- ہوم
- کتابیں
- شرح اربعین نوویہ(اردو)
- حدیث نمبر 15
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ يُؤمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهٗ ومَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ والْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهٗ. ‘‘
(رَوَاہُ الْبُخَارِی وَمُسْلِم)
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ’’من كان يؤمن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت ومن كان يؤمن بالله واليوم الاخر فليكرم جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه. ‘‘
(رواہ البخاری ومسلم)
حدیث ترجمہ
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہےاور جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے اور جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہےاسے چاہئے کہ اپنےمہمان کا احترام کرے۔‘‘(بخاری، كتاب الادب، باب من كان يؤمن باللّٰہ ...الخ، ۴/ ۱۰۵،حدیث:۶۰۱۸ ۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علی اکرام الجار...الخ، ص۴۸، حدیث:۱۷۳)
شرح حدیث
مذکورہ حدیث شریف میں کامل مومن کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان کی کچھ مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیں۔ چنانچہپہلی صفت:اچھی بات کہے یا خاموش رہےحدیث پاک میں مذکور لفظ ’’خیر‘‘ سے اچھی بات مراد ہے، خواہ وہ اچھی بات فرض، واجب، سنت یا مستحب ہو یا کوئی بھی جائز بات ہو مگر بہت زیادہ جائز باتیں کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ بندہ کہیں ناجائز بات میں نہ پھنس جائے کیونکہ زیادہ بولنے سے اکثر ناجائز باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں۔ مشہور مقولہ ہے:”جو خاموش رہا وہ سلامت رہا جو سلامت رہا وہ نجات پا گیا۔“ پچانوے فیصد گناہ زبان سے ہوتے ہیں اور پانچ فیصد گناہ دوسرے اعضاء سے۔ مطلب یہ ہے کہ مومِن کامل وہ ہے جو بھلی بات منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ خیال رہے کہ بات ہی ایمان ہے، بات ہی کفر، بات ہی مقبول ہے، بات ہی مُردود۔(ماخوذ اَز مِراٰۃ المناجیح، 6/53)تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف:ایک طویل حدیث پاک کے آخر میں اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا ارشاد ہے: جو تم کہتے ہو وہ یا تو تمہارے حق میں ہوتا ہے یا تمہارے خلاف ہوتا ہے، لوگوں کو منہ کے بل جہنم میں گرانے والی ان کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں ہی تو ہیں۔ (ترمذی، کتاب الایمان ، باب ماجا ء فی حرمة الصلاة ، ۴/ ۲۸۰،حدیث:۲۶۲۵ ، مفھومًا)پہلے تولو پھر بولو:حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اچھی بات کہنے سے پہلے بھی غور کرلو، جب ظاہر ہو جائے کہ جو بات کرنی ہے اس میں صرف بھلائی ہے،فساد نہیں اور نہ ہی وہ بات حرام یا مکروہ کی طرف لے جانے والی ہے تو ہی کرو۔‘‘ پس اگر انسان اچھی بات نہیں کہہ سکتا تو اسے چاہئے کہ خاموش رہے مباح بات بھی نہ کرے کیونکہ بعض اوقات مباح کلام بھی حرام یا مکروہ کی طرف لے جاتا ہے اور بالفرض اگر مباح کلام حرام یا مکروہ کی طرف لے جانے والا نہ بھی ہو پھر بھی اس میں وقت کا ضیاع تو ہے کہ یہ فضول کام ہے۔(دلیل الفالحین، باب فی حق الجار والوصیة بہ، ۲/ ۱۳۹ تا ۱۴۰، تحت الحدیث: ۳۰۹، ملخصًا)
دوسری صفت:اپنے پڑوسی کی عزت کرےاللہ پاک نے قرآنِ مجید میں پڑوسیوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-(پ ۵، النسآء: ۳۶)
ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں پاب سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے۔قریب اور دور کے ہمسائے:اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے اپنی عبادت کرنے اور کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دینے کے بعد والدین ، رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اور ان کے بعد قریب اور دور دونوں طرح کے پڑوسیوں سے بھلائی اور اچھا سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ان پڑوسیوں کے بارے میں دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘ کی مطبوعہ 495 صفحات پر مشتمل کتاب ’’صراط الجنان، جلد2 ،صفحہ201‘‘ پر ’’تفسیراتِ احمدیہ‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہوا ور دور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جو محلہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو ، یا جو پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی وہ قریب کا ہمسایہ ہے اور وہ جو صرف پڑوسی ہو ، رشتہ دار نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ ، یا جو پڑوسی بھی ہو اورمسلمان بھی وہ قریب کا ہمسایہ اور وہ جو صر ف پڑوسی ہو مسلمان نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ ہے۔‘‘ (ماخوذ از تفسیرات احمدیة ، النسآء ، تحت الاٰیة: ۳۶ ، ص۲۷۵)
ایک وہ پڑوسی ہوتا ہے، جس کی دیوار ہمارے گھر کی دِیوار کے ساتھ ملتی ہے مگر اُس کا دروازہ ہمارے دروازے سے دُور ہوتا ہے،جس کا دروازہ ہمارے دروازے کے قریب ہو وہ قریب کا پڑوسی اور جس کا دروازہ دُور ہو وہ دُورکا پڑوسی ہے۔ چنانچہ مؤمنین کی ماں حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک روز میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسولَاللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! میرےدو پڑوسی ہیں، ان میں سے تحفہ کسے دیا کروں؟ ارشاد فرمایا: ’’جس کا دروازہ تم سے قریب ہے۔‘‘ ) بخاری ، کتاب الھبة...الخ، باب بمن یبدأ بالھدیة، ۲/ ۱۷۴، حدیث:۲۵۹۵)پڑوس کہاں تک ہے؟حدیْثِ پاک میں ہے کہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے حکم سے حضرت سیِّدُنا ابوبکر، حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اور حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہنے لگے: سنو! 40 گھر پڑوسی ہیں اور وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اس کے شر سے خوفزدہ ہوا۔ (معجم کبير، ۱۹/ ۷۳، حدیث:۱۴۳)پڑوسی کون ہے؟حدیث پاک میں مذکور لفظ ’’پڑوسی‘‘ عام ہے، لہٰذا پڑوسی خواہ مسلمان ہو یاکافر، عابدہو یا فاسق، دوست ہو یا دُشمن، پردیسی ہو یا ہم وطن، نقصان پہنچانے والا ہو یا نفع دینے والا، رشتہ دار ہو یا اجنبی، اس کا گھر قریب ہو یا دور سب ہی اس میں داخل ہیں۔(ارشاد الساری ، کتاب الادب ، باب الوصاءة بالجار، ۱۳ / ۴۸ ، تحت الحدیث: ۶۰۱۴)حقوق کے اعتبار سے پڑوسیوں کی اقسام:واضح رہے کہ پڑسیوں میں اگرچہ سب ہی داخل ہیں لیکن حقوق کے اعتبار سے ان میں فرق ہے جیساکہ حضرت سیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’پڑوسی تین ہیں: (1) وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے اور حق کے اعتبار سے یہ ادنیٰ پڑوسی ہے۔ (2) وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں اور (3) وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں اور حق کے اعتبار سے یہ افضل پڑوسی ہے۔ بہر حال وہ پڑوسی جس کا ایک حق ہے تو یہ وہ مشرک پڑوسی ہے جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں صرف حَقِّ پڑوس ہے۔ جس کے دو حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جو رشتہ دار نہیں ، اس کے لئے دو حق ہیں،حَقِّ اسلام اور حَقِّ پڑوس۔ وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں تو یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جس کے ساتھ رشتہ داری ہو ، اس کے لئے حَقِّ اسلام، حَقِّ پڑوس اور رشتہ داری کا حق ہے۔‘‘ (حلیة الاولیاء، عطاء بن میسرة، ۵/ ۲۳۵، حدیث: ۶۹۴۸)پڑوسی کے حقوق:حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ پڑوسی کے 11 حق ہیں: (1) جب اسے تمہاری مدد کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرو، (2) اگر معمولی قرض مانگے تو دے دو، (3) اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو، (4) بیمار ہو تو مزاج پرسی بلکہ ضرورت ہو تو تیمارداری کرو، (5) مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ، (6) اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو، (7) اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو، (8) اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دو مگر اس کی اجازت سے (بنا سکتے ہو)، (9) گھر میں پھل فروٹ آئے تو اسے ہدیۃً بھیجتے رہو، نہ بھیج سکو تو خفیہ رکھو اس پر ظاہر نہ ہونے دو، تمہارے بچے اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں، (10) اپنے گھر کے دھوئیں سے اسے تکلیف نہ دو اور (11) اپنے گھر کی چھت پر ایسے نہ چڑھو کہ اس کی بے پردگی ہو۔ قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! پڑوسی کے حقوق وہ ہی ادا کر سکتا ہے جس پر اللہ پاک رحم فرمائے۔(مكارم الاخلاق للخرائطی، باب ماجاء فی حفظ الجار وحسن مجاورتہ من الفضل، ص۵۹، حدیث:۱۰۴)
تیسری صفت:اپنے مہمان کا احترام کرےمہمانوں کی عزّت و تکریم اور خاطرتواضع اسلامی معاشرے کی اعلیٰ تہذیب اور بلندیِ اَخلاق کی روشن علامت ہے۔ اسلام نے مہمان نوازی کی بہت ترغیب دلائی ہے۔ جیسے مذکورہ حدیث شریف کہ ’’ جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہےاسے چاہئے کہ اپنےمہمان کا احترام کرے۔‘‘ اسی طرح دیگر احادیث مبارکہ میں بھی مہمان کے احترام کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ چنانچہمہمان کی عزت واحترام سے متعلق احادیْثِ مبارکہ:حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے نَماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی ، حج کیا، رَمَضان کے روز ے رکھے اور مہمان کی مہمان نوازی کی،وہ جنّت میں داخِل ہوگا۔‘‘ (معجم کبیر، ۱۲/ ۱۰۶، حدیث: ۱۲۶۹۲)
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’آدمی کی کم عقلی ہے کہ وہ اپنے مہمان سے خدمت لے۔‘‘
(جامع صغیر، ص۲۸۸، حدیث: ۴۶۸۶)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’بےشک سنت سے ہے کہ آدمی مہمان کو دروازے تک رخصت کرنے جائے۔‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الاطعمة، باب الضیافة، ۴/ ۵۲، حدیث:۳۳۵۸)مہمان کا احترام:مہمان کا احترام یہ ہے کہ اس سے خندہ پیشانی سے ملے اس کے لیے کھانے اور دوسری خدمات کا انتظام کرے حتَّی الامکان اپنے ہاتھ سے اس کی خدمت کرے،بعض حضرات خود مہمان کے آگے دسترخوان بچھاتے اس کے ہاتھ دھلاتے ہیں یہ اسی حدیث پر عمل ہے،بعض لوگ مہمان کے لیے بقدرِ طاقت اچھا کھانا پکاتے ہیں وہ بھی اس عمل پر ہے جسے کہتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع۔(مراٰۃ المناجیح ،6/52)کمال ایمان کی علامت:اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ جو مہمان کی خدمت نہ کرے وہ کافر ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ مہمان کی تعظیم اور اور اس کی خاطر داری ایمان کا تقاضا اور کمالِ ایمان کی علامت ہے۔