- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 2
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَيْضًا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ اَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهٗ مِنَّا اَحَدٌ حَتّٰى جَلَسَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَسْنَدَ رُكْبَتَـيْهِ اِلٰى رُكْبَتَـيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلٰى فَخِذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :’’اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْهَدَ اَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكٰوةَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَـيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا. ‘‘ قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهٗ يَسْاَلُهٗ وَيُصَدِّقُهٗ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِيْمَانِ. قَالَ: ’’اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَآئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ.‘‘ قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِحْسَانِ. قَالَ: ’’اَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ يَرَاكَ. ‘‘ قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: ’’مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. ‘‘ قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنْ اَمَارَاتِهَا. قَالَ: ’’اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا وَاَنْ تَـرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُوْنَ فِي الْبُنْيَانِ. ‘‘ ثُمَّ انْـطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ: ’’يَا عُمَرُ! اَتَدْرِيْ مَنِ السَّائِلُ؟‘‘ قُلْتُ: اَللهُ وَرَسُوْلُهٗ اَعْلَمُ. قَالَ: ’’فَاِنَّهٗ جِبْرِيْلُ اَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ.‘‘ (رَوَاهُ مُسْلِم)
عن عمر رضي الله عنه ايضا قال: بينما نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم اذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه اثر السفر ولا يعرفه منا احد حتى جلس الى النبي صلى الله عليه وسلم فاسند ركبتـيه الى ركبتـيه ووضع كفيه على فخذيه وقال: يا محمد اخبرني عن الاسلام. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم :’’الاسلام ان تشهد ان لااله الا الله وان محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكوة، وتصوم رمضان، وتحج البـيت ان استطعت اليه سبيلا. ‘‘ قال: صدقت. فعجبنا له يساله ويصدقه. قال: فاخبرني عن الايمان. قال: ’’ان تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الاخر وتؤمن بالقدر خيره وشره.‘‘ قال: صدقت. قال: فاخبرني عن الاحسان. قال: ’’ان تعبد الله كانك تراه فان لم تكن تراه فانه يراك. ‘‘ قال: فاخبرني عن الساعة. قال: ’’ما المسئول عنها باعلم من السائل. ‘‘ قال: فاخبرني عن اماراتها. قال: ’’ان تلد الامة ربتها وان تـرى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان. ‘‘ ثم انـطلق فلبثت مليا ثم قال: ’’يا عمر! اتدري من السائل؟‘‘ قلت: الله ورسوله اعلم. قال: ’’فانه جبريل اتاكم يعلمكم دينكم.‘‘ (رواه مسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خطاب رضی الله عنہ سے ہی روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: ایک دن ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ اچانک نہایت سفید لباس اور انتہائی سیاہ بالوں والا ایک شخص حاضر خدمت ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے پہنچانتا تھا۔ وہ حضور نبی کریم صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم کے اتنا قریب ہو کر بیٹھ گیا کہ اس نے اپنے گھٹنے آپ کے مبارک گھٹنوں سے ملا دئیے اور اپنے ہاتھ زانوں پر رکھ کر عرض کی: یا رسولَ الله صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ تو حضور نبی کریم صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو الله پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم الله پاک کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور استطاعت ہو تو بیْتُ الله کا حج کرو۔‘‘ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں تعجب ہوا کہ سوال بھی کر رہا ہے اور تصدیق بھی ۔ پھر عرض کی: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟ ارشاد فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تم الله پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں ،اس کے رسولوں، آخرت اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لاؤ۔