- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 36
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّؤمِنٍ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ الدُّنيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَّسَّرَ عَلٰى مُعْسَرٍ يَّسَّرَ اللهُ عَلَيهِ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمَنْ سَتَـرَ مُسلِمًا سَتَـرَهُ اللهُ فِيْ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاللهُ فِيْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِيْ عَوْنِ اَخِيْهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيْقًا يَّلْتَمِسُ فِيْهٖ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهٗ بِهٖ طَرِيْقًا اِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِيْ بَيْتٍ مِّنْ بُيُوْتِ اللهِ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهٗ بَيْنَهُمْ اِلَّا نَـزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَتْهُمُ الْمَلَآئِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهٗ وَمَنْ بَطَّاَ بِهٖ عَمَلُهٗ لَمْ يُسْرِعْ بِهٖ نَسَبُهٗ.‘‘(رَوَاهُ مُسْلِمٌ بِهٰذَا اللّفْظ)
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والاخرة ومن ستـر مسلما ستـره الله في الدنيا والاخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه ومن سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له به طريقا الى الجنة وما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم الا نـزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده ومن بطا به عمله لم يسرع به نسبه.‘‘(رواه مسلم بهذا اللفظ)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی مومن سے دنیا کی کوئی پریشانی دور کی تو اللہ پاک قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سےاس کی ایک پریشانی دور فرمائے گااورجس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اللہ پاک اس پردنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ پاک دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ پاک اپنے بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ پاک اس کے سبب اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے اور جو لوگ اللہ پاک کے گھروں میں سے کسی گھر (یعنی مسجد)میں جمع ہو کر قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے اور پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیرلیتے ہیں اور اللہ پاک اپنی بارگاہ میں موجود فرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہےاور جس کا عمل اسے پیچھے کردے تو اُس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔‘‘
( مسلم، كتاب الذكر والدعاء والتوبة...الخ، باب فضل الاجتماع على تلاوة القراٰن وعلى الذكر، ص۱۱۱۰، حدیث:۶۸۵۳)
شرح حدیث
عظيم كام:حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں فرماتے ہیں: اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کی حاجت روائی ، اپنے علم ، مال ، مَقام ومَرتبے ، نصیحت ، اچھے کام کی طرف رہنمائی ، خود مدد کرنے یا کسی کے ذریعے مدد کرنے یا کسی کی مدد کی سفارش کرنے یا مدد کا وسیلہ بننے یا اس کے لئے مدد کی دعا کردینے کی عظیم فضیلت کا بیان ہے۔ کسی بھی تنگدست مسلمان پر کشادگی سے مراد یہ ہے کہ یا تو اسے کوئی چیز ہبہ کرکے اُس پر کشادگی کرے یا اس پر صدقہ کرکے کشادگی کرے یا قرض دار ہونے کی صورت میں اُس کو مزید مہلت دے کر اس پر کشادگی کرے۔ اسی طرح اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی قلبی یا بدنی یامالی طور پر مدد کرے۔ جب بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے چاہیے کہ اب وہ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے، حق بات کا اقرار کرنے اور اس مدد کو ہمیشہ قائم رکھنے میں کسی بزدلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ مزید فرماتے ہیں: ایک بار حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی رحمۃُ اللہ علیہ سے کسی حاجت کے لئے ساتھ چلنے کا کہاتو انہوں نے کہا: میں تو معتکف ہوں۔ اس پر حضرت سیِّدُنا حسن رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’کیاتم نہیں جانتے کہ تمہارا کسی مسلمان کی حاجت روائی کے لیے چلنا تمہارے لئے بار بارحج کرنے سے بھی افضل ہے۔‘‘ حصولِ علم کے لیے کسی راستے پر چلنے میں تمام مَعنوی اُمور یعنی علم کو حفظ کرنا ، علمی مذاکرے کرنا ، علم کے لئے مطالعہ کرنا، اس کو سمجھنا اور ہر وہ کام جو علم کے حُصول کا ذریعہ ہو وہ سب اس میں شامل ہے۔