(مراٰۃ المناجیح ،6/52 ،ملخصاً)مہمان اور ملاقاتی میں فرق:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمارا مہمان وہ ہے جو ہم سے ملاقات کے لیے باہر سے آئے خواہ اُس سے ہماری واقفیت پہلے سے ہو یا نہ ہو جو ہمارے لئے اپنے ہی محلہ یا اپنے شہر میں سے ہم سے ملنے آئے دو چار منٹ کے لئے وہ ملاقاتی ہے مہمان نہیں۔ اس کی خاطر تو کرو مگر اس کی دعوت نہیں ہے اور جوناواقف شخص اپنے کام کے لئے ہمارے پاس آئے وہ مہمان نہیں جیسے حاکم یا مفتی کے پاس مقدمہ والے یا فتویٰ والے آتے ہیں یہ حاکم کے مہمان نہیں۔(مراٰۃ المناجیح ،6/54)مہمانی کب تک ہے؟’’بہار شریعت، حصہ 16، جلد3، صفحہ 391‘‘ پر ہے: حضرت سیِّدُنا ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہے وہ مہمان کا اکرام کرے، ایک دن رات اُس کا جائزہ ہے (یعنی ایک دن اس کی پوری خاطر داری کرے، اپنے مقدور بھر اس کے لئے تکلف کا کھانا تیّار کرائے) اور ضِیافت تین دن ہے (یعنی ایک دن کے بعد تکلُّف نہ کرے بلکہ جو حاضِر ہو وہی پیش کردے) اور تین دن کے بعد صدقہ ہے، مہمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اس کے یہاں ٹھہرا رہے کہ اسے حرج میں ڈال دے۔ (بخاری، کتاب الادب، باب اکرام الضیف...الخ، ۴/ ۱۳۶، حدیث: ۶۱۳۵)اپنارزق لاتا اور گناہ بخشواتا ہے:حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’جب کوئی مہمان کسی کے یہاں آتا ہے تو اپنا رِزق لے کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو صاحِبِ خانہ کے گناہ بخشے جانے کا سبب ہوتا ہے۔‘‘
(کنز العمال، کتاب الضیافة، من قسم الاقوال، الفصل الاول فی الترغیب فی الضیافة، الجزء الاول، ۵/ ۱۰۷، حدیث:۲۵۸۳۱)مہمان اور میزبان کے کچھ آداب:* مہمان کو چاہئے کہ اپنے میزبان کی مصروفیات اور ذِمّے داریوں کا لحاظ رکھے۔ * جب آپ کسی کے پاس بطورِ مہمان جائیں تو مُناسب ہے کہ اچّھی اچھّی نیّتوں کے ساتھ حسبِ حیثیت میزبان یااُس کے بچّوں کے لئے تحفے لیتے جائیے * حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ ’’بہار شریعت، حصہ 16، جلد3، صفحہ 394‘‘ پر نقل فرماتے ہیں کہ مہمان کو چار باتیں ضَروری ہیں: (1) جہاں بٹھایا جائے وہیں بیٹھے، (2) جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس پر خوش ہو، یہ نہ ہو کہ کہنے لگے:اس سے اچھا تو میں اپنے ہی گھر کھایا کرتا ہوں یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ، (3) بِغیر اجازتِ صاحِبِ خانہ (یعنی میزبان سے اجازت لئے بِغیر) وہاں سے نہ اُٹھے اور (4) جب وہاں سے جائے تو اس کے لیے دُعا کرے۔(فتاوی ھندیة، کتاب الکراھیة، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات، ۵/ ۳۴۴، ۳۴۵) * میزبان کو بالکل خاموش نہ رہنا چاہیے اور یہ بھی نہ کرنا چاہیے کہ کھانا رکھ کر غائب ہوجائے بلکہ وہاں حاضر رہے۔(فتاوی ھندیة، کتاب الکراھیة، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات، ۵/ ۳۴۵) * مہمانوں کے سامنے خادم وغیرہ پر ناراض نہ ہو(ایضاً) * میزبان کو چاہیے کہ مہمان کی خاطرداری میں خود مشغول ہو، خادموں کے ذ مّے اس کو نہ چھوڑے کہ یہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ علیہِ السّلام کی سنّت ہے۔ (ایضاً) مہمان کے ساتھ کھائے بھی کہ جو شخص اپنے بھائیوں ( مہمانوں) کے ساتھ کھاتا ہے اُس سے حساب نہ ہو گا۔ ( قوت القلوب، ۲/ ۳۰۶)دعا:اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ماخذ و مراجع
کتاب: شرح اربعین نوویہ(اردو) جلد: 1 , حدیث نمبر: 15