‘‘ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر عرض کی:مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’تم الله پاک کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو بےشک وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔‘‘ پھر اس نے عرض کی: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس سے قیا مت کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔‘‘ عرض کی: پھر قیامت کی نشانیاں ہی بتا دیجئے۔ ارشاد فرمایا: ’’باندی (غلام عورت) اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں ،برہنہ جسم،مفلس، بکریاں چَرانے والے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے ۔‘‘ (حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ فرماتے ہیں:)پھر وہ شخص چلاگیا، میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔ پھر آپ صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! جانتے ہو وہ سائل کون تھا؟‘‘ میں نے عرض کی: الله پاک اور اس کے رسول صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’وہ جبرائیل علیہ السَّلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘ (مسلم، كتاب الايمان، باب بيان الايمان والاسلام والاحسان...الخ،ص۳۳، حدیث:۹۳)
شرح حدیث
مذکورہ حدیث شریف کی اہمیت وفضیلت:خیال رہے رسولُ الله صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم سے نسبت کی وجہ سے ہر حدیث قابل احترام اور ذیشان ہے لیکن بعض احادیث کا مقام اور مرتبہ ہی الگ ہوتا ہے جیسے مذکورہ حدیث پاک۔ اس کی اہمیت، فضیلت اور شان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی جلیل القدر محدثین جیسے حضرت سیِّدُنا امام بخاری، حضرت سیِّدُنا امام مسلم، حضرت سیِّدُنا امام نسائی، حضرت سیِّدُنا امام ابن ماجہ، حضرت سیِّدُنا امام ابوداؤد، حضرت سیِّدُنا امام ترمذی، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل اور حضرت سیِّدُنا امام بغوی رحمۃُ الله علیہم نے متعدد سندوں اور مختلف لفظوں کے ساتھ اسے نقل فرمایا ہے۔(منتخب حدیثیں، ص57، ملخصاً)
حضرت سیِّدُنا علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃُ الله علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث پاک تمام وظائف اور ظاہری وباطنی عبادتوں کی جامع ہے۔‘‘ (فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی…الخ،۱/ ۲۵۸، ملخصًا)
حضرت سیِّدُنا شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ الله علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث شریف کو علما محدثین ’’حدیْثِ جبریل‘‘ یا ’’حدیْثِ اُمُّ الاحادیث‘‘ یا ’’اُمُّ الجوامع‘‘ کہتے ہیں۔’’حدیث جبریل‘‘ اس لئے کہ حضرت سیِّدُنا جبریل علیہِ السّلام نے ایک آدمی کی صورت میں آکر حضور نبی پاک صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سوال جواب کیا اور ’’اُمُّ الاحادیث یا اُمُّ الجوامع‘‘ کی وجہ یہ ہے کہ ’’اُم‘‘ اصل اور جڑ کو کہتے ہیں جس طرح سورۂ فاتحہ کہ وہ اجمالی طور پر تمام قرآنی مضامین کی جامع اور جڑ ہےاس لئے اسے ’’اُمُّ القرآن‘‘ کہا گیا اسی طرح یہ حدیث شریف چونکہ تمام احادیث نبویہ کے مضامین کو اجمالی طور پر اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے اس لئے یہ ’’اُمّ الاحادیث یا اُمُّ الجوامع‘‘ کہلاتی ہے۔ (اشعة اللمعات، کتاب الایمان، الفصل الاول، ۱/ ۴۱، ملخصًا)حدیث شریف کے شروع میں ہے: (نہایت سفید لباس اور انتہائی سیاہ بالوں والا ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور دو زانوں بیٹھ کر کچھ سوالات کیے)بزرگوں کی بارگاہ کے آداب:مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ جب بھی کسی دینی منصب پر فائز شخص جیسے عالِم دین، مفتی صاحب اور بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوں تو صاف ستھرے لباس اور اچھی حالت میں آئیں، نیز ادب وتعظیم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ورنہ علم دین اور اس کی برکتوں سے محرومی رہے گی۔ کیونکہ ’’حصولِ علم دین کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن استاد ہے، حصول علم میں جس طرح درس گاہ وکتاب کی اہمیت ہے اسی طرح استاد کا ادب واحترام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔استاد کی تعظیم شاگرد پر لازم ہے کہ یہ بھی علم ہی کی تعظیم ہے اور ادب کے بغیر علم تو شاید حاصل ہو جائے مگر فیضانِ علم سے یقیناً محرومی ہوتی ہے۔ طالب علم کو استاد کے ادب کے مختلف دینی ودنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ چنانچہ
حضرت سیِّدُنا امام برہان الدین زرنوجی رحمۃُ الله علیہ فرماتے ہیں: ایک طالِبِ علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی علم سے نفع اٹھاسکتا ہے جب تک کہ وہ علم ، اہْلِ علم اور اپنے استاد کی تعظیم و توقیر نہیں کرتا۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۸)
حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین ارسا بندی رحمۃُ الله علیہ مَرْو شہر میں رئیسُ الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت و ادب کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص۸) نیز’’استاد کےادب سے علم کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔‘‘( علم وعلماء کی اہمیت ، ص108)دیْنِ اسلام میں استاد کے ادب کو بہت اہمیت دی گئی ہے حتّٰی کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے، لہٰذا طالبِ علم کو چاہئے کہ اسے اپنے حق میں حقیقی باپ سے بڑھ کر مخلص جانے۔تفسیرِ کبیر میں ہے:”استاد اپنے شاگرد کے حق میں ماں باپ سے بڑھ کر شفیق ہوتا ہے کیونکہ والدین اسے دنیا کی آگ اور مصائب سے بچاتے ہیں جبکہ استاد اسے نارِ دوزخ اور مصائبِ آخرت سے بچاتا ہے۔‘‘(تفسیرِ کبیر،پ۱،البقرة، تحت الآیة:۳۱، جزء:۲،۱/ ۴۰۱)
حدیث شریف میں ہے: (حاضر ہونے والے شخص نے آپ صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم کو نام لے کر پکارا )بارگاہِ رسالت کے آداب:یاد رکھئے! حضور نبی پاک صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ کے آداب میں سے ہے کہ آپ کو نام لے کر (یعنی ’’یَا مُحَمَّد‘‘ کہہ کر)نہ پکارا جائے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ، جلد 30، صفحہ156 تا 157 پر سیِّدِی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کےنقل کردہ کلام کا خلاصہ ہے کہ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ-(پ ۱۸، النور:۶۳)
ترجمہ کنزالایمان: رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔کہ اے زید!اے عَمرو! بلکہ یوں عرض کرو: یَارَسُوْلَ الله، یَانَبِیَّ الله، یَاسَیِّدَ الْمُرْسَلِیْن، یَاخَاتَمَ النَّبِیِّیْن، یَاشَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْکَ وَسَلَّم وَعَلٰی اٰلِکَ اَجْمَعِیْن۔
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت کی تفسیر یوں مروی ہے کہ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ یَامُحَمَّدُ یَااَبَا الْقَاسِمِ فَنَہٰہُمُ الله عَنْ ذٰلِکَ اِعْظَامًا لِّنَبِیِّہٖ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالُوْا یَانَبِیَ الله، یَارَسُوْلَ الله یعنی پہلے حضور صلّی الله علیہ وسلّم کو یَامُحَمَّد! یَااَبَاالْقَاسِم! کہہ کر پکارتے تھے، الله پاک نے اپنے نبی کی تعظیم کی وجہ سے اس سے منع فرما دیا، جب سے صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان ’’یَارَسُوْلَ الله ، یَانَبِیَّ الله‘‘ کہا کرتے۔(دلائل النبوة لابی نعیم، الجزء الاول، الفصل الاول فی ذکر ماانزل اللّٰہ ...الخ، ص۱۹، حدیث:۴)
حضرت سیِّدُنا عکرمہ رحمۃُ الله علیہ سے مذکورہ آیت مبارکہ کی تفسیر یوں مروی ہے: ’’لَاتَقُوْلُوْا یَامُحَمَّدُ! وَلٰکِن قُوْلُوْا یَارَسُوْلَ الله، یَا نَبِیَّ الله! یعنی الله پاک ارشاد فرماتا ہے: یَامُحَمَّد! نہ کہو بلکہ یَارَسُوْلَ الله! یَانَبِیَّ الله! کہو۔(درمنثور، پ۱۸، النور، تحت الایة:۶۳، ۶/ ۲۳۱)
لہٰذا علما واضح طور پر فرماتے ہیں: حضورِ اقدس کو نام لے کر پکارنا حرام ہے اور انصاف بھی یہ ہی ہے کہ جسے اس کا مالک ومولیٰ تبارک وتعالیٰ نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا: اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہو جو خود حضور نبی کریم صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم نے تعلیم فرمائی جیسے یہ دعا: ’’یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّی ‘‘ (اے محمد!میں آپ کے تَوَسُّل (وسیلے)سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا)۔ (ابن ماجة، کتاب اقامة الصلٰوة، باب ماجاء فی صلٰوة الحاجة، ۲/ ۱۵۶، حدیث:۱۳۸۵) تاہم اس کی جگہ ’’ یَارَسُوْلَ الله! یَانَبِیَّ الله! ‘‘ کہنا چاہئے، حالانکہ الفاظ دعا میں جہاں تک ممکن ہو تبدیلی نہیں کی جاتی۔ (فتاوی رضویہ، 30/ 157، ملخصاً)ایک سوال اور اس کاجواب:سوال: جب ’’یَامُحَمَّد‘‘ کہہ کر پکارنا ناجائز ہے تو پھر حضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہِ السّلام نے رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ وسلّم کو ’’یَامُحَمَّد‘‘ کہہ کر کیوں پکارا؟ جواب: حضرت سیِّدُنا ملا علی قاری فرماتے ہیں: ممکن ہے کہ یہ واقعہ اس آیَتِ مبارکہ کے نازل ہونے سے پہلے کا ہو اور اس وقت رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کو ’’یَامُحَمَّد‘‘ کہہ کر پکارنا جائز تھا یا اس لئے کہ اس آیَتِ طیبہ میں انسانوں سے خطاب ہے اور فرشتے اس حکم سے خارج ہیں۔(مرقاة المفاتیح، کتاب الایمان، الفصل الاول، ۱/ ۱۱۱، تحت الحدیث:۲)
