- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 1
حدیث مبارکہ
عَنْ اَمِیْرِ الْمُؤمِنِیْن اَبِيْ حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ الله عَنْہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ’’اِنَّـمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ اِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوٰى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ اِلَی اللهِ وَرَسُوْلِهٖ فَهِجْرَتُهٗ اِلَى اللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ لِدُنْـيَا يُصِيْبُهَا اَوِ امْرَأَةٍ يَّنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهٗ اِلٰى مَا هَاجَرَ اِلَيْهِ. ‘‘ (رَوَاهُ اِمَامَا الْمُحَدِّثِيْنَ اَبُوْعَبْدِاللهِ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِيْلَ بْنِ اِبْرَاهِيْمَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ بَرْدِزْبَہُ الْبُخَارِیُّ وَاَبُوْ الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ مُسْلِمِ ﹰ الْقُشَیْریُّ النَّيْسَابُوْرِیُّ فِیْ صَحِيْحَيْهِمَا اللَّذَيْنِ هُمَا اَصَحُّ الْكُتُبِ الْمُصَنَّفَةِ)
عن امیر المؤمنین ابي حفص عمر بن الخطاب رضی الله عنہ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ’’انـما الاعمال بالنيات و انما لكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته الی الله ورسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنـيا يصيبها او امرأة ينكحها فهجرته الى ما هاجر اليه. ‘‘ (رواه اماما المحدثين ابوعبدالله محمد بن اسماعيل بن ابراهيم بن المغيرة بن بردزبہ البخاری وابو الحسين مسلم بن الحجاج بن مسلم ﹰ القشیری النيسابوری فی صحيحيهما اللذين هما اصح الكتب المصنفة)
حدیث ترجمہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوحفص عُمَر بن خَطّاب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُ الله صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ارشاد فرماتے سنا: ”بےشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت الله پاک اور اس کے رسول صلّی الله علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف ہو تو اس کی ہجرت الله ورسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنےیا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اسی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“(بخاری، كتاب الايمان، باب ما جاء ان الاعمال بالنیة والحسبة...الخ، ۱/ ۳۴، حدیث:۵۴۔ مسلم، کتاب الامارة، باب انما الاعمال بالنيات، ص۸۱۳، حدیث:۴۹۲۷، ’’ینکحھا‘‘ بدلہ ’’یتزوجھا‘‘)
شرح حدیث
مذکورہ حدیث شریف کی اہمیت وفضیلت:حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللّٰہ علیہ نے اپنے صاحبزادے حضرت حماد رحمۃُ اللّٰہ علیہ کو 20 باتوں کی نصیحت فرمائی، انیسویں یہ تھی کہ میں نے پانچ لاکھ حدیثوں میں سے پانچ حدیثیں منتخب کی ہیں ان پر اعتماد کرنا مذکورہ حدیث پاک بھی ان پانچ میں سے ایک ہے۔ (ماخوذ از بشیر القاری، ص 65)
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃُ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث پاک فقہ کے ستر ابواب کو شامل ہے۔
(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارة، باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: انما الاعمال بالنیة، ۱۳/ ۵۳)
مُحَدِّثِیْنِ کرام رحمۃُ اللّٰہ علیہم کتاب کی ابتدا عموماً اس حدیث پاک سے کرتے ہیں اس سے ان کی مراد اخلاص اور اللّٰہ پاک کی رضا ہے۔ (فیوض الباری شرح صحیح البخاری، تحت الحدیث:1، 1/78،ملخصاً)
حضرت سیِّدُنا حافظ اِبْنِ مہدی رحمۃُ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ کتاب لکھنے والے کو چاہئے کہ اپنی کتاب کی ابتدا اس حدیث پاک سے کرے۔(فیوض الباری شرح صحیح البخاری، تحت الحدیث:1، 1/78، مفہوماً)
حدیث شریف میں ارشاد ہوا: (بےشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)نیت کی تعریف:نِیَّت دل کے پختہ اِرادے کوکہتے ہیں خواہ وہ کسی چیزکاہواورشریعت میں عبادت کے ارادے کونِیَّت کہا جاتا ہے۔
(ماخوذ از نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری، تحت الحدیث:1، 1/224)