(دلیل الفالحین، باب فی قضاء حوائج المسلمین...الخ، ۲/ ۳۷، تحت الحدیث:۲۳۶)مختلف علوم، قواعد اور آداب کا مجموعہ:حضرت سیِّدُنا علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ بہت عظیم حدیث پاک ہے ، مختلف علوم ، قواعد اور آداب کا مجموعہ ہے۔اِس میں مسلمانوں کی حاجت روائی کرنے اور اُنہیں اپنے علم، مال، مدد، مصلحت یا نصیحت وغیرہ کے ذریعے نفع پہنچانے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نیز اِس میں مسلمانوں کی ستر پوشی ، تنگدستوں پر کشادگی اور علم حاصل کرنے کی طلب میں کسی راستے پر چلنے کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔ یہاں عِلمِ شرعی کے حُصول میں مَشغولیت اِس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ اس سے فقط اللہ پاک کی رضا مقصود ہو، اگرچہ یہ شرط ہرعبادت کے لئے ہے لیکن علم کے ساتھ خاص طور پر اسے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ اس میں سُستی کرتے ہیں اور بعض ابتدائی طور پر علم حاصل کرنے والے اس مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔ نیز مسجد میں اجتماعی طور پر تلاوتِ قرآن کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہےاور یہ جو فرمایا گیا کہ جس کا عمل اسے پیچھے رکھے اس کا نسب اسے آگے نہیں پہنچا سکتا اس سے مراد یہ ہے کہ جس کے اَعمال ناقص ہوں تو وہ نیک اعمال کرنے والوں کے مَراتب تک نہیں پہنچ سکتا ، لہذا ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ فقط اپنے نسب اور آباء واجداد کی فضیلت پر بھروسا نہ کرے اور نہ ہی عمل میں کوئی کوتاہی کرے۔
(شرح مسلم، کتاب الذکر والدعا...الخ، باب فضل الاجتماع علی تلاوةالقراٰن...الخ، الجزء السابع عشر، ۹/ ۲۱، ۲۳، ملتقطًا)مومن کی دنیاوی پریشانی دور کرنا:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’جس نے کسی مومن سے دنیا کی کوئی پریشانی دور کی تو اللہ پاک قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سےاس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی تم کسی کی فانی مصیبت دفع کرو اللہ (پاک) تم سے باقی مصیبت دفع فرمائے گا، تم مومن کو فانی دنیوی آرام پہنچاؤ اللہ (پاک) تمہیں باقی اُخروی آرام دے گا، کیونکہ بدلہ احسان کا احسان ہے۔ یہ حدیث بہت جامع ہے۔ کسی مسلمان کے پاؤں سے کانٹا نکالنا بھی ضائع نہیں جاتا،حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف قیامت ہی میں بدلہ ملے گا بلکہ قیامت میں بدلہ ضرور ملے گا اگرچہ کبھی دنیا میں بھی مل جائے۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/189)
حضرت سیِّدُنا علامہ ملّا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مومن اگرچہ فاسق ہو اس کے ایمان کی رعایت کرتے ہوئے فانی دنیا کی کوئی پریشانی، غم یا سختی دور کی اگرچہ چھوٹی سی ہو (تو اللہ پاک قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا)۔(مرقاةالمفاتیح، کتاب العلم، الفصل الاول ، ۱/ ۴۵۴، تحت الحدیث:۲۰۴)تنگدست پر آسانی کرنے کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے قر ض کی ادا ئیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے رو زانہ اتنامال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقْتِ ادائیگی کے بعد مہلت دی تو اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا۔‘‘
(مجمع الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسر...الخ، ۴/ ۲۴۲، حدیث:۶۶۷۶)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پر یشا نیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے۔‘‘ (مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسر...الخ ، ۴/ ۲۳۹، حدیث:۶۶۶۴)مسلمان کی پردہ پوشی کرنا:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ پاک دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: اس طرح کہ ننگے (بےلباس) کو کپڑے پہنائے یا ایسے کہ اس کے چھپے ہوئے عیب ظاہر نہ کرے بشرطیکہ اس ظاہر نہ کرنے سے دین یا قوم کا نقصان نہ ہو ورنہ ضرور ظاہرکردے، کفار کے جاسوسوں کو پکڑوائے،خفیہ سازش کرنے والوں کے رازکو طشت ازبام (فاش) کرے، ظلمًا قتل کی تدبیرکرنے کی مظلوم کو خبر دے دے، اخلاق اورہیں معاملات اورسیاسیات کچھ اور۔(مراٰۃ المناجیح، 1/189)پردہ پوشی کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرےگا اللہ پاک قیا مت کے دن اس بندے کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘
(مسلم، کتاب البروالصلة والاٰداب،باب بشارة فی ستر اللّٰہ تعالٰی عیبہ، ص۱۰۷۲، حدیث:۶۵۹۵)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرےگا اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھو لے گا اللہ پاک اس کا راز ظاہر کردے گا یہا ں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رُسوا ہوجائے گا۔‘‘
(ابن ماجہ، کتاب الحدود ،باب الستر علی المومن...الخ، ۳/ ۲۱۹، حدیث:۲۵۴۶)اللہ پاک کی مدد شامِلِ حال رہے:’’اللہ پاک اپنے بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے‘‘یہ الفاظ بہت جامع ہیں جس میں دین ودنیا کی ساری اِمدادیں شامل ہیں، اِمداد بدن سے ہویاعلم یا مال وغیرہ سے۔(مراٰۃ المناجیح، 1/189)مسلمان کی مدد کرنے کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ جب تک اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں رہتاہے اللہ پاک اس کی حاجت پوری فرماتارہتا ہے۔‘‘
(بخاری، کتاب المظالم والغضب، باب لایظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ، ۲/ ۱۲۶، حدیث:۲۴۴۲)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک کی مخلوق میں سے چند لوگ ايسے ہيں جنہیں اس نے لوگوں کی حاجت روائی کے لئے پیدا فرمایا ہے لوگ اپنی حاجتوں میں ان کا سہارا لیتے ہیں، بےشک وہی لوگ عذاب سے امن والے ہیں۔‘‘ (معجم کبیر، ۱۲/ ۲۷۴، حدیث:۱۳۳۳۴)علم کی جستجو میں رہنے والا:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ پاک اس کے سبب اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی جو عِلمِ دین سیکھنے یا دینی فتویٰ حاصل کرنے کے لیے عالِم کے گھر جائے سفرکر کے یا چند قدم تو اس کی برکت سے اللہ (پاک) دنیا میں اس پر جنت کے کام آسان کرے گا،مرتے وقت ایمان نصیب کرے گا،قبرو حشر کے حساب میں کامیابی اور پل صراط پر آسانی عطا فرمائے گا، جنت کے راستے میں سب چیزیں داخل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ علم کے لئے سفر کرنا بہت ثواب ہے۔ (حضرت سیِّدُنا)موسیٰ علیہ السّلام طلب علم کے لئے (حضرت سیِّدُنا)خضر علیہ السّلام کے پاس سفر کرکے گئے۔ حضرت جابر ( رضی اللہ عنہ ) ایک حدیث کے لئے ایک ماہ کا سفر طے کرکے (حضرت سیِّدُنا) عبداللہ ابن قیس ( رضی اللہ عنہ ) کے پاس پہنچے۔(مراٰۃ المناجیح، 1/189)علم اور عالِم دین کی فضیلت:قرآن وحدیث میں عالم دین کے بڑے فضائل بیان ہوئے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ(پ۲۸، المجادلة:۱۱)
ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔
حضرت سیِّدُنا ابواُمَامَہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’عالِم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر۔‘‘
(ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ...الخ، ۴/ ۳۱۳، حدیث:۲۶۹۴)
حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارے دین کا بہترین عمل پرہیزگاری ہے۔‘‘
(معجم اوسط، من اسمہ علی، ۳/ ۹۲، حدیث:۳۹۶۰)
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص علم کی طلب میں نکلا تو لوٹ آنے تک وہ اللہ پاک کی راہ میں ہے۔‘‘
(ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل طلب العلم، ۴/ ۲۹۴، حدیث:۲۶۵۶)
حضرت سیِّدُنا سخبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص علم حاصل کرتا ہے تو یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔‘‘(ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل طلب العلم، ۴/ ۲۹۵، حدیث:۲۶۵۷)حضرت سیِّدُنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص علم کی طلب میں گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پَر بچھا دیتے ہیں۔‘‘
(ابن ماجة، کتاب السنة، باب فضل العلماء...الخ ، ۱/ ۱۴۸، حدیث:۲۲۶)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’ایک فقیہ شیطان پر (غیر عالِم)ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ سخت ہے۔‘‘
(ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی فضل الفقہ...الخ ، ۴/ ۳۱۲، حدیث:۲۶۹۰)