حدیث شریف میں ہے: (آنے والے شخص نے اسلام اور ایمان کے بارے میں سوال کیا)اسلام اور ایمان کی وضاحت:ایمان کی تعریف:سچّے دل سے اُن تمام باتوں کی تصدیق کرنا جو ضروریاتِ دین سے ہیں اُسے ایمان کہتے ہیں ، یا یوں سمجھیں کہ جو کچھ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں خواہ وہ حکم ہو یا خبر ان سب کو حق جاننا اور سچّے دل سے ماننا ایمان کہلاتا ہے۔ اسلام کی تعریف:اسلام کے لغوی معنیٰ اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں اور شرعی معنیٰ میں اسلام اور ایمان ایک ہی ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔جو مومن ہے وہ مسلمان ہے اور جو مسلمان ہے وہ مومن ہے، البتہ صرف زبانی اقرار کرناکہ جس کے ساتھ قلبی تصدیق نہ ہو معتبر نہیں ، اس سے آدمی مومن نہیں ہوتا۔
(ہمارا اسلام، ایمان وکفر، حصہ4، ص174، 176، ملخصاً)
جمہور اہْلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ ایمان اور اسلام ایک ہی شے ہیں کیونکہ اسلام کا معنیٰ خُضُوْع واِنقیاد ( یعنی سر تسلیم خم کرنا احکام کو قبول کرنا اور مان لینا) ہے اور یہ تصدیق ہی ہے اور ایمان کی تعریف تصدیق کے ساتھ کی جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان ایک ہی ہیں اسی طرح شرعاً کسی شخص کو اس طرح کہنا جائز نہیں کہ وہ مسلمان ہے مومن نہیں یا مومن ہے مسلمان نہیں بلکہ جو مسلمان ہوگا وہ مومن بھی ہوگا اور جو مومن ہوگا وہ مسلمان بھی ہوگا۔ احادیث مبارکہ میں اسلام اور ایمان کے بارے میں جو علیحدہ علیحدہ بیان ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ دونوں الگ ہیں۔ جہاں اسلام کا تذکرہ ہے وہاں اسلام کی علامات و ثمرات کا بیان ہے اور جہاں ایمان کا ذکر ہے وہاں اس کی علامات وثمرات کا بیان ہے(حقیقت میں دونوں ایک ہی ہیں)۔ (شرح عقائد النسفیة، ص۲۸۸ تا ۲۹۱، ملخصًا)اللہ ورسول پر ایمان:اللہ پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو موجود،واجِبُ الْوُجود(جس کا وجود ضروری ہو)، واحد حقیقی،وحدہٗ لاشریک لہٗ، خالِقِ کائنات مانتے ہوئے اس کی تمام صفات مثلًا حیات، علم،قدرت،اِرادہ،کلام،سمع،بصر،تکوین کوصدقِ دل سے مان کر اس پر یقین کامل رکھا جائے اور اس کو ہر عیب و نقص سے پاک مانتے ہوئے اس کو ہر صفت کمال کے ساتھ مانا جائے۔ (منتخب حدیثیں، ص63)نیز ’’اللہ پر ایمان یہ نہیں کہ لفظ ’’ اللہ ‘‘ مان لیا بلکہ ایمان تصدیق کانام ہے، جو اللہ عَزّوَجَلَّ کے ہر ہر کلام کی تصدیق قطعی سچے دل سے کرتاہو وہ اللہ عَزّوَجَلَّ پر ایمان رکھتاہے اور جو اس کے کسی کلام میں شبہ بھی لائے اسے ہرگز اللہ پر ایمان نہیں کہ اس کی سب باتوں کی تصدیق نہیں کرتا۔اصل یہ ہے کہ ایمان بِاللہ میں جملہ ضروریاتِ دین پر ایمان داخل ہے کہ ان میں سے کسی بات کی تکذیب رب کی تکذیب ہے اور رب کی تکذیب رب کے ساتھ کفرہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، 14/ 699تا 700 ملتقطًا)رسول پر ایمان: ’’حضورِ اقدس صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا اور جو کچھ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں، صدق دل سے اس کو سچا ماننا ہر ہر امتی پر فرض عین ہے اور ہر مومن کا اس پر ایمان ہے کہ بغیر رسول پر ایمان لائے ہوئے ہر گز ہرگز کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا، جو لوگ رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی رسالت پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اگرچہ خدا کی توحید کا عمربھر ڈنکا بجاتے رہیں مگر وہ کافر اور جہنمی ہی رہیں گے۔ اس لئے اسلام کا بنیادی کلمہ یعنی کَلمۂ طیبہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ ہے، یعنی مسلمان ہونے کے لئے خدا کی توحید اور رسول کی رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔‘‘ (سیرت مصطفیٰ، ص 826، ملتقطًا)صوفیا کے نزدیک ایمان کی حقیقت:حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ409 پر فرماتے ہیں: اللہ رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ رب (کریم) نے جو کچھ بھیجا اورحضور (اقدس صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم )جو کچھ لائے ان سب پر ایمان لائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ حقیقتاً ایمان ہے اللہ رسول کو ملانا، اللہ رسول میں فرق کرنا کفر ہے، (اللہ پاک)قرآن کریم فرماتاہے:اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ-وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا(150)اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّاۚ-(پ ۶، النسآء:۱۵۰، ۱۵۱)
ترجمہ کنزالایمان: کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کر دیں اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر۔فرشتوں پر ایمان کا مطلب:فرشتوں پر ایمان لانے سے یہ مراد ہے کہ صدقِ دل سے یہ مان لیا جائے کہ فرشتے اللہ (پاک) کی ایک نوری مخلوق اور اس کے محترم بندے ہیں جن میں گناہوں کا مادہ ہی نہیں ۔ وہ ہر چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم اور پاک ہیں ، نہ وہ عورت ہیں نہ مرد، نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ،بس خدا کی بندگی ان کی زندگی ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہلَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(پ ۲۸، التحریم:۶)
