Main Icon

شرح اربعین نوویہ(اردو) - حدیث نمبر: 37

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ رَضیَ اللهُ عَنْہُمَا مَا عَنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا يَرْوِيْهِ عَنْ رَبِّهٖ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى قَالَ:’’اِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذٰلِكَ؛ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَـبَهَا اللهُ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً وَّاِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَـبَهَا اللهُ عِنْدَهٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ اِلٰى سَبْعِمائَةِ ضِعْفٍ اِلٰى اَضْعَافٍ كَثِيْرَةٍ وَاِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَـبَهَا اللهُ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً وَّاِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَـبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَّاحِدَةً.‘‘ (رَوَاهُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِیْ صَحِيْحَيْهِمَا بِهٰذِهِ الحُرُوْف)

عن ابن عباس رضی الله عنہما ما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يرويه عن ربه تبارك وتعالى قال:’’ان الله كتب الحسنات والسيئات ثم بين ذلك؛ فمن هم بحسنة فلم يعملها كتـبها الله عنده حسنة كاملة وان هم بها فعملها كتـبها الله عنده عشر حسنات الى سبعمائة ضعف الى اضعاف كثيرة وان هم بسيئة فلم يعملها كتـبها الله عنده حسنة كاملة وان هم بها فعملها كتـبها الله سيئة واحدة.‘‘ (رواه البخاری ومسلم فی صحيحيهما بهذه الحروف)

حدیث ترجمہ

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضور نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے روایت کرتے ہیں اور یہ ان روایات میں سےہے جو آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں (یعنی حدیث قدسی ہے)، ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ پاک نے اچھائیاں اور برائیاں لکھ دیں اور انہیں واضح فرما دیا، لہٰذا جو شخص کسی بھلائی کا ارادہ کرے لیکن عمل نہ کر پائے تو اللہ پاک اس کے لئے اپنے پاس ایک کامل نیکی کا ثواب لکھ دیتا ہے اور اگروہ کسی نیکی کاارادہ کرے اور عمل بھی کر لے تو اللہ کریم اپنے پاس اس نیکی کا ثواب 10سے 700 گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک لکھ دیتا ہے اور اگر بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے مگر گناہ نہ کرے تو اللہ پاک اس کےلئے اپنے پاس ایک کامل نیکی کاثواب لکھ دیتا ہےاور اگر وہ گناہ کا ارادہ کر کے اسے کر گزرے تو اللہ پاک اس کے لئے صرف ایک گناہ لکھتا ہے۔‘‘(بخاری، كتاب الرقاق، باب من همّ بحسنة او بسيئة، ۴/ ۲۴۴، حدیث:۶۴۹۱۔ مسلم، کتاب الایمان، باب اذا ھم العبد بحسنة کتبت...الخ، ۷۴، حدیث:۳۳۸)
(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری اور حضرت سیِّدُنا ابوحسین امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہما نے اپنی اپنی صحیح (بخاری ومسلم) میں انہی الفاظ میں روایت کیا ہے۔)

شرح حدیث

اللہ پاک کا بندوں پر خاص کرم:حافظ ابن بطّال رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں: اگر اللہ پاک کا یہ کرم نہ ہوتا تو کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوتا کیونکہ بندوں کے گناہ ان کی نیکیوں سے زیادہ ہوتے ہیں اور یہ اللہ پاک کا اپنے بندوں پر خاص فضل وکرم ہے کہ وہ ان کی نیکیوں کو بڑھا کر دُگنا ( بلکہ کئی گنا) کردیتا ہے اور ان کے گناہوں کو نہیں بڑھاتا اور اس نے نیکی کے ارادے کو بھی نیکی بنادیا ہے کیونکہ نیکی کا ارادہ کرنا یہ دل کا ایک فعل ہے جوکہ نیکی ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس طرح نیکی کا ارادہ دل کا فعل ہے اسی طرح