مصر سے ساؤتھ کوریا: ایک یادگار سفر(دوسری اور آخری قسط)

مصر سے ساؤتھ کوریا: ایک یادگار سفر(دوسری اور آخری قسط)

اَلحمدُ لِلّٰہ! کوہِ طور کے مبارک سفر کی برکتیں لوٹنے کے بعد تمام ترمعاملات سے فارغ ہوکر صبح تقریباً  10بجے بس روانہ ہوئی اور تقریباً دوپہر ڈیڑھ بجے ہم اپنےہوٹل پر پہنچے، تھکن سے چور چور تھے مگر آج ہی شام کو قاہرہ کے سفر کی روانگی تھی،شام کو قاہرہ کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر آرام کیا۔ اگلا دن جمعۃ المبارک تھا جس میں مختلف مزارات پر حاضری کا شرف ملاجن میں حضرت بی بی زینب، حضرت سیدہ نفیسہ اور جہاں امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرانور مدفون ہے اس مقدس مقام اور مزارات مبارکہ کی برکتوں سے مشرف ہوئے۔ آئیے! حصولِ برکت کے لیے ان مقدس ہستیوں کا ذکر خیر ملاحظہ کیجئے:

حضرت سیدہ زینب بنت علی:

حضرتِ سیّدہ بی بی زینب بنت علی رضی اللہ عنہمانبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نواسی، مولا علی و حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہما کی شہزادی اور جنّتی نوجوانوں کے سردار حسنینِ کریمین کی سگی بہن ہیں۔آپ رضی اللہ عنہا پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ ظاہری میں پیدا ہوئیں، بڑی عقل مند، دانا اور فراخ دِل تھیں۔ ([1]) زینبِ کبریٰ آپ ہی کو کہا جاتا ہے۔ ([2])

آپ کے والدِ گرامی شیرخدا،علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالیٰ وجہَہُ الکریم نے اپنے بھتیجے حضرتِ عبدُاللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے آپ کا نِکاح کیا، ان سے آپ کے ہاں چار بیٹوں حضرت علی، حضرت عون اکبر، حضرت عبّاس، حضرت محمد اور ایک بیٹی حضرت اُمِّ کلثوم رِضوانُ اللہ علیہم اجمعین کی وِلادت ہوئی۔([3])

میدانِ کربلا میں آپ اپنے دو شہزادوں حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہما کے ساتھ تشریف لائیں، دونوں شہزادوں نے دورانِ جنگ بہادری کے خوب جوہر دِکھائے، بالآخر ظالم یزیدیوں کو تہِ تیغ کرتے ہوئےشہادت کاجام نوش کرگئے۔([4])

ایک مرتبہ ایک یزیدی نے کربلا کی ظاہری برتری کو اپنی فتح کی دلیل بناتے ہوئے طنز کا زہریلا تیر چلایا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اسے منہ توڑ جواب دیا، پھر اللہ پاک کے انعامات پر یوں حمد بجا لائیں: تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ذریعے ہمیں عزّت بخشی اور ہمیں خوب ستھرا کیا۔([5])

حضرت سیدہ بی بی نفیسہ:

حضرت سیّدہ نفیسہ رحمۃُ اللہ علیہا سَیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی جبکہ امام حسن کے پوتے حضرت حسن انور بن زید کی بیٹی ہیں۔ آپ کی ولادتِ باسعادت مکۃُ المکّرمہ میں 145ھ میں ہوئی، آپ رحمۃُ اللہ علیہا نہایت نیک، پرہیزگار، حافظہ، محدثہ، عالمہ، عابدہ، زاہدہ اور ولیہ تھیں۔

آپ کا مبارک نکاح حضرتِ اسحاق بن جعفر صادق رضی اللہ عنہما سے ہوا، ان سے آپ کی ایک بیٹی اُمِّ کلثوم اور ایک بیٹا قاسم پیدا ہوئے۔([6])  آپ اپنے شوہر کے ساتھ مدینۂ منورہ سے مصر کی طرف چلی گئی تھیں۔([7])

حضرت سیدہ نفیسہ رحمۃُ اللہ علیہا کا معمول تھا کہ دن کو روزہ رکھتیں اور رات بھر نمازیں پڑھتیں، نیز آپ نے 30حج کئے۔([8])