ترجمہ کنزالایمان: جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جوانھیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔
یعنی وہ کبھی بھی اور کسی کام میں بھی اور کسی حال میں اللہ (پاک) کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ خداوند تعالیٰ جو کچھ انہیں حکم دیتا ہے وہی کرتے ہیں۔ کوئی وحی لاتا ہے،کوئی پانی برساتا ہے، کوئی انسانوں کے اعمال کی نگہبانی اور ان کی حفاظت کرتا ہے، کوئی مؤمنین کے لئے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتا ہے۔ غرض جس کو خدا نے جس کام میں لگادیا وہی کرتا ہے اور سب خدا کی عبادت واطاعت میں مصروفِ عمل ہیں ۔واضح رہے کہ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا ان پر کوئی عیب لگانا یا ان کی توہین کرنا کفر ہے۔ (منتخب حدیثیں، ص63)تقدیر پر ایمان کا مطلب:تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر بھلائی بُرائی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے علْمِ اَزَلی کے مُوَافِق مُقَدَّر کردی ہے ، جو بات جیسے ہونے والی تھی اور جو شخص جو کچھ کرنے والا تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اَزَل سے جانتا تھا، اسی کے مطابق لکھ لیا، اب اس کے خلاف نہیں ہو سکتا ۔ یہ نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لوگوں کے اَحوال جانے بغیر جو چاہا لکھ دیا اور اب ہم اس لکھنے کی وجہ سے ویسا ہی کرنے پر مجبور ہیں۔ مثلاً زید کے ذمے برائی لکھی، اس لئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو معلوم تھا کہ بُرائی کرے گا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا تو اس کے ذمے بھلائی لکھتا ، اس کو یوں سمجھئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کو جمادات پتھر کنکر کی طرح بےحس وحرکت، بے اِختیار نہیں بنایا، بلکہ ایک قسم کا اختیار بھی دیا ہے کہ کسی کام کو چاہے تو کرے، چاہے تو نہ کرے، اسی کے ساتھ عقل بھی دی کہ وہ بھلے بُرے نفع نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان و اَسباب مہیا فرمادیئے کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اُن اسباب سے کام لے، اسی اختیار پر مواخذہ ہے۔ اپنے آپ کو پتھر و کنکر کی طرح مجبور محض سمجھنا یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں۔(مقالات شارح بخاری، باب اول، 1/ 146)تقدیر کے معاملات میں بحث ومباحثہ باعث ہلاکت ہے:تقدیر کے مسائل عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔ اس لئے تقدیر کے مسائل میں زیادہ غور و فکر اور بحث و مباحثہ کرنا ہلاکت کا سبب ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق وامیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما تقدیر کے مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرما ئےگئے ہیں۔ پھر بھلا ہم کس گنتی میں ہیں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کریں۔ ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ ہم تقدیر پر ایمان لائیں اور اس مشکل اور نازک مسئلہ میں ہرگز ہرگز کبھی بحث ومباحثہ اور حجت و تکرار نہ کریں کہ اسی میں ایمان کی سلامتی ہے۔(جنتی زیور، ص187)
حدیث شریف میں ہے: (آنے والے شخص نے احسان کے بارے میں پوچھا تو ارشاد ہوا: تم اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو بےشک وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے )احسان کی حقیقت:لغت میں احسان کے معنیٰ ’’اچھائی ‘‘ہیں۔ چنانچہ اچھا کام احسان کہلاتا ہے اور کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو بھی احسان کہا جاتا ہے اور قرآن و حدیث میں لفظ احسان اس معنیٰ میں بکثرت استعمال بھی ہواہے مگر اس حدیث میں جو ’’احسان‘‘ آیا ہے یہ احسان در حقیقت ایمان و اسلام کی طرح دین کا ایک اصطلاحی لفظ ہے جس کے معنیٰ کوخود حضور اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنی زبان نبوت سے ارشاد فرمایاکہ ’’خدا کی عبادت اس طرح کی جائے کہ گویا عبادت کرنے والا خدا کو دیکھ رہا ہے ‘‘ اس معنیٰ میں احسان کا تعلق صرف نماز و روزہ اور زکوٰۃ و حج ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مومن کے ہر عمل میں اس کی روح کارفرما ہونی چاہئے یعنی ہر عمل کے وقت بندہ اس طرح حضورِ قلب اور اخلاصِ دل کے ساتھ عمل میں مشغول ہو کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اس تصوُّر سے عمل کرنے والے بندے کے دل میں خوف و خشیَّتِ ربّانی اور امید و رجاءِ رحمانی کا ایسا نور پیدا ہوجائے گا کہ اس کا عمل انوارِ مقبولیت کی روشنی سے پُر نوراور بندہ سراپا نور بلکہ نورٌ علیٰ نور ہوجائے گااور رحمْتِ کردگار و فَضلِ پروردگار کا دونوں جہان میں مستحق و حق دار بن جائے گا۔(منتخب حدیثیں، ص66)