علامہ بدرُالدین محمود بن احمد عینی رحمۃُ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث شریف میں نیت کا بیان ہے اور منقول ہے کہ نیت تہائی اسلام ہے کیونکہ احکام کی بجاآوری تین طرح سے ہوتی ہے: قول سے، فعل سے اور نیت سے تو یوں نیت ایک تہائی اسلام ہے۔(عمدة القاری ،کتاب بدءالوحی ،باب کیف کان بدءالوحی ،۱/۴۹ ،تحت الحدیث:۱)
نیز نیت کبھی خود مستقل عبادت ہوتی ہے جبکہ دوسرے اعمال اس کے محتاج، ایک حدیث شریف میں ہے کہ ’’مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔‘‘ (معجم کبیر، ۶/ ۱۸۵، حدیث:۵۹۴۲)عزم، قصد اور نیت میں فرق:اہْلِ تحقیق نے نیت اور عزم میں فرق کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ عزم وہ ارادہ ہے جو کام سے پہلے کیا جائے اور قصد وہ ارادہ ہے جو کام کے وقت اور اس کے ساتھ پایا جائے جبکہ نیت وہ ارادہ ہے جو عمل کے ساتھ ملا ہوا ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ کام کس لئے کیا جا رہا ہے،مثلاً: حج کا ارادہ کیا تو سفر شروع کرنے تک عزم، سفر شروع ہونے کے بعد قصد اور اگر اس میں یہ بھی پیش نظر ہو کہ یہ حج کا سفر ہے تو یہ نیت ہے۔(ماخوذ از نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری، تحت الحدیث:1، 1/224)عمل کی مقبولیت کا معیار:اعمال عمل کی جمع ہے اور عمل کی مقبولیت کے لئے چند چیزیں ضروری ہیں۔ چنانچہ اللّٰہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(19)(پ ۱۵، بنی اسرائیل:۱۹)
ترجمہ کنزالایمان: اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انھیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔
صدر الافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللّٰہ علیہ اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں: ایک تو∞طالب آخرت ہونا یعنی نیت نیک ، دوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا،∞تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔
(خزائن العرفان،پ15، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: 19(نیت کے متفرق احکام:عبادت کی دو قسمیں ہیں: (1)…عبادت مقصودہ اور (2)… غیر مقصودہ۔
عبادت مقصودہ کی تعریف: وہ عبادت جو خود بالذات مقصود ہوں کسی دوسری عبادت کے لئے وسیلہ نہ ہوں۔ (بہارشریعت، حصہ5، 1/ 1015 ) ان میں نیت ہونا ضروری ہے کہ بغیر نیت کے وہ عبادت ہی پائی جائے گی جیسا کہ نماز کہ اگر کوئی شخص نماز جیسے افعال کرے مگر مطلق نماز کی نیت نہ ہو تو اسے نماز ہی نہ کہا جائے گا۔ ’’پھر فرض نماز میں فرض کی نیت بھی ضروری ہے۔ مثلاً دل میں یہ نیت ہو کہ آج کی ظہر کی فرض نماز پڑھتا ہوں۔اَصَح (یعنی زیادہ درست) یہ ہے کہ نفل، سنت اور تراویح میں مطلق نماز کی نیت کافی ہے مگر احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح یا سنت وقت کی نیت کرے اور باقی سنتوں میں سنت سرکار صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی متابعت (یعنی پیروی) کی نیت کرے، اس لئے کہ بعض مشایخ رحمۃُ اللّٰہ علیہم اِن میں مطلق نماز کی نیت کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔‘‘(نماز کے احکام، ص199)
عبادتِ غیرمقصودہ کی تعریف: وہ عبادات جوخودبالذات مقصودنہ ہوں بلکہ کسی دوسری عبادت کے لئے وسیلہ ہوں۔ ان میں نیت کرنا ضروری نہیں کہ بغیر نیت کے بھی وہ عبادت پائی جائے گی البتہ اس کا ثواب نہیں ملے گا۔ مثلاً وضو کہ اس میں نیت کرنا سنت ہے، اگر کوئی شخص بغیر نیت کے اعضائے وضو کو دھولے یا دھل گئے تو اس کا وضو تو ہو جائے گا لیکن نیت نہ ہونے کی وجہ سے اسے ثواب نہیں ملے گا۔ (ماخوذ از بہارشریعت، حصہ2، 1/ 292)
یاد رہے مباح یعنی وہ کام جس کا کرنا نہ کرنا برابر ہو کہ کرنے سے نہ ثواب اور نہ کرنے سے گناہ نہ ہو اگر اچھی نیت سے کیا جائے تو مستحب ہو جاتا ہے۔ جیسےکھانا پینا، سونا،مال ودولت جمع کرنا، تحفہ دینا،عمدہ یا زائد لباس پہننا وغیرہ۔ چنانچہ سیِّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضاخان رحمۃُ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ہرمباح نیت حسن (یعنی اچھی نیّت) سے مستحب ہو جاتاہے۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ، 8/ 452)