وصالِ پُر مَلال: آپ رحمۃُ اللہ علیہا یکم رجب کو بیمار ہوگئیں اور رمضان شریف کے مہینے تک بیمار رہیں، رمضان میں جب مرض بڑھا تو آپ کو مشورہ دیا گیا کہ آج روزہ توڑ دیں، آپ نے فرمایا: 30 سال سے میں یہ دُعا کر رہی تھی کہ جب موت آئے اس وقت میرا روزہ ہو اور اب یہ خواہش پوری ہونےوالی ہے تو میں روزہ کیوں توڑوں؟ یہ فرما کر سیدہ نفیسہ قرآنِ کریم کی تلاوت میں مشغول ہوگئیں اور اسی حالت میں آپ کا انتقال ہوگیا۔([9]) آپ کا وصال شریف 208ھ میں رمضانُ المبارک کے پُر نور مہینے میں مصر میں ہوا۔ آپ کے مزار ِپُر انوار کے پاس دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔([10])

اَلحمدُ لِلّٰہ! ان مقدس مقامات کی زیارت کرنے کے بعد اسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جو کہ مشہدِ حسینی کے ساتھ بنائی گئی ہے جہاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کاسرانور مدفون ہے۔

اسی سفر میں جامعہ الازہر مصر میں زیرِ تعلیم مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کا بھی موقع ملا، جس میں علمی و دینی امور پر مفید گفتگو ہوئی۔

اس کے بعد 28دسمبر2025ء کو مصر سے روانگی تھی تو اس کے لیے دبئی کے راستے تھائی لینڈ کے شہر بینکاک کا سفر اختیار کیا اور اَلحمدُ لِلّٰہ! وہاں پہنچ گئے۔ یہ ایک طویل سفر تھا، کیونکہ مصر سے تھائی لینڈ کا فاصلہ خاصا زیادہ ہے۔ بینکاک پہنچنے کے بعد کچھ آرام کا موقع ملا، تاہم 29 دسمبر کی شب فیضانِ مدینہ بینکاک میں منعقد ہونے والے ایک عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت اور بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس اجتماع میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اسلامی بھائیوں نے بھرپور شرکت کی۔

اجتماع کے بعد بزنس کمیونٹی اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں اور مدنی حلقوں کا سلسلہ بھی رہا، جس میں انہیں نیکی کی دعوت پیش کی گئی۔

تھائی لینڈ کے اس مختصر مگر مصروف سفر کے بعد نیو ایئر نائٹ پر ہونے والے اجتماعات اور مختلف مقامات پر بیانات اور نیکی کی دعوت عام کرنے کے سلسلے میں ساؤتھ کوریا کے سفرپر روانگی تھی۔ 31دسمبر کی صبح ساؤتھ کوریا کے انچن ائیرپورٹ پر آمد ہوئی، جہاں اسلامی بھائیوں نے پرتپاک استقبال کیا۔ طویل سفر کی وجہ سے کافی تھکن محسوس ہو رہی تھی، اس لیے کچھ وقت آرام کیا۔ اللہ پاک کی شان دیکھیے کہ مصر میں مختلف مقامات پر نسبتاً گرم موسم تھا، جبکہ تھائی لینڈ میں مصر سے زیادہ گرمی محسوس ہوئی، لیکن جب ساؤتھ کوریا پہنچے تو وہاں کا موسم بالکل مختلف تھا۔ درجۂ حرارت منفی سات ڈگری تھا، جبکہ موبائل ایپلیکیشن کے مطابق محسوس ہونے والا درجۂ حرارت (Feels Like) منفی سترہ ڈگری ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

اَلحمدُلِلّٰہ! رات کو 31دسمبر کےسنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ تلاوت ونعت کے بعد بیان کرنے سعادت ملی جس کا کورین زبان میں ترجمہ کیا گیا اور بیان کے بعد ذکر و دعا پر اجتماع کااختتام ہوا،یہاں کا موسم اگرچہ انتہائی سرد تھا اور رات بھی نہایت ٹھنڈی تھی، مگر اس کے باوجود بڑی تعداد میں عاشقانِ رسول نے اجتماع میں شرکت کی اور بے حد محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔

اس کے بعد نیا شمسی سال (Gregorian Calendar) شروع ہو گیا اور الحمدللہ1 سے 6جنوری2026ء تک ساؤتھ کوریا کے مختلف شہروں مثلاً Daegu Gimhae Songdo Central Mosque Incheon میں مختلف موضوعات پر بیانات کا سلسلہ رہا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن شوریٰ و نگران مجلس مدنی چینل



([1])اسد الغابہ،7/146

([2])تاریخِ مدینہ دمشق،69/174

([3])اسد الغابہ،ج7،ص146

([4])سوانح کربلا،ص127 ماخوذاً

([5])الکامل فی التاریخ، 3/435،ماخوذاً

([6])نور الابصار، ص207

([7])سیر اعلام النبلاء، 8/ 427

([8])نور الابصار، ص 207

([9])تنویرالازھار، ص89، 90ملخصاً

([10])سیر اعلام النبلاء، 8/ 427


Share