائن ہے تولیت سے خارج کیا جائے گا، ہاں وہ پیڑ کہ پھل نہیں رکھتے بلکہ وقف کا انتفاع ان سے یونہی ہے کہ انہیں بیچ کر دام کئے جائیں ان کے سبز و خشک ہر طرح کی بیع جائز ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 16/277)
Comments