Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 41

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ بِنِ عمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: ’’لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يَكُوْنَ هَوَاهُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِهٖ.‘‘ (حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ رَوَيْنَاهُ فِیْ كِتَابِ الْحُجَّةِ بِاِسْنَادٍ صَحِيْحٍ)

عن ابي محمد عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه ما قال: قال رسول الله: ’’لا يؤمن احدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به.‘‘ (حديث صحيح رويناه فی كتاب الحجة باسناد صحيح)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا ابو محمد عبداللہ بن عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہيں ہوسکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے احکامات کے تابع نہ ہوجائیں۔‘‘ (نوادر الاصول فی احاديث الرسول، الاصل الثامن والسبعون والمائتان، ۶/ ۴۵۳)
(یہ حدیث صحیح ہے اسے (حضرت سیِّدُنا امام محمد بن طاہر مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے) کتاب الحجۃ میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

شرح حدیث

’’ہَویٰ‘‘کا معنیٰ ومفہوم:تفسیر روح البیان میں ہے: لفظ ’’ہَویٰ‘‘ کا استعمال اکثر نفسانی خواہشات اورممنوعہ لذات میں ہوتا ہے۔ اسی لیےنفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے کو بدعتی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دین کے معاملے میں اپنی خواہش کی طرف مائل ہوتا ہے۔پس ہَویٰ ایک مخصوص ومذموم میلان ہے۔ (روح البیان، پ۲۷، النجم، تحت الایة:۳، ۹/ ۲۱۲)کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک۔۔۔!مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مؤمن وہ ہے کہ جس کا عمل میرے احکام کو پسند کرے اور اس کے علاوہ کو ناپسند۔لائے ہوئے میں حدیث و قرآن کے سارے احکام داخل ہیں کیونکہ یہ سب ربّ (کریم)کی طرف سے آئے اور ایمان سے مراد اصْلِ ایمان ہے اور واقعی جو کوئی کسی دینی چیز کو بُرا جانے وہ کافر ہے اور اس صورت میں حدیث پر نہ کوئی اعتراض ہے اور نہ کسی تاویل کی ضرورت، کوئی گنہگار، فاسق، بدکار گناہوں کو اچھا اور نیکیوں کو بُرا نہیں سمجھتا، اسی وجہ سے وہ مؤمن رہتا ہے اگرچہ فاسق ہو۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/ 167)خواہشات شریعت کے تابع رہیں:حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہم ذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے ہرایک خواہ مرد ہو یا عورت کا میری لائی ہوئی شریعت اوراحکام جومیں اللہ پاک کی طرف سے لایاہوں، اس کی تصدیق واعتراف کرنا اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتاجب تک اس کی خواہش یعنی میلان ، رغبت اورمحبت میری شریعت کے تابع نہ ہو جائے۔ یوں کہ اپنی رائے اورعقل سے کسی بھی حکم شرعی میں زیادتی اور کمی کواچھا نہ سمجھے اور اپنی نظر وفکرکے سبب کسی شے کوبرانہ جانے جس سے کسی حکْمِ شرعی کی مخالفت لازم آئے، بلکہ اس کی رائے ، عقل اور نظریہ، حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فرامین کے ماتحت رہے۔ اس معاملے میں شریعت کے بیان کردہ حکم کو اختیارکرے نہ کہ اسی معاملے کو شریعت کا بیان کردہ حکم بتائے۔ (حدیقة ندیة، الباب الاول، النوع الثانی: الاعتصام بالسنة، الحدیث الحادی عشر، ۱/ ۲۷۰)خواہشات کی پیروی کی مذمت و ممانعت:قرآن مجید میں خواہشات کی پیروی سے منع کیا گیا اور خواہشات کی پیروی کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠(۲۶)(پ۲۳، صٓ:۲۶)
ترجمہ کنزالایمان: اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی بےشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے۔
احادیث مبارکہ میں بھی خواہشات کی پیروی کی ممانعت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ
حضرت سیِّدُناشَدّادبن اَوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا : ’’دانا وعقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو مُطِیع وتابعداربنائے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور عاجز وبے بس وہ ہے جونفسانی خواہش کی پیروی کرے اورپھراللہ پاک کی رحمت پرامیدبھی رکھے۔‘‘ (ترمذی، کتاب صفة القیامة، باب۲۵، ۴/ ۲۰۸، حدیث:۲۴۶۷)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں: حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’تین چیزیں ہلاکت میں ڈال دیتی ہیں: (1)...بخل جس کی اطاعت کی جائے، (2)...خواہشات جن کی پیروی کی جائے اور (3)...بندے کا خود کو اچھا جاننا۔‘‘ (معجم اوسط، ۴/ ۲۱۲، حدیث:۵۷۵۴)
خواہشات کی مخالفت کرنے کی فضیلت:قرآن وحدیث میں جس طرح خواہشات سے بچنے کا حکم دیا گیا اور ان کی پیروی کی مذمت بیان کی گئی ہے اسی طرح خواہشات کی مخالفت کرنے کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰)فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱)(پ۳۰، النٰزعٰت:۴۰، ۴۱)
ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بےشک جنت ہی ٹھکانا ہے۔
حضرت سیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ جہاد سے واپسی پر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم آگئے، خوش آمدید! اور تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو۔‘‘ انہوں نے عرض کی:بڑا جہاد کیا ہے؟ارشاد فرمایا: ’’بندے کا اپنی خواہشوں سے جہاد کرنا۔‘‘
( الزھد الکبیر للبیھقی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفة النفس، ص۱۶۵، حدیث:۳۷۳)
حضرت سیِّدُنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجاہد وہ ہے جو اللہ پاک کی فرمانبرداری میں اپنے نفس سے لڑتا ہے۔‘‘
(مسند احمد، مسند فضالة بن عبید الانصاری، ۹/ ۲۴۹، حدیث:۲۴۰۱۳)
حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رازی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کے دشمن تین ہیں: (1)...اس کی دنیا، (2)...شیطان اور (3)...نفس۔ لہٰذا دنیا سے بے رغبتی اختیار کر کے اس سے بچو، شیطان کی مخالفت کر کے ا س سے محفوظ رہو اور خواہشات کو چھوڑ دینے کے ذریعے نفس سے حفاظت میں رہو۔
( احیاء علوم الدین، کتاب ریاضة النفس وتھذیب الاخلاق، بیان شواھد النقل من ارباب البصائر...الخ، ۳/ ۸۱)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 41