گناہ کا ارادہ بھی تو دل کا فعل ہے لیکن گناہ کے ارادے پر گناہ نہیں ملتا اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو گناہ کے کام سے رُک گیا تو اس نے اپنے گناہ کے ارادے کونیکی کے ارادے سے منسوخ کردیا اور برائی کی خواہش کرنے والے ارادے کی نفی کی تو یہ عمل اس کے دل کے نیک عمل میں سے ہوگیا اور اسی نیک عمل پر اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور یہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے اس فرمانِ عالیشان کی طرح ہے کہ ’’ ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔‘‘ عرض کی گئی: یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! اگر مسلمان نیکی نہ کر سکے تو؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ گناہ سے باز رہنا بھی صدقہ ہے۔‘‘ (شرح بخاری لابن بطال، كتاب الرقاق، باب من همّ بحسنة او بسيئة، ۱۰/ ۲۰۰)رضائے الٰہی ضروری ہے:حضرت سیِّدُنا علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی گناہ کا ارادہ کیا اور پھر اللہ پاک کی رضا کی خاطر اسے چھوڑ دیا تو اس کے لئے نیکی لکھی جائے گی اور جس نے مجبوراً گناہ چھوڑا یعنی اس کے اور گناہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے نیکی نہیں لکھی جائے گی۔
(عمدةالقاری، كتاب الرقاق، باب من همّ بحسنة او بسيئة، ۱۵/ ۵۶۴، حدیث:۶۴۹۱)
نیک نیت پر ملنے والی نیکی بھی کامل ہوتی ہے:حضرت سیِّدُنا علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مذکورہ حدیث پاک کے ان الفاظ ’’عِنْدَہٗ کَامِلَۃٌ‘‘ میں ’’عِنْدَہٗ‘‘ سے نیکی کی عظمت وشان کی طرف اشارہ ہے جبکہ ’’کَامِلَۃٌ‘‘ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک ارادے پر ملنے والی نیکی بھی کامل نیکی ہوگی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ حضرت سیِّدُنا امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حدیث شریف کے لفظ ’’کَامِلَۃٌ‘‘ سے اس نیکی کی عظمت اور اس کے حکم کی تاکید کی طرف اشارہ ہے جبکہ
’’سَیِّئَۃٌ‘‘ کے ساتھ ’’کَامِلَۃٌ‘‘ نہیں بلکہ ’’وَاحِدَۃٌ‘‘ ذکر کیا گیا یعنی برائی کے کام میں صرف ایک ہی برائی لکھی جائے گی زیادہ نہیں۔ اور حدیث پاک کے جز ’’کَتَـبَہَا اللہ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ پاک فرشتے کو نیکی لکھنے کا حکم دیتا ہے تو وہ نیکی لکھ دیتا ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث قدسی ہے: ’’اِذَا اَرَادَ عَبْدِیْ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً فَلَاتَکْتَـبُوْہَا عَلَیْہِا حَتّٰی یَعْمَلَہَا یعنی اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو جب تک کہ وہ گناہ کر نہ لے۔‘‘ اس میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ فرشتہ بندے کے دل کو جان لیتا ہے۔ اب یہ جاننا دو طرح سے ہوسکتا ہے یا تو اللہ پاک اسے مطلع فرما دیتا ہے یا پھر اسے ایسی طاقت عطا فرمادیتا ہے جس سے وہ دل کے ارادے کو جان لیتا ہے۔ پہلے قول کی تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے کہ ’’ ایک فرشتے کو یہ ندا کی جاتی ہے کہ فلاں کے لئے اتنی اتنی نیکی لکھو۔‘‘ فرشتہ عرض کرتا ہے: یارب! اس نے تو یہ عمل کیا ہی نہیں؟ ارشاد ہوتا ہے: ’’اس نے نیکی کی نیت کی تھی۔‘‘ (ایک قول یہ ہے کہ) بندے کے برے ارادے پر فرشتے کو بدبو محسوس ہوتی ہے جبکہ اچھے ارادے پر فرشتے کو خوشبو محسوس ہوتی ہے (تو یوں وہ اچھی بری نیت کو پہچان لیتا ہے)۔ (فتح الباری، كتاب الرقاق، باب من همّ بحسنة او بسيئة، ۱۲/ ۲۷۶، حدیث:۶۴۹۱)
