- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 9
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوْهُ وَمَا اَمَرْتُكُمْ بِهٖ فَافْعَلُوْا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّمَا اَهْلَكَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَآئِلِہِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلٰى اَنْبِيَآئِهِمْ.‘‘( رَوَاهُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم )
عن ابي هريرة عبد الرحمن بن صخر رضي الله عنه قال: سمعت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقول: ’’ ما نهيتكم عنه فاجتنبوه وما امرتكم به فافعلوا منه ما استطعتم فانما اهلك الذين من قبلكم كثرة مسائلہم واختلافهم على انبيائهم.‘‘( رواه البخاری ومسلم )
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ عبد الرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس چیز سے میں تمہیں منع کردوں تو اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو کیونکہ تم سے پہلوں کو زیادہ سوال کرنےاور اپنے انبیا کی مخالفت نے ہلاک کردیا۔‘‘(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول، ۴/ ۵۰۲، حدیث: ۷۲۸۸ ، بتغیر قلیل ۔ مسلم، کتاب الحج، باب فی الحج مرة فی العمر،ص۵۳۶، حدیث:۳۲۵۷، بتغیر)
شرح حدیث
حدیث پاک کا شانِ وُرُوْد:حضرت سیِّدُنا علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ پاک نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا تم حج کرو۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ اس نےتین مرتبہ یہی کہا۔ پھرآپ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دیتاتو تم پرہرسال حج فرض ہوجاتااورتم اس کی طاقت نہ رکھتے۔‘‘ پھر آپ نے حدیث مذکور ارشاد فرمائی۔ دارقطنی میں ہے کہ یہ آیت مقدسہ اسی معاملے میں نازل ہوئی:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-(پ ۷، المآئدة: ۱۰۱) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں۔
قریب قریب تفسیر ِطبری میں بھی اسی طرح منقول ہے۔
(فتح الباری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب الاقتداءبسنن رسول اللّٰہ...الخ، ۱۴/ ۲۲۳، تحت الحدیث:۷۲۸۸)
حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ حدیث شریف جوامِعُ الْکَلِم اور قواعدِ اِسلامیَّہ میں سے ہےاور اِس اُصول میں بےشماراَحکام داخل ہیں۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الحج، باب فرض الحج مرة فی العمرة، ۹/ ۱۰۲)ہر بات میں رسولصلّی اللہ علیہ وسلّمکی اطاعت کرو:حدیث پاک میں ارشاد ہوا: ’’ جس چیز سے میں تمہیں منع کردوں تو اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا تمہیں حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو‘‘ مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس کے تحت فرماتے ہیں: یعنی میرے اَحکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم، یہ دونوں کام بقدرِ طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اگر جان پر بن جائے تو مردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حُرمت و مُمانعت کے لیے نہی لازم، جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے۔ ربِّ کریم ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-(پ ۲۸، الحشر:۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔
بعض جو کہتے ہیں کہ ’’ جو کام حضور علیہِ الصّلوٰۃُوالسّلام نے نہ کیا ہو وہ حرام ہے۔‘‘(ایسا کہنا) غلط ہے، قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔(مراٰۃ المناجیح، 4/ 87 ،ملخصاً)
حضرت سیِّدُناشیخ عبدالحق مُحدِّث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مجھ سے یہ سوال نہ کروکہ کتنا ہےاورکیوں ہےجب تک میں خودبیان نہ کروں کہ کتناہےاورکیوں ہے یعنی جتنا میں کہوں اتنے پرعمل کرو، اگرمطلق حکم دوں تواس کےمطابق عمل کرواورتعیین کردوں تواس پر عمل کرو، کیونکہ مجھےشرعی اَحکام بیان کرنےکے∞لیےبھیجاگیاہے، جو حکم ہو گا وہ میں تمہارے پوچھے بغیر ہی بیان کر دوں گا۔‘‘ (اشعة اللمعات،کتاب المناسک،الفصل الاول، ۲∞/ ۳۲۰)ماقبل امتوں کی ہلاکت کے اسباب:حدیث پاک میں زیادہ سوالات کرنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ تم سے پہلوں کو زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیا کی مخالفت نے ہلاک کر دیا ‘‘ حضرت سیِّدُنا علامہ ملا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ اس کے تحت فرماتے ہیں: تم سے پہلے یہودونصاریٰ کثرتِ سوال کی وجہ سے ہلاک کئے گئے۔جیساکہ ان کا (حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہِ السّلام سے) دیدار الٰہی اور کلام کا سوال کرنا، گائے ذبح کرنے کے معاملے میں بِلا وجہ سوالات کرنا وغیرہ۔ان کے سوال کے بعد اَنبیائے کرام علیہمُ السّلام جب انہیں کسی چیز کاحکم دیتے تو وہ اس کی مخالفت کرتے، لہٰذاوہ ہلاک کر دیئے گئے۔
(مرقاة المفاتیح، کتاب المناسک، الفصل الاول، ۵/ ۳۸۰، تحت الحدیث:۲۵۰۵)
مشہور شارح حدیث، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ ’’کثرتِ سوال اور انبیا کی مخالفت‘‘کے تحت فرماتے ہیں: اس طرح کہ انہوں نے زیادہ پوچھ پوچھ کر پابندیاں لگوالیں، پھر ان پابندیوں پر عمل نہ کر سکے یا انہوں نے عمل تو کیا مگر بہت مشکل سے جیسے ذبح گائے کا واقعہ ۔ (مراٰ ۃالمناجیح، 4/ 87)کثرت سوالات سے مراد:حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃُ اللہ علیہ ’’کثرتِ سوالات سے ممانعت‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کے احوال کے متعلق زیادہ سوال کرنا یا فضول چیزوں کے بارے میں زیادہ سوال کرنا یا امتحاناً اور فخر کے طور پریا اپنی عظمت وبڑائی ظاہر کرنے کے لئے دوسروں سے علمی سوالات کرنا( اس قسم کے تمام سوالات ناپسندیدہ ہیں)۔
(تیسر بشرح جامع الصغیر، ۱/ ۲۵۱)
حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ نے کثرت سوال سے کئی باتیں مراد لی ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: اپنی ذات کے لیے بغیر حاجت مال کا سوال کرنا، بلا ضرورت مشکل اور پیچیدہ چیزوں کے بارے میں سوال کرنا، لوگوں کے حالات اور زمانے کے مختلف واقعات کے بارے میں سوال کرنا، کسی بھی شخص سے خصوصیت کے ساتھ اس کے حالات کے بارے میں تفصیلاً سوالات کرنا ہوسکتا ہے کہ اسے یہ اچھا نہ لگے (لہٰذا اس قسم کے زیادہ سوالات کرنے سے بچنا چاہئے)۔
(دلیل الفالحین، باب فی تحریم العقوق وقطعیة الرحم، ۲/ ۱۸۵، تحت الحدیث:۳۴۱)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 9