حدیث شریف میں ہے: (آنے والے شخص نے قیامت کے بارے میں پوچھا تو ارشاد ہوا: جس سے
قیامت کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا)کیا رسولُ اللہصلّی اللہ علیہ وسلّمکو قیامت کا علم نہیں؟جب قیامت کے بارے میں سوال ہوا تو اس کے جواب میں حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’مَاالْمَسْؤُلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ۔‘‘ بعض لوگوں نے اس کا یہ معنیٰ سمجھا کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو قیامت کا علم نہیں تھا جو اس بات پر دلیل ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم عِلْمِ غیب نہیں جانتے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ مشہور شارح حدیث، حکیم الامت، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ کے کلام کا خلاصہ ہے: ’’اس فرمان عالی سے یہ دلیل پکڑنا کہ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کوقیامت کا علم نہیں ، محض لغو ہے دو وجہ سے ایک تو یہ کہ اس میں حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے جاننے کی نفی نہیں کی بلکہ زیادتِیِ علم (یعنی سائل سے زیادہ جاننے) کی نفی کی ہے ورنہ یہ نہ فرماتے بلکہ فرماتے:’’لَا اَعْلَمُ یعنی میں نہیں جانتا۔‘‘ اتنی دراز عبارت کیوں ارشاد فرماتے !اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اے جبریل! اس مسئلہ میں میرا اور تمہارا علم برابرہے مجھ کو بھی خبر ہے اور تم کو بھی اس مجمع میں یہ پوچھ کر راز ظاہر کرنا مناسب نہیں دوسرا یہ کہ یہ جواب سن کر حضرت سیِّدُنا جبریل امین علیہِ السّلام نے عرض کی: ’’فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَاتِھَا یعنی پھر قیامت کی نشانیاں ہی بتا دیجئے۔‘‘ اس پرحضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ اولاد نا فرمان ہوگی اور کمینے لوگ عزت پائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ جس کو قیامت کا بالکل ہی علم نہ ہو اس سے نشانیاں پوچھنا کیا معنیٰ؟ نشان اور پتہ تو جاننے والے سے پوچھا جاتا ہے۔ حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے تو قیامت قائم ہونے کا دن تک بھی بتا دیا۔ چنانچہ مشکوٰۃ ’’بَابُ الْجُمُعَۃِ‘‘ میں ہے ’’لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ یعنی قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی۔‘‘(مشکاة المصابیح، کتاب الصلاة، باب الجمعة، الفصل الاول، ۱/ ۲۶۳،حدیث:۱۳۵۶)شہادت اور بیچ کی انگلی کو ملا کر ارشاد فرمایا: ’’بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِیعنی میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں۔‘‘ (بخاری،کتاب الرقاق، باب قول النبی بعثت انا والساعة کھاتین، ۴/ ۲۴۸،حدیث:۶۵۰۵)یعنی ہمارے زمانے کے بعد پس قیامت ہی ہے اور اس قدر علاماتِ قیامت ارشاد فرمائیں کہ ایک بات بھی نہ چھوڑی آج میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ابھی قیامت نہیں آسکتی کیونکہ ابھی نہ دجال آیا نہ حضرت مسیح ومہدی (علیہما السّلام)، نہ سورج مغرب سے نکلا، ان علامات نے قیامت کو بالکل واضح فرما دیا ، پھر قیامت کا علم نہ ہونے کے کیا معنیٰ؟ پس زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتاہے کہ سن (سال)نہ بتایا کہ فلاں سن میں قیامت ہوگی۔ لیکن حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے زمانَۂ پاک میں سن مقرر ہی نہ ہوئی تھی، سن ہجری عہدِ فاروقی میں مقرر ہوئی کہ ہجرت تو ربیع الاول میں ہوئی مگر سن ہجری کاآغاز محرم سے ہوتا ہے بلکہ اس زمانے میں قاعدہ یہ تھا کہ سال میں جوکوئی بھی اہم واقعہ ہوااس سے سال منسوب کر دیا ۔ سالِ فِیل، سال فتح، سالِ حدیبیہ وغیرہ۔ تو سن ہجری کس طرح بیان کیا جاسکتا تھا۔ اس دن کی علامات وغیرہ سب بتا دیں اور جو ذات اس قدر تفصیلی علامتیں بیان کرے وہ بے علم کیسے ہو سکتی ہے؟ نیزحدیث پاک سے ثابت ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے قیامت تک کے مِنْ وعَنْ واقعات بیان کر دئیے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ قیامت کا علم نہ ہو؟ کیونکہ دنیا ختم ہوتے ہی قیامت ہے اور حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو یہ علم ہے کہ کون سا واقعہ کس کے بعد ہو گا ۔ تو جو آخری واقعہ ا رشاد فرمایا وہ ہی دنیا کی انتہا ہے اور قیامت کی ابتدا۔ دو ملی ہوئی چیزوں میں سے ایک کی انتہا کاعلم دوسری کے ابتداء کا علم ہوتا ہے۔