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن عالِم اور عبادت گزار کواٹھایا جائے گا تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ جبکہ عالِم سے کہا جائے گا کہ جب تک لوگوں کی شفاعت نہ کرلو ٹھہرے رہو۔‘‘(شعب الایمان، باب فی طلب العلم، ۲/ ۲۶۸، حدیث:۱۷۱۷)قرآن پڑھنے پڑھانے کے لئے جمع ہونا:’’جو لوگ اللہ پاک کے گھروں میں سے کسی گھر (یعنی مسجد)میں جمع ہو کر قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے اور پڑھتے پڑھاتے ہیں‘‘ کی شرح میں ہے: یہاں اللہ کے گھر سے مراد مسجدیں، دینی مدرسے اورصوفیاء کی خانقاہیں ہیں، جو اللہ کے ذکر کے لئے وقف ہیں۔ یہود ونصاریٰ کے عبادت خانے اس سے خارج ہیں کہ وہاں تو مسلمان کو بلاضرورت جانا ہی منع ہے۔ درسِ قرآن سے مراد قرآن شریف کی تلاوت،تجوید، احکام سیکھنا ہیں لہٰذا اس میں صَرف، نحو، فقہ، حدیث، تفسیر وغیرہ کے درس شامل ہیں۔جیساکہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے،اسی لئے تلاوت کے بعد درس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔(مراٰۃ المناجیح، 1/190)محبوب ترین جگہیں اور بدترین مقامات:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک کے نزدیک تمام آبادیوں میں محبوب ترین جگہیں اس کی مسجد یں ہیں اور بدترین مقامات بازار ہیں۔‘‘
(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل الجلوس...الخ، ص۲۶۴، حدیث:۱۵۲۸)
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو مسجد سے محبت رکھتا ہے اللہ پاک اس سے محبت فرماتا ہے۔‘‘(معجم اوسط، ۴/ ۴۰۰، حدیث:۶۳۸۳)مسجد میں اجتماع ذکر ونعت:حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک آخری نبی، محمد عربی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارا گزر جنت کی کیاریوں پرسے ہوتو اس میں سے کچھ نہ کچھ چن لیا کرو۔‘‘ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: جنت کی کیاریاں کیا ہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’ذکر کے حلقے۔‘‘ (ترمذی ، کتاب الدعوات، ۵/ ۳۰۴، حدیث:۳۵۲۱)
سیِّدُنا سعید بن مسیب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جو مسجد میں بیٹھتا ہے وہ اپنے ربّ کریم کے حضور بیٹھتا ہے۔‘‘ سیِّدُنا محمد بن مسلم رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: تو پھراسے اچھی بات ہی کرنی چاہئے۔(زھد لابن المبارک، باب فضل المشی الی الصلاة…الخ، ص۱۴۰، رقم:۴۱۶)تلاوتِ قرآن کی فضیلت:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص کتاب اللہ میں سے ایک حرف پڑھے تو اسے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملے گی ا ور ہر نیکی 10 نیکیوں کے برابر ہوگی۔ میں نہیں کہتا کہ المّ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔‘‘
(ترمذی ، کتاب فضائل القراٰن عن رسول اللّٰہ، باب ماجآء فیمن قرا حرفا من القراٰن...الخ، ۴/ ۴۱۷، حدیث:۲۹۱۹)
مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔‘‘
(بخار ی، کتاب فضائل القراٰن، باب خیرکم من تعلم القراٰن...الخ، ۳/ ۴۱۰، حدیث:۵۰۲۷)
حضر ت سیِّدُنا معا ذ جُہَنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ اس کی روشنی دُنیا کے سورج کی روشنی سے بڑھ کرہوگی جب کہ سورج کو اتنا قریب فرض کر لیا جائے کہ گویا تمہارے گھروں میں اتر آیا ہے پھر تم سمجھ سکتے ہو کہ جب ماں باپ کا یہ مر تبہ ہوگا تو اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جس نے قرآن کریم پر عمل کیا ہوگا۔‘‘
(ابو داود، کتاب الوتر، باب فی ثواب قراء ة القراٰن، ۲/ ۱۰۰، حدیث:۱۴۵۳)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے قرآنِ پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اس پر عمل کیا تو قرآنِ کریم اس کی شفاعت کرے گا اور جنّت میں لے جائے گا۔‘‘(تاریخ مدینہ دمشق، ۴۱/ ۳)
سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے قراٰنِ عظیم کی ایک آیت سکھائی جب اس آیت کی تلاوت کی جائے گی تو سیکھانے والے کو ثواب ہوگا۔‘‘ (جمع الجوامع، ۷/ ۲۰۹، حدیث: ۲۲۴۵۶)سکینہ کیا ہے؟مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سکینہ کے لفظی معنیٰ ہیں سکونِ قلب اور دلی اطمینان،اصطلاح میں سکینہ وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو مؤمنوں پر مصیبت کے وقت اترتی ہے، ان کے دل ہاتھ میں لے لیتی ہے جس سے ان کے دل ٹھہر جاتے ہیں گھبراتے نہیں۔ رب (کریم ارشاد) فرماتا ہے: ’’هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ(پ۲۶، الفتح:۴، ترجمہ کنز الایمان:وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا)۔