نیکیاں اور برائیاں لکھنے سے مراد:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے جز ’’بے شک اللہ پاک نے اچھائیاں اور برائیاں لکھ دیں اور انہیں واضح فرما دیا ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں: اس طرح کہ ربّ (کریم) کے حکم سے فرشتوں نے لوحِ محفوظ میں یا بندے کی تقدیر میں تحریر فرمادیں یا نامہ اعمال لکھنے والا فرشتہ لکھتا رہتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/384)نیکی و گناہ کی تعریف:خیال رہے کہ نیکی ہر وہ عمل ہے جو ثواب کا باعث ہو اور گناہ ہر وہ عمل ہے جو عذاب کا سبب ہے۔ لہٰذا ممنوعہ وقتوں میں نماز پڑھنا گناہ ہے اور حضور ( صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ) پر نمازیں یا جان فدا کر دینا ثواب ہے۔کبھی قضا نیکی ہوجاتی ہے اور ادا گناہ۔
(مراٰۃ المناجیح، 3/384)
جان اور نماز آرامِ رسول پر قربان:مسلمانوں کے پہلے خلیفہ یارِ غار، یارِ مزار، عاشق اکبر حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں خود کو سانپ سے کٹوا کر اپنی جان حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر قربان کر دی۔ (خازن، پ۱۰، التوبة، تحت الایة:۴۰، ۲/ ۲۴۰) اور مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ مولائے کائنات، مولیٰ مشکل کشا علی المرتضیٰ، شیر خدا رضی اللہ عنہ نے خیبر سے واپسی پر مقام صہبا پر اپنی عصر کی نماز حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے آرام پر قربان کر دی۔ (معجم کبیر، ۲۴/ ۱۴۴، حدیث:۳۸۲)
سیِّدِی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ نے ان دونوں واقعات کو اشعار کی صورت میں یوں بیان فرمایا ہے:
مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جان اُس پہ دے چکے اور حفظِ جان تو جان فُروضِ غُرر کی ہے
ہاں تو نے اُن کو جان اُنہیں پھیر دی نماز پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فُروع ہیں اصْلُ الاصول بندگی اُس تاجور کی ہے
(حدائق بخشش، ص203)
ایک ہی نیکی پر مختلف ثواب کیوں؟سوال :کبھی ایک نیکی پر 10کا ثواب، کبھی سات اور کبھی اس سے بھی زیادہ، اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب :اس کی ایک توجیہ یہ ہے کہ ثواب میں یہ فرق عمل کرنے والے کی نیت اورعمل کے موقع ومحل کی وجہ سے ہے۔ جس کے عمل میں جتنا اخلاص زیادہ ہو گا اسے اتنا ہی زیادہ اَجر وثواب ملے گا۔ صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کا سوا سیر جو خیرات کرنا ہمارے پہاڑوں برابر سونا خیرات کرنے سے افضل ہے کیونکہ ان کا اخلاص بہت اعلیٰ درجے کا تھا۔ انہیں رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی قُربت کی عظیم سعادت حاصل تھی۔ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے مقام ومرتبے اور شان کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) جتنا سونا خیرات کرے تو نہ ان (صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان)کے ایک مُد (ماپنے کاپیمانہ) کو پہنچے، نہ آدھے کو۔‘‘
(بخاری، كتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی: لو کنت متخذا خلیلا، ۲/ ۵۲۲، حدیث:۳۶۷۳)
نیکی کا ثواب10سے700گنا:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نیکی کرنے والے مسلمان کو ایک کا دس تو قانونًا وَعدلًا دیا جائے گا اور اس کے علاوہ فضل و کرم سے بطورِ انعام عطا ہوگا جو ہمارے گمان و وہم سے وراء (باہر) ہے۔ خیال رہے کہ ایک کا دس گنا عام حالات میں ہے رب تعالیٰ فرماتاہے: ’’مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ(پ۸، الانعام:۱۶۰، ترجمہ کنز الایمان: جو ایک نیکی لائے تو اس کے لئے اس جیسی دس ہیں)۔‘‘ اور کبھی زمانہ یا جگہ کی خصوصیت سے ایک نیکی کا عوض سات سو یا پچاس ہزار بلکہ ایک لاکھ تک ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: ’’كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ(پ۳، البقرة:۲۶۱، ترجمہ کنز الایمان: اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے)۔‘‘ یہ صرف نیکی کا عوض نہیں بلکہ اس و قت یا جگہ کی خصوصیت بھی ہے لہٰذا نہ تو گذشتہ مذکورہ آیتیں آپس میں متعارض ہیں اور نہ یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف جن میں فرمایا گیا کہ مدینہ پاک کی ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار ہے یا مکہ مکرمہ کی ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/307)