فقہائے کرام رحمۃُ اللّٰہ علیہم فرماتے ہیں: ’’مباحات(یعنی ایسے جائز کام جن پر نہ ثوا ب ہو نہ گناہ ان) کاحکم الگ الگ نیتوں کے اِعتبار سے مختلف ہوجاتاہے،اس لئے جب مباح سے عبادات پر قوت حاصل کرنا یاعبادات تک پہنچنا مقصود ہو تو یہ مُباحات یعنی جائز چیزیں بھی عبادات ہوں گی۔ مثلاً کھانا پینا،سونا،حُصولِ مال (وغیرہ)۔‘‘ ( فتاویٰ رضویہ، 7/ 189، ملخصاً)
لہٰذا مناسب یہی ہے کہ بندہ ہرچیز میں کچھ نہ کچھ اچھی نیت کرے حتّٰی کہ کھانے، پینے، پہننے، سونے اور∞نکاح وغیرہ میں بھی کیوں کہ ان تما م کا تعلق ان اعمال سے ہے جن کے بارے میں بروزِ∞قیامت پوچھا جائے گا۔اگر نیت رِضائے الٰہی کی ہوئی تو میزان عمل میں یہ اعمال وزنی ہوں گے۔)قوت القلوب،الفصل الثامن فی الاخلاص…الخ، ۲/ ۲۶۷، ملخصًا)
حدیث پاک میں ارشاد ہوا: (ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی)مذکورہ حدیث پاک کا شانِ وُرُوْد:حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا جس نے اُمِّ قیس نامی ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا، اُمِّ قیس نے کہا: جب تک تو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت نہ کرے میں تجھ سے نکاح نہیں کروں گی۔ چنانچہ اس نے ہجرت کی اور اس سے نکاح کیا، اسی لئے ہم اسے مہاجر اُمِّ قیس(یعنی اُمِّ قیس سے نکاح کی نیت سے ہجرت کرنے والا) کہا کرتے تھے۔ (طبرانی)اس پر حضور نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی(آخر تک پوری حدیث شریف) ۔‘‘(فیوض الباری شرح بخاری، 1/80،تحت الحدیث: 1)حدیث پاک میں ارشاد ہوا: ( جس کی ہجرت اللّٰہ پاک اور اس کے رسول صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللّٰہ ورسول ہی کی طرف ہے ۔۔۔ الخ )ہجرت کی تعریف، اقسام اور حکم:ہجرت کا لغوی معنیٰ: چھوڑنا ہے اور شرعی معنیٰ ہے: دین بچانے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا۔ (نزہۃ القاری، 1/ 229)ہجرت کی اقسام: ہجرت کی دو قسمیں ہیں: (1)… ظاہری (2)…باطنی۔ظاہری ہجرت یہ ہے کہ بندہ اپنے ایمان کو بچانے کے لئے فتنے کی جگہ سے کسی دوسری محفوظ جگہ چلا جائے اور باطنی ہجرت یہ ہے کہ بندہ ہر اس برائی کو چھوڑ دے جس کی طرف شیطان یا نفس اَمارہ بلائے۔(فتح الباری، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون… الخ، ۲/ ۵۲، حدیث:۱۰) ہجرت کا حکم:ابتدائے اسلام میں ہجرت فرض تھی پھرجب مکہ فتح ہوا تو اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی جن احادیث میں ہجرت منقطع (ختم)ہونے کا ذکر ہے ان سے فرض ہجرت کا منقطع ہونا مراد ہے اور جن میں ہجرت جاری رہنے کا ذکر ہے اس سے مراد مستحب ہجرت ہے۔ (عمدةالقاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ، ۱/ ۵۹، حدیث:۱)عہد رسالت کی ہجرتیں:حضور نبی اکرم صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ظاہری حیات میں چار طرح کی ہجرتیں ہوئی ہیں: (1)…حبشہ کی طرف ہجرت اولیٰ ، (2)…حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ، (3)…فتح مکہ سے پہلے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اور (4)…قبائل عرب کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت۔ (نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری، 1/ 229)
حضور نبی پاک صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے حکم سے مسلمانوں نے دو مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی پہلی بار 11 مرد اور چار عورتیں اور دوسری بار میں 83 مرد اور 18 عورتیں شریک ہوئیں۔ (المواھب اللدنیة، المقصدالاول، ھجرتہ، ۱/ ۱۲۵۔ ۱۳۲ ملتقطًا) جب مدینہ منورہ کے قبائل بنو خزرج اور بنو اوس کے چند افراد ایمان لائے اور انہوں نے حضور نبی اکرم صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو آنے کی دعوت دی تو آپ صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو عام اجازت دی کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے جائیں۔