خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا سیکھیں
مٹکا بول پڑا:
ایک بوڑھےشخص کے گھر میں پانی کے دو مٹکے تھے، جنہیں وہ روزانہ ایک لکڑی پر باندھ کر اپنے کندھے پر رکھتا اور نہر سے پانی بھر کر گھر لاتا تھا۔ ان دو مٹکوں میں سے ایک تو بالکل درست تھا، مگر دوسرا کچھ ٹوٹا ہواتھا۔ ہر بار ایسا ہوتا کہ جب یہ بوڑھا شخص نہر سے پانی بھر کر لاتا تو ٹوٹے ہوئے مٹکے سےتھوڑا تھوڑا پانی راستے میں گرتا رہتا یہاں تک کہ آدھا پانی راستے میں ہی بہہ چکا ہوتا، جبکہ دوسرا صحیح سلامت مٹکا پورا بھرا ہوا گھر پہنچتا۔صحیح مٹکا اپنی کارکردگی سے مطمئن تھا، لیکن ٹوٹا ہوا مٹکا مایوسی کی حالت میں اندر ہی اندر کُڑھتا رہتا یہاں تک کہ وہ اپنی ذات سے بھی نفرت کرنے لگا کہ وہ کیوں اپنے فرائض اس طرح ادا نہیں کر پاتا، جیسے اُس سے توقع کی جاتی ہے۔
دو سال تک مسلسل اِس ناکامی کی تلخی برداشت کرنے کے بعد ایک دن ٹوٹا ہوا مٹکا بول پڑا اور اُس بوڑھے شخص سے کہنے لگا:میں اپنی اِس کمزوری کی وجہ سےبہت شرمندہ ہوں کہ جو پانی آپ اتنی محنت سے بھر کر لاتے ہیں، اس میں سے بہت سا پانی صرف میرے ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے گھر پہنچنے سے پہلے ہی بہہ جاتا ہے۔ مٹکے کی بات سن کر بوڑھا شخص مسکرا تے ہوئے کہنے لگا:
کیا تم نے ان دو سالوں میں یہ نہیں دیکھا کہ جس طرف سے میں تمہیں اُٹھا کر لاتا ہوں، اُس طرف راستے کے کنارے پھولوں کے پودے لگےہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف کچھ بھی نہیں اُگا ہوا؟
بوڑھے نے نرمی سے مزید کہا: مجھے معلوم تھا کہ مٹکا ٹوٹا ہونے کی وجہ سےکچھ پانی بہتا ہے، اسی لیے تو میں نے نہر سے گھر تک کے راستے میں پھولوں کے بیج بو دئیے تھے، تاکہ وہ روزانہ راستےمیں گرنے والے پانی سے سیراب ہوتے رہیں۔ میں نے گزشتہ دو سالوں میں اِنہی پھولوں سے کئی خوبصورت گلدستے بنا کر اپنا گھر سجایا اور مہکایاہے۔ اگر تم میرے پاس نہ ہوتے تو میں یہ بہار دیکھ ہی نہ پاتا جو تمہارے دم سے مجھے نصیب ہوئی ہے۔
اس فرضی کہانی سےحاصل ہونے والے نکات:
*اپنی خامی پر نگاہ ڈالنا
سروَرِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے۔
(ترمذی،4/207،حدیث:2467)
اپنی کمزوری کو سمجھنا اصلاح اور ترقی کی پہلی سیڑھی ہے۔
* کام کے معیار کو پیشِ نظر رکھنا
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرے تو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اسے مہارت و پختگی کے ساتھ کرے۔(مسند ابی یعلیٰ، 4/20، حدیث:4369)
کام کے معیار کو سمجھ کر عمل کرنا اسلام میں پسندیدہ ہے۔
*اپنے ساتھ چلنے والوں کی صلاحیتوں کا علم ہونا
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت کو پہچانتے ہوئے فرمایا:میری اُمّت میں حلال و حرام کو سب سے زیادہ جاننے والے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔
(ترمذی،5/435،حدیث:3815)
اسی پہچان کی بنیاد پر رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے صحابہ کی صلاحیتوں کو نہ صرف جانتے تھے بلکہ انہیں بہترین مقام بھی دیتے تھے۔
*ماتحت کی کمزوری کو فائدہ مند بنانا
ہم ہمیشہ بےعیب لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں، حالانکہ کوئی انسان کامل نہیں،ہر انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور ہوتی ہے اچھا انسان وہ ہے جو لوگوں کی صلاحیت پہچان کر صحیح جگہ استعمال کرے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مرکزی مجلس شوریٰ دعوت اسلامی
Comments