‘‘ اور فرماتا ہے: ’’اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ(پ۱۰، التوبة:۲۶، ترجمہ کنز الایمان: اللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر)۔‘‘یہاں دونوں معنیٰ بن سکتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 8/367) ایک اور مقام پر مفتی صاحب سکینہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سکینہ اللہ (پاک) کی ایک مخلوق ہے جس کے اترنے سے دلوں کوچین نصیب ہوتا ہے، کبھی ابرکی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور دیکھی بھی جاتی ہے،اس کی برکت سے دل سےغیْرِ خدا کا خوف جاتارہتا ہے۔ رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقْتِ ذکر ذاکر (ذکر کرنے والے) کو ہرطرف سےگھیرتی ہے۔ فرشتوں سے سیّاحین (سیر وسیاحت کرنے والے) فرشتے مراد ہیں جو ذکر کی مجلسیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ورنہ اعمال لکھنے والے اورحفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھ ذِکْرُاللہ ہورہا ہو وہاں یہ تین رحمتیں اترتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذکر سے جماعت کا مِل کر ذکر کرنا افضل ہے، جماعت کی نماز کا درجہ زیادہ کہ اگر ایک کی قبول سب کی قبول۔(مراٰۃ المناجیح، 1/190)
حضرت سیِّدُنا علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کے گھر میں جمع ہو کر تلاوتِ قرآن اور درس وتدریس کرنے والوں پر جو سکینہ نازل ہوتا ہے اس سے مراد وہ حالت اور کیفیت ہے جس سے دل مطمئن ہوجائے۔ اس سکینہ کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ(پ۲۶، الفتح:۴)
ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا۔
تو جسے اِس بات کا علم اور یقین ہو کہ ساری کائنات کو اللہ پاک کی قدرت محیط ہے تو اس کا دل پُرسکون ہوتا ہے اور اسے اللہ پاک کی طرف سے ملنے والے اَجر کی قوی امید ہونے کی وجہ سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ سکینہ سے مراد ایک فرشتہ ہے جو مومن کے دل پر نازل ہوتا اور اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سکینہ سے مراد رحمت، وقار، سکون اور خشیت ہے۔(دلیل الفالحین ، باب فی قضاءحوائج المسلمین...الخ ، ۲ / ۳۹ ، تحت الحدیث : ۲۴۶)اعلیٰ علیین میں تذکرہ:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’اللہ پاک اپنی بارگاہ میں جماعت کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی فرشتوں کی جماعت (کے سامنے)۔ اس کی شرح و ہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جو ربّ (کریم) کو اکیلے یاد کرے ربّ (کریم) بھی اسے ایسے ہی یاد کرتا ہے، جو جماعت میں یاد کرے ربّ (کریم) اسے فرشتوں میں یاد کرتا ہے۔ قرآن کریم( میں اللہ پاک) فرماتا ہے:’’فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ(پ۲، البقرة:۱۵۲، ترجمہ کنز الایمان:تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا)۔‘‘ اس ربّ (کریم) کی یاد کا اثر یہ پڑتا ہے کہ مخلوق اس بندے کو یاد کرنے لگتی ہے، بزرگوں کے مزارات پر زائرین کا ہجوم وہاں ذِکْرُ اللہ کی دھوم اسی یاد کا نتیجہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 1/190)محض اعلیٰ نسب ہونا کافی نہیں عمل بھی ضروری ہے:’’جس کا عمل اسے پیچھے کردے تو اُس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا‘‘کی شرح میں ہے: یعنی نسب کی شرافت عمل کی کمی کو پورا نہ کرے گی۔ کیا تمہیں خبر نہیں کہ (حضرت سیِّدُنا)نوح علیہِ السّلام کی کشتی میں کتے بلّوں کو جگہ تھی مگر ان کے کافر بیٹے کنعان کے لئے جگہ نہ تھی۔ مقصد یہ کہ شریْفُ النَّسب (لوگ) اعمال سے لاپروا نہ ہوجائیں، یہ منشاء نہیں کہ شرافَتِ نسب کوئی چیز نہیں۔ مؤمن کو نَسبُ الرسول ضرور فائدہ دے گا۔ تمام دنیا کی عورتیں حضرت فاطمہ زہرا ( رضی اللہ عنہا ) کے قدمِ پاک کو نہیں پہنچ سکتیں۔ربّ (کریم) نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ’’اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۴۷)(پ۱، البقرة:۴۷، ترجمہ کنز الایمان: اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی)۔‘‘ بنی اسرائیل کے (اپنے زمانے کے)تمام عالَم پر افضل ہونے کی یہی وجہ تھی کہ وہ اولادِ انبیاءہیں لہٰذا یہ حدیث کسی آیت کے خلاف نہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 1/190)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 36