(جاء الحق، ص96)علم غیب کے متعلق روایاتجنتیوں اور جہنمیوں کے بارے میں بتا دیا:بخاری شریف میں ہے:امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ایک مرتبہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں ابتدائے پیدائش کی خبر دے دی یہاں کہ جنتی لوگ اپنی اپنی منزلوں میں اور جہنمی اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ گئے، جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ (بخاری،کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی قولِ اللّٰہ تعالٰی:وھوالذی یبدأ الخلق ثم یعیدہ، ۲/ ۳۷۵، حدیث:۳۱۹۲)جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو:بخاری شریف میں ہی حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم منبرِ اقدس پر کھڑے ہوئے، پس قیامت کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’ا س سے پہلے بڑے بڑے واقعات ہیں۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’جو شخص بھی کچھ پوچھنا چاہتا ہے پوچھ لے اللہ پاک کی قسم ! جب تک میں اس جگہ یعنی اس منبر پر ہوں تم مجھ سے جو بھی بات پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا۔ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’جہنم میں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن حُذافَہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: میرا باپ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’حُذافَہ۔‘‘ پھر آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم بار بار ارشاد فرماتے رہے کہ ’’مجھ سے پوچھو! مجھ سے پوچھو!‘‘
(بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب ما یکرہ من کثر السوال وتکلف ما لا یعنیہ، ۴/ ۵۰۳، حدیث:۷۲۹۴، ملخصًا)قیامت تک ہونے والے واقعات کی خبر:مسلم شریف میں ہے:حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن اَخْطَب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں ان تمام واقعات کی خبر دی جو ہوئے اور جو قیامت تک ہونے والے ہیں، پس ہم میں بڑا عالِم وہ ہے جو ان باتوں کو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔(مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة، باب اخبار النبی فیما یکون… الخ، ص۱۱۸۴، حدیث:۷۲۶۷)
(نوٹ: مذکورہ روایات کے علاوہ بھی علم غیب سے متعلق بہت سی روایات ہیں۔ تفصیل کے لئے سیِّدِی اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کے عظیم الشان رسائل: ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ، اَلْفُیُوْضُ الْمَلَکِیَّۃ ،اَلْکَلِمَۃُ الْعُلْیَا‘‘ اور حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ کی مایہ ناز تصنیف ’’جَآءَ الْحَق‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ )
حدیث شریف میں ہے: (آنے والے شخص نے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا تو ارشاد ہوا:باندی
(غلام عورت) اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، برہنہ جسم، مفلس، بکریاں چرانے والے
بلند وبالا عمارتوں کی تعمیرات میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے)قیامت کی دو نشانیاں:اس حدیث پاک میں قیامت کی صرف دو نشانیوں کا ذکر ہے:(1)…باندی اپنے آقا کو جنے گی۔ (2)…مفلس ونادار اور گنوار لوگ اونچے اونچے محلات میں فخر کریں گے۔ یہ دو نشانیاں اُن نشانیوں میں سےہیں جو اِس زمانے میں ظاہر ہو چکی ہیں اور ہر شخص بخوبی جان اور دیکھ سکتا ہے۔شارحیْنِ حدیث نے ان کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ ایک معنیٰ یہ ہے کہ ’’قُربِ قیامت میں باندیوں کی کثرت ہوگی اُن سے اُن کے آقا کی جو اولاد ہوگی مرنے کے بعد یہ باندیاں انہیں مل جائیں گی کیونکہ مرنے کے بعدباپ کا مال اولاد کو ملتا ہے، ا س طرح ان کی مالک ان کی اپنی اولاد ہوگی۔‘‘ ایک معنیٰ یہ ہے کہ ’’باندیاں جن بچوں کو جنم دیں گی ان میں سے بعض قوم کے حاکم و سردار بنیں گے، پس وہ حاکم ہوں گے اور ان کی مائیں ان کی رعایا۔‘‘ ایک معنیٰ یہ ہے کہ ’’ایک شخص باندی خریدے گا اس سے بچہ پیدا ہو گا پھروہ باندی کو فروخت کردے گا بچہ بڑا ہوجائے گا اور وہ باندی دست بدست بکتی ہوئی اپنے اسی بچے کی ملکیت میں پہنچ جائے گی ۔اس طرح اس کااپنا بیٹا اس کا مالک بن جائے۔‘‘
شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں شاہان بنی عباس میں سے سوائے امین سب باندی زادے تھے۔‘‘ ایک معنیٰ یہ ہے کہ ’’یہ کنایہ ہے اس بات سے کہ لوگ اپنی حقیقی ماں کے ساتھ لونڈیوں جیسا سلوک کریں گے، ماں کو لونڈیوں کی طرح رکھیں گے، ان کی نافرمانی وحق تلفی کریں گے، ایذا پہنچائیں گے یعنی اولاد اپنی ماں کے ساتھ آقا کی طرح برتاؤ کرے گی۔(مقالات شارح بخاری، باب اول، 1/ 156، ملخصاً) دوسری نشانی: ننگے پاؤں برہنہ بدن، فقیر اور بکریاں چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ صحرا، جنگل گاؤں دیہات میں رہنے والے اورحاجت مند فقراء ترقی کرکے بڑے بڑے محلات بنائیں گے ،دنیا ان پر بہت آسان ہوجائے گی وہ اپنے عمدہ گھروں میں رہ کر ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔(شرح الاربعین النوویة، ص۳۳)قیامت کی بڑی نشایاں:مذکورہ دونشانیوں کے علاوہ بھی دیگر احادیث مبارکہ میں اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے قیامت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔کئی ظاہر ہو چکی ہیں اور جوباقی ہیں وہ بھی یقیناً ظاہر ہوں گی۔ جن میں سے کچھ یہ ہیں: (1)…دجال کا فتنہ۔ (2)…حضرت امام مہدی رحمۃُ اللہ علیہ کا ظہور۔ (3)…حضرت عیسیٰ علیہِ السّلام کا آسمان سے اترنا۔ (4)…یاجوج ماجوج کا نکلنا۔ (5)…دابۃ الارض کا خُروج۔ یہ سب قیامت کی وہ نشانیاں ہیں جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئیں مگر ان سب کا ظہور اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہےکیونکہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان سب علامات کے ظاہر ہونے کی خبر دی ہے۔(منتخب حدیثیں، ص67ملخصاً)
حدیث شریف کے آخر میں ہے کہ (اس شخص کے جانے كےبعد آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے عمر! جانتے ہو وہ سائل کون تھا؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم بہتر جانتے ہیں۔ تو ارشاد ہوا: وہ جبرائیل علیہ السَّلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے)بارگاہِ رسالت کا ایک ادب:’’اللہ پاک اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم بہتر جانتے ہیں‘‘یہ صحابَہ (کرام علیہمُ الرّضوان) کا ادب ہے کہ علم اللہ اور رسول کے سپرد کرتے ہیں۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کا ذکراللہ (پاک) کےساتھ ملاکرکرناشرک نہیں بلکہ سنَّتِ صحابہ ہے،یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ اور رسول جانیں، اللہ اور رسول فضل کریں، اللہ اور رسول رحم فرمادیں، اللہ اور رسول بھلاکریں۔’’وہ جبریل علیہِ السّلام تھے‘‘حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم )کو خبرتھی کہ یہ سائل جبریل تھے ورنہ آپ فرمادیتے کہ مجھےبھی خبر نہیں یہ کون تھے (اور یہ بھی بتا دیا) اس لئے آئے تھے کہ تمہارے سامنے مجھ سے سوالات کریں تم جوابات سن کر دین سیکھ لو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) کی اطاعت واجب ہے نہ کہ جبریل ( علیہِ السّلام ) کی کہ یہاں جبریل ( علیہِ السّلام ) نے حاضرین سے خود نہ کہہ دیا کہ لوگو! میں جبریل ہوں مجھ سے فلاں فلاں بات سیکھ لو بلکہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم سے کہلوایا تاکہ لوگوں کےلیےقابل قبول ہو۔(مراٰۃ المناجیح، 1/ 27)
’’جبریل‘‘ کا مطلب:جبریل عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کا معنیٰ ہے’’ عبداللہ‘‘جبر کا معنیٰ عبد اور ایل کا معنیٰ اللہ ہے۔(ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح، 1/ 27)سیِّدُنا جبریلعلیہِ السّلامانسانی صورت میں:یاد رہے! حضرت سیِّدُنا جبریل علیہِ السّلام فرشتوں کے سردار ہیں اور فرشتے نوری مخلوق ہیں اور نور وبشر ایک دوسرے کی ضد نہیں کہ ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں حضرت سیِّدُنا جبریل علیہِ السّلام نوری مخلوق ہونے کے باوجود انسانی صورت میں تشریف لائے جیساکہ مذکورہ حدیث شریف میں ہے۔ اسی طرح حضرت سیِّدَتُنا بی بی مریم رضی اللہ عنہا کے سامنے انسانی شکل میں جلوہ گَر ہوئے تھے۔ جیساکہ قرآنِ مجید میں ہے:فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(17)(پ ۱۶، مریم:۱۷) ترجمہ کنزالایمان: تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا۔
نیزبخاری شریف میں ہے کہ ’’حضرت مَلَکُ الموت علیہِ السّلام حضرت موسیٰ کَلِیْمُ اللہ علیہِ السّلام کی بارگاہ میں بشری صورت میں حاضر ہوئے۔‘‘ ( بخاری، کتاب الجنائز ، باب من احب الدفن فی الارض المقدسة اونحوھا ، ۱/ ۴۵۰، حدیث:۱۳۳۹)سردار ملائکہ کی بارگاہِ انبیا میں حاضری:حضرت سیِّدُنا جبریل علیہِ السّلام وحی لانے پر مقرر ہیں کہ آپ حضرت سیِّدُنا آدم علیہِ السّلام سے لے کر اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم تک تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام کی خدمت میں وحی لے کر حاضر ہوتے رہے مختلف انبیائے کرام علیہمُ السّلام کی بارگاہ میں متعدد بار حاضر ہوئے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا آدم کی خدمت میں 12مرتبہ، حضرت سیِّدُنا ادریس کی خدمت میں چارمرتبہ، حضرت سیِّدُنا نوحکی خدمت میں 50مرتبہ، حضرت سیِّدُنا ابراہیم کی خدمت میں 42مرتبہ، حضرت سیِّدُنا عیسیٰ کی خدمت میں 10مرتبہ، تین بار بچپنے میں اور سات بار بڑے ہونے کے بعد، حضرت سیِّدُنا یعقوب کی خدمت میں چار مرتبہ، حضرت سیِّدُنا ایوب علیہمُ السّلام کی خدمت میں تین مرتبہ اور سیِّدُالانبیا صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں 24 ہزار مرتبہ باریابی سے مشرف ہوئے۔
(ارشاد الساری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ، ۱/ ۱۰۱، تحت الحدیث:۲)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 2