(سیرةابن ھشام، ص ۱۸۶، ملخصًا)مکہ مکرمہ سے ملک شام کی طرف ہجرت:قربِ قیامت میں فتنوں کے ظہور سے قبل ایک ہجرت مکہ مکرمہ سے ملک شام کی جانب ہوگی جس کا اجمالی واقعہ کچھ یوں ہے: قیامت قائم ہونے سے قبل جب دنیا میں سب جگہ کفر کا تسلط ہوگا اس وقت تمام ابدال بلکہ تمام اولیا سب جگہ سے سمٹ کر حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے (کیونکہ) صرف وہیں اسلام ہوگا اور ساری زمین کفرِستان ہوجائے گی۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہوگا ابدال طواف کعبہ میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مہدی( رحمۃُ اللّٰہ علیہ ) بھی وہاں ہوں گے اولیا انہیں پہچانیں گے ان سے بیعت کی درخواست کریں گے وہ انکار کریں گے، دفعۃً (اچانک) غیب سے ایک آواز آئے گی ’’ھٰذَاخَلِیْفَۃُ اللّٰہ الْمَہْدِیْ فَاسْمَعُوْالَہٗ وَاَطِیْعُوْہُ ترجمہ: یہ اللّٰہ پاک کا خلیفہ مہدی ہے، اس کی بات سنو اور اس کا حکم مانو۔‘‘ چنانچہ تمام لوگ ان کے دستِ (ہاتھ)مبارک پر بیعت کریں گے، وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر ملک ’’شام‘‘ کو تشریف لے جائیں گے۔ (بہار شریعت، حصہ1، 1/ 124، ملخصاً)ہجرت کب واجب ہے؟جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائض دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہے ، مروی ہے: ’’جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے اور اسے حضرت ابراہیم علیہِ السّلام اور محمد مصطفٰے صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا ساتھ نصیب ہوگا۔‘‘ (تفسیر سمرقندی، العنکبوت، تحت الآیة:۵۶، ۲/ ۵۴۲)دار الاسلام سے ہجرت عامہ اور ہجرت خاصہ کا حکم:سیِّدِی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللّٰہ علیہ نے ہجرت کی اقسام بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک قسم کہ دارُالاسلام سے ہجرت ہو، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:رہا دارُالاسلام،اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتی، قبورِ مسلمین (مسلمانوں کی قبروں)کی بربادی، عورتوں بچوں اور ضعیفوں (کمزوروں) کی تباہی ہوگی اور ہجرتِ خاصہ میں تین صورتیں ہیں:
(1)…اگر کوئی شخص کسی خاص وجہ سے کسی خاص مقام میں اپنے دینی فرائض بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ انہیں بجا لانا ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے تو اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں چلا جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں چلا جائے۔
(2)…یہاں اپنے مذہبی فرائض بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے وہ بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارُالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،(کہ)حدیث میں ہے:’’کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کا نفقہ اس کے ذمے تھا۔‘‘یا وہ عالِم جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالِم نہ ہو اسے بھی وہاں سے ہجرت کرنا حرام ہے۔
(3)…نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت ہے، اسے اختیار ہے کہ یہاں رہے یا چلا جائے ، جو اس کی مصلحت سے ہو وہ کر سکتا ہے ، یہ تفصیل دارُالاسلام میں ہے۔(فتاوی رضویہ، 14/ 131 تا 132، ملخصاً)افضل ہجرت:حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ انس رضی اللّٰہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے کچھ وصیت فرمائیے۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’گناہوں سے ہجرت کرلو (یعنی انہیں چھوڑ دو) کہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے۔‘‘
(معجم کبیر، ۲۵/ ۱۲۹،حدیث:۳۱۳)حقیقی مہاجر کون؟ہجرت کی کئی اقسام ہیں لیکن حدیث پاک میں حقیقی مہاجر (ہجرت کرنے والا) اسے کہا گیا ہے جو گناہوں کو چھوڑ دے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عَمْرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ اللّٰہ پاک کے آخری نبی صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَانَہَی اللّٰہ عَنْہُ یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر (ہجرت کرنے والا)وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللّٰہ پاک نے منع فرمایا۔‘‘ (بخاری ، کتاب الایمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ، ۱ / ۱۵ ، حدیث : ۱۰)دعا:اللّٰہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 1