- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 7
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ رُقَيَّةَ تَمِيْمِ بْنِ اَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ.‘‘ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: ’’لِلّٰهِ وَلِكِتَابِهٖ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ وَعَامَّتِهِمْ.‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِم)
عن ابي رقية تميم بن اوس الداري رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’الدين النصيحة.‘‘ قلنا: لمن؟ قال: ’’لله ولكتابه ولرسوله ولائمة المسلمين وعامتهم.‘‘ (رواہ مسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’دین خیر خواہی ہے۔‘‘ ہم نے عرض کی: کس کے لئے؟ ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک کےلئے، اس کی کتاب کے لئے، اس کے رسول کے لئے، مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لئے۔‘‘
(مسلم، كتاب الایمان، باب بیان ان الدین النصیحة، ص ۵۱، حدیث:۱۹۶)
شرح حدیث
مذکورہ حدیث پاک کی اہمیت:خیال رہے! حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اللہ پاک کی طرف سے عطا کئے گئے بےشمار معجزات میں ایک معجزہ
’’جوامع الکلم‘‘ کا بھی عطا ہوا کہ ’’مختصر جملہ میں لمبی چوڑی بات کو بیان فرما دیا کرتے تھے۔ (سیرت مصطفیٰ، ص589) مذکورہ حدیث پاک بھی ان احادیث میں شمار کی جاتی ہے جن کو ’’جوامع الکلم‘‘ کہا جاتا ہے یعنی وہ احادیث جن کے الفاظ تو بہت کم ہوتے ہیں لیکن علم وحکمت کے کثیر موتی ان میں موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ (حدیث پاک) بھی جامع کلمات میں سے ہے کہ ایک لفظ میں لاکھوں چیزیں شامل ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 557)نصیحت کا معنیٰ ومفہوم:نصیحت بنا ہے نصح سے بمعنیٰ خالص ہونا، (اہل)عرب کہتے ہیں: ’’نَصَحْتُ الْعَسْلَ عَنِ الشَّمْعِ (یعنی)میں نے شہد کو موم سے خالص کرلیا۔‘‘ اصطلاح میں کسی کی خالص خیر خواہی کرنا جس میں بدخواہی کا شائبہ نہ ہو یا خلوصِ دل سے کسی کا بھلا چاہنا نصیحت ہے۔ حتّٰی کہ اعتقاد کو کفر سے خالص کرنا،عبادات کو ریا سے پاک و صاف کرنا، معاملات کو خرابیوں سے بچانا سب ہی نصیحت میں داخل ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 557)نصیحت کی علامتیں:حضرت علامہ شاہ کرمانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ’’نصیحت کی تین علامات ہیں: (1)…مسلمانوں کے مَصائب پر دلی طور پر دکھی وغمزدہ ہو۔ (2)… اُن کی خیر خواہی کی کوشش کرے اور (3)… بہتری کے کاموں کی طرف اُن کی رہنمائی کرے اگر چہ وہ اس کو ناپسند کریں اور اس سے ناواقِف ہوں۔ (دلیل الفالحین، باب فی النصیحة، ۱/ ۴۶۰)اللہ پاک کے لئے نصیحت کا معنیٰ:سیِّدُنا امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ ’’شرح صحیح مسلم‘‘ میں مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: (دین کا) اللہ پاک کے لئے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہےکہ اللہ پاک کی ذات پہ ایمان رکھنا، اُس سے شرک کی نفی کرنا، اُس کی صفات كو عيب سے پاک ماننا، اسے کمال اور بزرگی کی صفات سے متصف ماننا، تمام عیوب سے پاک ماننا، اس کی فرمانبرداری کرنا اورنافرمانی سے بچنا،اسی کے لئے محبت اور اسی کے لئے دشمنی رکھنا، اس کے فرمانبرداروں سے محبت اور نافرمانوں سے عداوت رکھنا، جو اس ذات ِباری تعالیٰ کا انکار کرے اس سے جہاد کرنا، اس کی نعمتوں کا اِعتراف اور اُن پر شکر بجا لانا، سچے دل سے اِن تمام اُمور کو ماننا، مذکورہ تمام اَوصاف کی طرف لوگوں کو دعوت دینا، اُن پر اُبھارنااور تمام لوگوں سے حتی الامکان نرمی کا برتاؤ کرنا۔کتابُ اللہ کے لئے نصیحت کا معنیٰ:(دِین کا) کتابُ اللہ کے لئے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ اِس بات پر ایمان لانا کہ بے شک یہ اللہ پاک کا کلام ہے، اسی کا نازل کردہ ہے، مخلوق میں سے کسی کا کلام اس کے مشابہ نہیں ، نہ ہی مخلو ق میں سے کوئی اس جیسا کلام لانے پر قادر ہے، کتابُ اللہ کی تعظیم کرنا، کما حقہ اس کی تلاوت کرنا،اسے خوبصورت بنانا،جو کچھ اس میں ہے اس کی تصدیق کرنا، اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کے علوم و امثال کو سمجھنا، اس کےعجائبات میں غور و فکر کرنا، احکام والی آیات پر عمل کرنا، متشابہ آیات پر ایمان رکھنا، اُس کےعموم وخصوص اور ناسخ و منسوخ سے بحث کرنا،اس کے علوم کو پھیلانا اورقرآن اور اُس کی نصیحتوں کی جانب لوگوں کو بلانا ۔