نیز جس طرح اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے اسی طرح بعض مقامات اوراوقات بھی ایسے ہیں کہ ان میں کئے گئے نیک اعمال کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ
مقامات اور اوقات کے اعتبار سے عمل کا ثواب:رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسجد حرام میں ایک نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔‘‘
(مسند احمد، ۵/ ۴۵۲، حدیث:۱۶۱۱۷)
رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی)میں نماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار نماز یں پڑھنے سے افضل ہے اور میری اس مسجد میں جمعہ ادا کرنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار جمعے ادا کرنے سے افضل ہے اورمیری اس مسجد میں رمضان کا ایک مہینہ گزارنا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ہزار ماہ رمضان گزارنے سے افضل ہے۔‘‘ (شعب الایمان، الخامس والعشرین وھو باب فی مناسک الحج، فضل الحج والعمرة، ۳/ ۴۸۶، حدیث:۴۱۴۷)
ایک روایت میں ہے کہ ’’آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کے برابر ہے اور محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا 25 نمازوں کے برابر ہے اورجامع مسجد میں نَماز پڑھنا 500 نماز وں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ اور میری مسجد(یعنی بیت المقدس اور مسجد ِ نبوی)میں نماز پڑھنا 50 ہزارنمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نمازپڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔‘‘
(ابن ماجة، کتاب اقامة الصلاة والسنة فیھا، باب ماجآء فی الصلاة فی المسجد الجامع، ۲/ ۱۷۶، حدیث:۱۴۱۳)
خیالات کی اقسام اور ان کی تعریفات:یاد رکھئے! انسان کو مختلف قسم کے خیالات آتے ہیں، پھرکبھی تویہ خود بخود فوراًہی ختم ہوجاتے، کبھی کچھ وقت کے بعد کسی وجہ سے ختم ہوتے اورکبھی ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ انہیں عملی جامہ پہنا دیا جاتا ہے۔تو ان اچھے برے خیالات پر عذاب وثواب ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے علمائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم نے خیالات کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ
حضرت سیِّدُنا علامہ احمد صاوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خیالات پانچ قِسم کے ہیں: (1)... ہاجِس: دل میں اچانک کسی چیز کا خیال آ جانا۔ (2)... خاطر: دل میں کسی چیز کا بار بار خیال آنا۔ (3)...حدیث نفس: چیز کا خیال دل میں آیا ذہن اس کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کے لئے منصوبہ بنائے۔ (4)...ہَمّ: دل میں کسی چیز کا خیال آیا غالب جانب اسے حاصل کرنے کی ہو اورضَرَر ونقصان کے خوف کی وجہ سے مغلوب سا خیال اسے نہ کرنے کا ہو اور (5)...عزم: جب مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور اپنے نفس کو اس کے حصول پر آمادہ کر کے اس چیز کے حصول کا پختہ ارادہ کر لے تو یہ عزم ہے۔ ’’ہاجس، خاطر، حدیث نفس اور ہَمّ‘‘ اگر گناہ کا ہو تو مواخذہ نہیں، ہاں نیکی کے ’’ہَمّ‘‘ میں اجر ہے اور ’’عزم‘‘اگر گناہ کا ہے تواس پر مواخذہ ہے اگرچہ گناہ نہ کر سکے۔اسی طرح نیکی کے ’’عزم‘‘ پر ثواب ہے اگرچہ کسی وجہ سے نیکی نہ کر سکے۔(حاشیة الصاوی، پ۳، البقرة، تحت الایة:۲۸۵، ۱/ ۲۴۳، ملخصًا)