رسولُ اللہصلّی اللہ علیہ وسلّمکے لئے نصیحت کا معنیٰ:(دِین کے) حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے لئے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی رسالت کی تصدیق کرنا اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اُس پر ایمان لانا،جس چیز کا حکم دیں اُس پر عمل کرنا اور جس چیز سے منع کریں اُس سے باز رہنا، حیاتِ ظاہری میں اور اُس کے بعدآپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مدد کرنا،آپ کے دشمنوں سے دشمنی اور دوستوں سے دوستی رکھنا، آپ کے حق کا لحاظ رکھنا، آپ کاادب واحترام اور تعظیم وتوقیربجالانا، آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے طریقے و سنت کو زندہ کرنا، آپ کی دعوت اور شریعت کو پھیلانا،آپ کی شریعت سے تہمت کی نفی کرنا، شریعت کے علوم سے فائدہ حاصل کرنا، اُس کے معانی میں گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنا، لوگوں کو اُس کی طرف بلانا، اُس کے سیکھنے سیکھانے، تعظیم و بزرگی میں نرم رویہ اختیار کرنا، اِن علوم کو پڑھتے وقت اُن کے اَدب کا خیال رکھنا، اگر علم نہ ہو تو اُس کے بارے میں کلام کرنے سے رکنا، آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی نسبت کی وجہ سے اہل بیت کا احترام کرنا،آپ کے اَخلاق و آداب کو اپنانا،اَہْلِ بیت اور صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے محبت کرنا،اُن لوگوں سے بُغض رکھنا جو سنت میں کوئی نئی وبُری چیز اِیجاد کریں یا صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان میں سے کسی ایک صحابی سے بھی اِعراض کریں۔اَئِمَّۂ مسلمین کے لئے نصیحت کا معنیٰ:(دِین کے) اَئِمَّۂ مسلمین کے لئے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ حق پر اُن کی مدد کرنا، حق بات میں اُن کی اطاعت کرنا، اُن کے حکم کو ماننا، نرمی کے ساتھ اُن کو تنبیہ کرنا اور ڈرانا، وہ جس چیز سے غافل ہوں اُس کی انہیں خبر دینا،انہیں مسلمانوں کے وہ حقوق یاد دلانا جن سے وہ بے خبر ہوں، اُن کے خلاف بغاوت نہ کرنا، لوگوں کے دلوں کو اُن کی اطاعت کے لئے نرم کر نا، اُن کے پیچھے نماز پڑھنا، جہاد میں اُن کا ساتھ دینا اور اُن کو صدقات اَدا کرنا۔ یہ تمام معاملات اُسی صورت میں ہیں جب کہ اَئِمَّۂ مسلمین یا تو خلفاء ہوں یا قوم کے خیرخواہ حکمران ہو ں۔ نیز اَئِمَّۂ مسلمین سے مُراد علمائے دین بھی ہوتے ہیں تو اُن کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ بیان کریں اُسے قبول کیا جائے اور اَحکام میں اُن کی تقلید یعنی پیروی کی جائے اور اُن کے ساتھ حُسنِ ظن رکھاجائے۔عام مسلمانوں کے لئے نصیحت کا معنیٰ:(دِین کے) عام مسلمانوں کے لئے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ دُنیوی و اُخروی معاملات میں اُن کی رہنمائی کرنا، اُن کی تکالیف کو دُور کرنا، دِین کے بارے میں جوبات وہ نہیں جانتے اُنہیں سکھانا، قول و فعل سے اُن کی مدد کرنا، اُن کے عیبوں کو چھپانا، اُن کی ضرورت کو پورا کرنا، تکلیف دہ چیز کو اُن سے دُور کرنا، نفع دینے والی چیزوں کو اُن کے قریب کرنا، اِخلاص اور نرمی کے ساتھ اُنہیں بھلائی کا حکم دینااور بُرائی سے روکنا، اُن پر شفقت کرنا، اُن کے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کرنا، انہیں اچھی نصیحت کرنا، اُنہیں دھوکا نہ دینا، ان سے حسد نہ کرنا، بھلائی میں سے جو اپنے لئے پسند کرے اُن کے لئے بھی پسند کرنا اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے جو اپنے لئے ناپسند کرے اُن کے لئے بھی ناپسند کرنا۔
(شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب الدین النصیحة ، الجزء الثانی، ۱ / ۳۷ تا ۳۹ )خیر خواہی کے لئے علم ضروری ہے:علامہ اِبن بَطال رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اللہ پاک، کتابُ اللہ، اُس کے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ، اَئِمَّۂ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لئے اُس وقت تک خیر خواہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ سے خیر خواہی اور طلب علم کے لئے کوشش نہ کرے، کیونکہ علم ہی کے ذریعے اُسے معلوم ہوگا کہ کیا چیز اُس کے لئے واجب ہے اور کیا نہیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوگا کہ شیطان اُس کا دشمن ہے، اُس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟ اورنفس کِن بُری باتوں کی طرف مائل ہوتا ہےجن سے بچنا چاہیے وغیرہ۔(شرح بخاری لابن بطال، کتاب الایمان ، باب قول الرسول: الدین النصیحة...الخ، ۱ / ۱۳۰)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 7