اِن پانچ مراتب کو اس مثال سے سمجھئے۔ مثلاً: کسی کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ چوری کرے تو یہ خیال ’’ہاجِس‘‘ ہے، اگر یہ خیال بار بار آئے تو ’’خاطر‘‘ ہے، جب اس کا ذہن چوری کی طرف مائل ہو جائے اور وہ یہ منصوبہ بنائے کہ فلاں مکان میں چوری کرنی ہے، اس کی فلاں دیوار توڑنی ہے، فلاں راستے سے واپس آنا ہے وغیرہ تو یہ ’’حدیث نفس‘‘ ہے اور جب وہ چوری کا اِرادہ کر لے اور غالب جانب چوری کرنے کی ہو لیکن مغلوب گمان یہ ہو کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں لہٰذا چوری نہ کرنا ہی بہتر ہے، تو یہ ’’ہَمّ‘‘ ہے اور جب یہ مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور وہ پختہ ارادہ کر لے کہ چوری ضرور کروں گا چاہے پکڑا ہی کیوں نہ جاؤں تو یہ ’’عزم‘‘ ہے۔ پہلے چار مرتبوں پر مواخذہ نہیں جبکہ پانچویں مرتبے یعنی ’’عزم‘‘ پر مواخذہ ہے اگرچہ وہ اپنے ’’عزم‘‘ پر کسی وجہ سے عمل نہ کر سکے۔ مثلاً: چوری کے ’’عزم‘‘ سے وہ کسی مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ یہاں تو کچھ ہے ہی نہیں، لہٰذا واپس آگیا تو اب اسے چوری کا گناہ ملے گاکیونکہ یہ چوری کا پختہ ارادہ کر چکا تھا اگر یہاں مال ہوتا تو ضرور چوری کرتا۔
گناہ کا ارادہ:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ ایک مقام پرفرماتے ہیں: ”ھَم“ سے مراد ہے خیالِ گناہ اس پر پکڑ نہیں، عزم کے معنیٰ ہیں گنا ہ کا پورا ارادہ اس پر پکڑ ہے ،کسی کے قتل یا چوری کی تاک میں رہا مگر کرنہ سکا تو گنہگار ہوگیا ہاں خیالِ گناہ گناہ نہیں ہے بلکہ اس سے باز آجانا توبہ کرلینا نیکی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، 8/152)ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: بغیر ارادہ گناہ صادر ہوجانا گناہ نہیں گناہ میں قصد و ارادہ عذاب کا باعث ہے اسی لیے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے عمل اور ارادہ دونوں کا ذکر فرمایا۔ (مراٰۃ المناجیح، 3/385)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: معصیت (گناہ)کا ارادہ کیا مگر اس کو کیا نہیں تو گناہ نہیں بلکہ اس میں بھی ایک قسم کا ثواب ہے، جبکہ یہ سمجھ کر باز رہا کہ یہ گناہ کا کام ہے، نہیں کرنا چاہیے۔ احادیث سے ایسا ہی ثابت ہے اور اگر گناہ کے کام کا بالکل پکا ارادہ کرلیا جس کو عزم کہتے ہیں تو یہ بھی ایک گناہ ہے اگرچہ جس گناہ کا عزم کیا تھا اسے نہ کیا ہو۔ (بہار شریعت، حصہ16، 3/614)
حکایت: اچھی اور بُری نیت کا اثر
منقول ہے کہ دو بھائی تھے، ایک عبادت گزار، دوسرا فاسق۔ عبادت گزار کی آرزو تھی کہ وہ شیطان کو دیکھے۔ چنانچہ ایک دن شیطان اس کے پاس انسانی شکل میں آیا اور کہا: ’’افسوس! تو نے اپنی عمر کے 40 قیمتی سال نفس کو قید اور بدن کومشقت میں ڈال کر ضائع کر دیئے ہیں۔ اب کچھ عیش وعشرت کی زندگی گزار، اپنی نفسانی خواہشیں پوری کرکے کیف وسرور حاصل کر کیونکہ ابھی تیری آدھی عمر باقی ہے بعد میں توبہ کرکے عبادت وریاضت اختیار کر لینا، بےشک اللہ پاک بخشنے والا، مہربان ہے۔‘‘ یہ سن کر عبادت گزار نے عزم( پختہ ارادہ)کر لیا کہ ’’میں نیچے جاکر اپنے بھائی کے پاس 20 سال عیش وعشرت سے گزاروں گا پھر توبہ کرکے اپنی عمر کے بقیہ 20 سال خوب عبادت کروں گا۔‘‘ چنانچہ وہ نچلی منزل پر آنے لگا ۔ ادھر اس کے گنہگاربھائی نے اپنے نفس سے کہا: ’’تو نے اپنی عمر کو نافرمانی میں ضائع کر دیا ہے، تیرا بھائی جنت میں جبکہ تو جہنم میں جائے گا۔ اللہ پاک کی قسم! میں ضرور توبہ کروں گا اور اپنے بھا ئی کے پاس جاکر بقیہ عمر عبادت میں گزاروں گا، شاید! اللہ پاک مجھے بخش دے۔‘‘ چنانچہ یہ توبہ کی نیت(یعنی پختہ ارادے) سے اوپر کی منزل پرچڑھنے لگا راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی اچانک ایک کا پاؤں پھسلا دونوں ایک دوسرے پر گرے اور فوراً ہی دونوں کا انتقال ہوگیا۔ بروزِ قیامت اس عابد کا حشر نافرمانی کی نیت پر ہو گا جبکہ گنہگار کا حشر توبہ کی نیت پر۔ (الروض الفائق، ص۱۶)
دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ماخذ و مراجع

کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 37